نادیدہ قوتیں محب وطنوں کو ریاست کے خلاف بھڑکا رہی ہیں، امام باقرؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے سرمایہ داری نظام سے نجات حاصل کی جائے، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

’نادیدہ قوتیں‘ محب وطن افراد اور جماعتوں کو اذیت سے دوچار کرکے ریاست کے خلاف بھڑکانا چاہتی ہیں، آغا حامد موسوی
وزیر اعظم آرمی چیف سمیت تمام بااختیار ادارے سی پیک، بلوچستان اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازش کا نوٹس لیں
انسداد دہشت گردی ایکٹ کو مذاق نہ بنایا جائے، بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو ا جائے،بیرونی دشمنوں کے ساتھ اندر کی صفائی بھی اشد ضروری ہے
بیرونی پراکسی آزادجبکہ محب وطن افراد کے نام شیڈول فور میں شامل ہوناسوالیہ نشان ہے؟وزیر ستان کے شہداء کا لہو ایکشن پلان پر عملدرآمدکا سوالی ہے
رومی کرنسی کا خاتمہ کروانا امام باقر ؑ کا عظیم کارنا مہ ہے عہد حاضر میں بھی سرمایہ داری نظام سے نجات پاکر ہی مسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکتے ہیں
حکومت پالیسیوں اور اقدامات میں انصاف کو ملحوظ خاطر رکھے حکومتیں آنی جانی‘ بلند کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے، عشرہ اجر رسالت کے آغاز پر خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ بعض نادیدہ قوتیں محب وطن افراد اور جماعتوں کو اذیت سے دوچار کرکے ریاست کے خلاف بھڑکانا چاہتی ہیں، وزیر اعظم آرمی چیف سمیت تمام بااختیار ادارے سی پیک بلوچستان اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازش کا نوٹس لیں، شیڈول فور اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کو مذاق نہ بنایا جائے، بلیک میلنگ کا شکار ہو کر قومی مفادات پر سودا بازی نہ کی جائے،بیرونی دشمنوں کے ساتھ اندر کی صفائی بھی اشد ضروری ہے، بیرونی ممالک کے پراکسی، نفرتوں کے سوداگر اور گالم گلوچ کے ماہر آزادجبکہ محب وطن افراد کے نام شیڈول فور میں شامل کرنا سوالیہ نشان ہے؟،وزیر ستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے جوانوں کا لہونیشنل ایکشن لان پر حقیقی عملدرآمد کیلئے سوالی ہے شہداء کے خون کو رائیگاں ہونے سے بچانے کیلئے اسیران کربلا کی سیرت اپنانی ہوگی،اسلامی ریاستوں میں رومی کرنسی کا خاتمہ کروانا امام باقر ؑ کا عظیم کارنا مہ ہے عہد حاضر میں بھی سرمایہ داری نظام سے نجات پاکر ہی مسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشرہ اجر رسالت ؐ کے آغاز پر ’یوم باقر العلوم ؑ‘کی محفل میلاد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو فرزند رسول امام محمد باقر العلوم کا یہ فرمان یاد رکھنا ہو گا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ افسوس اس کو ہوگا جو لوگوں کو عدالت کا رستہ دکھائے مگر خود دوسرے راستے پر چلے، لہذا حکومت کو اپنی تمام پالیسیوں اور اقدامات میں عدالت اور انصاف کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا، حکومتیں آنی جانی ہیں لیکن بلند اصولوں پر قائم رہنے والا کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کربلا والوں کے پیروکار ہیں صعوبتوں سے گھبراکر راہ صداقت اور کلمہ حق کبھی نہیں چھوڑ سکتے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ نبھاتے رہیں گے، امام باقر علیہ السلام کا یہ فرمان ہمیشہ ہمارا مشعل راہ ہے کہ جو خدا کیلئے دوستی اور دشمنی رکھے اور خدا کیلئے عطا کرے وہی کامل الایمان ہے، ہماری دوستی اور دشمنی کا دین خدا و رسول اور مملکت خداد اد ہیں دین کی تعلیمات اور وطن عزیزکی سلامتی کے دشمنوں سے کبھی مفاہمت نہیں کریں گے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے 4سال کی عمر میں کربلا کا سانحہ دیکھااور خانوادہ رسالت ؑ کے ساتھ اسیری کی صعوبتیں برداشت کیں،آپ نے کوفہ و شام کے بازاروں اور دربارو ں میں نواسی رسول ؐعقیلہ بنی ہاشم سیدہ زینب بنت علی اور اپنے والد گرامی امام زین العابدین کے تاریخی،ولولہ انگیز اور انقلاب آفرین خطبات سماعت فرمائے۔آپ کی حیات انہی عظیم افکارکے مطابق گزری یہ وجہ ہے کہ جب بار امامت آپ کے کندھوں پر آیا اورحکمرانوں نے اسلام میں من پسند تحریفات کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن امام محمد، باقر علیہ السلام اپنے آباء کی طرح ان مکروہ عزائم کے راستے میں حائل ہو گئے، زہر کا جام پیا لیکن حق وصداقت کا علم سرنگوں نہ ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ امام باقر علیہ السلام کی تمام زندگانی ظلم و جبر سے مقابلے اور علوم الہیہ کی ترویج میں گزری اسی لئے ’باقر العلوم‘ یعنی علوم کو شگافتہ کرنیو الے کہلائے سیرۃ النعمان میں مذکور ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ ؒکا کے علوم کا بڑا ذخیرہ امام محمد باقر کا فیض صحبت تھا،امام ابو حنیفہ ؒ امام باقرؑ کے بعد ان کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی میں بھی رہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ علم سے دوری کے سبب آج امت مسلمہ سائنس و ٹیکنالوجی میں اہل مغرب کی محتاج ہے استعماری قوتیں علمی و سائنسی ترقی کی بناء پر ہی تمام کمزور اقوام اور بالخصوص عالم اسلام کا سرمایہ نچوڑ رہی ہیں اگر عالم اسلام سرخروئی چاہتا ہے تو اسے امام باقر العلوم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ علم کی ترویج پر صرف کرنا ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.