اقوام متحدہ قرارداد جنت البقیع کمیٹی کی عظیم کامیابی ہے،تکفیریوں سے بیزاری، ناروا پابندیوں کے خاتمہ اور یمن سے فوجوں کی واپسی کا بھی اعلان کیاجائے، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

اقوام متحدہ میں مذہبی مقامات کے تحفظ کی قرارداد جنت البقیع کمیٹی کی کامیابی اور مزارات کی بحالی میں سنگ میل ہے، آغا حامد موسوی
سعودی حکومت واقعا مخلص ہے تو خاتون جنت ؑ، اجداد رسولؐ امہات المومنین ؓ صحابہ کرام ؓ اہلبیت اطہارؓ کے مزارات کی تعمیر نو کا اعلا ن کرے
روضہ رسول ؐ کی جالیاں اور نبیؐ کی بیٹیؑ کے مزارکی چوکھٹ چومناہر مسلمان کی حسرت ہے، عدم برداشت کے کلچر کے خاتمے کا عملی ثبوت دیا جائے
محمد بن سلمان تسلیم کرچکے کہ استعمار ی ڈکٹیشن پر انتہا پسندی پرسرمایہ کاری کی گئی، نفرت انگیز اقدامات واپس لے کرہی امن کا اجالا عام ہو سکتاہے
برطانوی سامراج کی شہ پر جنت البقیع کو نہ گرایا جاتاتو کبھی کسی کو بیت المقدس کو آگ لگانے، بابری مسجد گرانے اور مسلم مزارات پر دھماکے کرنے کی جرات نہ ہوتی
انتہا پسندی کی ڈوریں استعماری قوتوں کے ہاتھ میں تھیں لیکن بدنامی اسلام کی ہوتی رہی، مسلم ممالک خون میں نہا گئے اور فوائد صیہونیت اٹھاتی رہی
تکفیریوں سے بیزاری، مشرقی سعودی عرب میں ناروا پابندیوں کے خاتمہ اور یمن سے فوجوں کی واپسی کا بھی اعلان کیاجائے، یوم مادر عباس علمدارؑ پر مجلس سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈکے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے75ویں سیشن اور پچاسویں اجلاس میں مقدس مذہبی مقامات کے تحفظ اور برداشت کے کلچر کے فروغ کی سعودی قرارداد کی منظوری کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی عالمگیر جنت البقیع کمیٹی کی اہم کامیابی اور مزارات مقدسہ کی بحالی کی پرامن جدوجہد میں نمایاں سنگ میل قراردیا ہے، سعودی حکومت واقعا مخلص ہے تو اگلے قدم کے طور پرخاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ،اجداد رسول ؐ ا مہات المومنین ؓ صحابہ کرام ؓ اہلبیت اطہارؓ کے مزارات کی تعمیر نو کا اعلا ن کرے، روضہ رسول ؐ کی جالیوں اور نبی کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے مزارکی چوکھٹ چومناہر مسلمان کی حسرت ہے عدم برداشت کے کلچر کے خاتمہ کی عملی دلیل کے طور پرزائرین پر پابندیاں ختم کی جائیں،ایک صدی قبل اگر برطانوی سامراج کی شہ پر جنت البقیع کو نہ گرایا جاتاتو کبھی کسی کو بیت المقدس کو آگ لگانے، بابری مسجد گرانے اور مسلم مزارات پر دھماکے کرنے کی جرات نہ ہوتی، جنت البقیع کے مسمار مزارات کی تعمیر ہر عاشق رسول ؐ کے دل کی پکار ہے، شہزادہ محمد بن سلمان تسلیم کرچکے ہیں کہ استعمار ی ڈکٹیشن پر انتہا پسندی کے فروغ کیلئے سعودی سرمایہ خرچ کیا گیا انتہا پسندانہ و نفرت انگیز اقدامات واپس لے کرہی امن کا اجالا عام ہو سکتاہے، انتہا پسندی نے سب سے زیادہ نقصان اسلام اور مسلمانوں کو پہنچایا سعودی حکمران تکفیریوں سے بیزاری، مشرقی سعودی عرب میں ناروا پابندیوں کا خاتمہ اور یمن سے فوجوں کی واپسی کا بھی اعلان کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرچشمہ عشق رسالت ؐو مودت اہلبیت ؑحضرت ام البنین ؑ کی شہادت کی مناسبت سے ایام مادر عباس علمدارؑ کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ روضہ رسول ؐ کے عین سامنے دوش نبی ؐ کے سوار امام حسن مجنتیؑ، آئمہ اطہار، صحابہ کبار ؓ اور مومنین کی ماؤں کے اجڑے مزارات مسلمانوں کی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے گذشتہ 37سال میں جنت البقیع اور جنت المعلی میں اسلام کے محسنوں کے مزارات اور اسلام کے مقدس مقامات کی حالت زار کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ سمیت دنیا میں امن و انسانی حقوق کے تحفظ کے ہرادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا، ہر بر اعظم اور ملک میں پرامن احتجاج کیا، مسلم حکمرانوں کو خطوط لکھے اوآئی سی کو متوجہ کیا پیرس اور نیویارک میں اقوام متحدہ و یونیسکو دفاتر میں جنت البقیع کی مظلومی کا کیس پیش کیا اہل صحافت کو جگایا شیعہ سنی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیاجس کے نتیجے میں انسانیت کے عظیم ورثے کی بحالی کیلئے عالمی ضمیر جاگنا شروع ہوا ہے، پاکستان کی تمام اسمبلیوں نے بھی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؑ و صحابہ و اہلبیت ؑ کے مزارات کی بحالی کی قراردادیں منظور کردی ہیں جو بے حسی کی برف پگھلنے کی نشانیاں ہیں۔

آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دکھ تو یہ ہے کہ جس ابن تیمیہ کے عقائد کو بنیاد بنا کر آل سعود نے پہلی جنگ عظیم کے بعد سرزمین حجاز کے مقدس مقامات کو زمیں بوس کیااس ابن تیمیہ کی پختہ و چبوترے والی قبر آج بھی شام میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کی لہر کے دوران انسانیت کے عظیم ورثے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا انتہا پسندی کی ڈوریں سامراجی اور استعماری قوتوں کے ہاتھ میں تھیں لیکن بدنامی سب سے زیادہ دین اسلام کی ہوتی رہی مسلم مما لک خون میں نہاگئے اور اس کے فوائد صیہونیت اٹھاتی رہی، خدارا مسلم حکمران ماضی سے سبق سیکھیں، عالم اسلام کے زخموں کا مداوا کریں اور شیطانی قوتوں کے خلاف باہم متحد ہو جائیں ان کے اقتدار بچے نہ بچے تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہعشق مصطفی ؐ انسانوں کو جو عروج و کمال عطا کرتا ہے اس کی روشن مثال حضرت ام البنین ہیں جن کا نام تاریخ نسواں میں آفتاب و مہتاب کی طرح جگمگا رہا ہے، عرب کے بہاد ر اور باعظمت خاندان بنی کلاب سے تعلق رکھنے والی حضرت ام البنین اپنے عظیم اجداد کی نسبت کے بجائے خانوادہ رسالت کی کنیزکہلوانے کو شرف و فضیلت سمجھا اپنی کل متا ع اور ساری اولادخانوادہ رسالت ؐ کی محبت میں قربان کرڈالی،عشق رسالت و اہلبیت میں ڈوبے ہوئے قصائد اور مرثیوں کا ایسا ادبی خزانہ چھوڑ گئیں جو تا ابد عاشقان رسالت ؐ کی آنکھوں کو خیرہ کرتا رہے گا، ایسی سیرت رقم کر کے گئیں جو اللہ کے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والوں کیلئے مشعل راہ رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.