میڈیا کی نظر سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل پیدل زیارت اربعینؑ جو سونامی کی شکل اختیار کرلیتی ہے

ولایت نیوز شیئر کریں

حسینی ؑخانہ بدوش ڈیڑھ ہزار كلو میٹر سے زیادہ فاصلہ پیدل طے کر کے کربلا پہنچتے ہیں

مثنی ٰعراق(  ولایت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک)  امام حسین ؑ کی بے گورو کفن لاش سے  چپ چاپ  اسیر ہو کر گزر جانے  والی سیدہ زینب بنت علی ؑ نے اپنے بیمار بھتیجے سید سجاد ؑ کے ہمراہ یزیدیت کو کوفہ و شام کے ہر بازار و دربار میں  عبرتناک شکست سے دوچار کیا ۔ خیبر شکن کی شیردل بیٹی  اور معمار ارض کربلا  کی با وفا و با کمال بہن نے عزاداری کی بنیاد رکھ کر پیغا م و فلسفہء شہادتِ امام حْسین کو قیا مت تک زندہ اور پا ئندہ کردیا۔بانی عزاداری کا   شام فتح کرکے  کربلا آنا  شعائر حسینی ؑ بن گیا۔ مورخین سید ہ زینب ؑ  کے کمال عزم پر  ششدر و حیران  ہیں کہ  جس  اسیربہن کے  بے گناہ مقتول بھائی اور بچوں کو 10محرم کو دفنانے والا کوئی نہ تھا یوم اربعین  کو عرشی و فرشی حج سے بڑھ کر اس حسین ؑ کی بے مثل شہادت کو خراج پیش کرنے کربلا آرہے ہیں

پہن کے خاک شفا کا احرام ، سربرہنہ طواف کرکے

حسین ؑ تیری لحد کو کعبہ بنا گئی ہے علی ؑ کی بیٹی

سیدہ زینب ؑ کے بھائی کا چہلم منانے کی یاد میں آج کرہ ارض کے ہر گوشے سے لاتعداد انسان  اربعین حسینی منانے کربلا پہنچ رہے ہیں ۔ عالمی میڈیا کی بے اعتنائی کے باوجود پوری دنیا کا سوشل میڈیا نجف سے کربلا تک کی 85 کلومیٹر طویل  مشی کو ہر فرد تک پہنچا رہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ایک  1500 ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زائد پیدل اربعین  مارچ ایسی بھی ہے جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہے ۔

جس انداز میں نبی ؐکی نواسی  صحراؤں سے گزر کر کربلا پہنچیں اسی انداز میں  عراق کے صحراؤں میں رہنے والے حسینیؑ خانہ بدوش (بدو) عراق، کویت اور سعودی عرب  کی سرحد  کے ساتھ ساتھ سے گزرتے ہوئے  ڈیڑھ ہزار (1500) كلو میٹر سے زیادہ فاصلہ پیدل طے کر کے کربلا پہنچتے ہیں انتہائی اندرونِ صحراء میں آباد یہ عاشقانِ حسین ابن علی ؑ صوبہ بصرہ کی حدود میں واقع علاقے غرانج البدويّة سے ہوتے ہوئے صوبہ مثنیٰ کی حدود میں واقع تخاديد، عادن، بصية، السلمان اور المملحة سے گزرتے ہیں اور پھر مخصوص راستوں سے ہو کر نجف کی حدود میں واقع صحرائی اور دیہاتی علاقوں ہوتے ہوئے عرعر، نخيب، اور بحيرة الرزازة کے کنارے سے گزر کر کربلا پہنچتے ہیں۔

حسینیت ؑ اور حسین ؑ کی زواری  سے جس قدر عقیدت اور محبت عراق کے  ان صحرائیوں اور قبائلیوں میں نظر آتی ہے اس  کی مثال پیش کرنا نا ممکن  ہے ۔ محدود وسائل کے باوجود زائرین کی بے مثال خدمت محبت حسین ؑ سے مالا مال ان غریبوں کا خاصہ  ہے ۔ اپنی کل جمع پونجی امام حسین ؑ کے زائروں کی خدمت پر خرچ کرنے والے ان بے مثل محبان آل محمد ص کے مقام کا اندازہ کوئی حساب دان نہیں لگا سکتا۔

جنوبی صوبوں سے گزرنے کے بعد یہ طویل ترین مارچ سونامی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور انسانوں کے سمندر کی صورت اربعین تک کربلا پہنچ جاتا ہے ۔

میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ
میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ
میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ
میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ
میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ
میڈیا سے اوجھل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل صحرائی زیارتِ اربعین حسینیؑ

تصاویر : بشکریہ کفیل نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.