ہرظلم کے باوجود کربلاعاشقان رسول ؐ کے دل میں آباد رہی، کربلا والوں کا خون ناحق عزاداری کے احتجاج کی صورت ہر کوچہ و بازار میں نکل آیا ہے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا پیغام اربعین

ولایت نیوز شیئر کریں

نواسہ رسول سیدالشہداء حضرت امام حسین ؑ کا پیغام ظالموں کیلئے درس فنا بن کر پوری کائنات میں گونج رہا ہے ،آغا حامد موسوی

حرمین سے کربلاتک عالم اسلام کی وحدت کی پکارہے مسلم حکمران ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت بند‘ تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کریں
زیارت اربعین سنت ہے کربلا میں کروڑوں انسانوں کا اجتماع عشق رسالت ؐو جذبہ شہادت کے ساتھ لازوال وابستگی کی دلیل ہے

جس خون ناحق کو ظالمین نے مقتل میں چھپانا چاہا تھا وہ سیدہ زینبؑ و امام سجاد ؑ کے قائم کردہ عزاداری کے احتجاج کی صورت ہر کوچہ و بازار میں نکل آیا ہے

جب تک نواسہ رسول ؐ کا درس حریت باقی ہے کوئی ظلم جبر کا ہتھکنڈا مظلوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتا، چہلم شہدائے کربلا اربعین حسینی پر پیغام

اسلام آباد ( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول ؐ سیدالشہداء حضرت امام حسین ؑ کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں ظالموں کیلئے درس فنا بن کر گونج رہا ہے ،حرمین شریفین سے کربلاتک عالم اسلام کی وحدت کی پکار ہے مسلم حکمران کشمیر و فلسطین کی آزادی چاہتے ہیں تو متحد ہو جائیں ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت بند کریں تعمیری تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں،زیارت اربعین سنت ہے، نواسہ رسول ؐ کے مزار پرکربلا میں کروڑوں انسانوں کا اجتماع عشق رسالت ؐ و جذبہ شہادت و قربانی کے ساتھ لازوال وابستگی کی دلیل ہے جس حسین ؑ نے خانہ کعبہ کی حرمت کی خاطر اپنا سر کٹایا تھا اپنے کنبہ کی لازوال قربانی پیش کی تھی رسول زادیوں کی چادریں قربان کی تھیں آج اللہ نے اس حسین ؑ کو یہ اعجاز بخشا ہے کہ آزادی و حریت کے اس عظیم پیشوا اور دین مصطفوی ؐ کے اس عظیم محافظ کو خراج پیش کرنے کیلئے دنیا جو ق در جوق چلی آرہی ہے ، جس خون ناحق کو ظالمین نے مقتل میں چھپانا چاہا تھا وہ نواسی رسول ؐ حضرت زینب بنت علی اور امام زین العابدین ؑ کے قائم کردہ عزاداری کے احتجاج کی صورت ہر کوچہ و بازار میں نکل آیا ہے،بحرین یمن شام قطیف العوامیہ نائجیریا اورکربلائے غزہ ہو یا آ ٹھ لاکھ بھارتی کے محاصرے میں دنیا کا سب سے بڑا قیدخانہ کشمیر ، ہر مظلوم لبیک یا حسین ؑ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ظالموں کو یہ بتا رہا ہے کہ جب تک نواسہ رسول ؐ کا درس حریت باقی ہے کوئی ظلم جبر کا ہتھکنڈا مظلوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اربعین حسینیؑ چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو منگل 20صفر کو دنیا بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اربعین حسینی ؑ (چہلم شہدائے کربلا 20صفر)کے موقع پر نواسی رسول ؐ سیدہ زینب بنت علی ؑ اور حضرت امام زین العابدین ؑ کی سرکردگی میں اسیران کربلا کا قافلہ شام سے رہائی کے بعد شہداء کی زیارت کیلئے 20صفر کو کربلا پہنچا تو وہاں جلیل القدر صحابی رسول ؐ حضرت جابر ابن عبد اللہ انصاریؓ نے پیغام حسینیت کو لازوال بنادینے والی ہستیوں کا استقبال کیا ۔اس موقع پر رقت انگیز مناظر نظر آئے ، جن اسیران کربلا کو اولادمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لاشوں کو بے گورو کفن چھوڑ کر سر بر ہنہ قیدی بنا کر لیجانے پر مجبور کردیا گیا جنہیں کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک بدترین مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا جن اسیروں کے قافلے کے لا تعداد بچے کربلا سے شام تک شہادت کا درجہ پاکر خاک شفا بنتے رہے اور راہ حسینیت کے سنگ میل کی شکل اختیار کرتے رہے ، جن اسیروں کو خرابہ شام کے تنگ و تاریک زندان میں اسیری کاٹنی پڑی اور امام حسین ؑ کی پیاری دختر سکینہ بنت الحسین ؑ کی زندان میں شہادت کا زخم بھی سہنا پڑا سیران جب واپس کربلا آئے تومصائب کی داستان کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد کو دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے ظلم و ستم کو شکست دے کر حسینی فتح منوانے کا افتخارواعزاز بھی حاصل ہو چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یزید رسول کریم ؐ کی بہو بیٹیوں کو اپنی فتح کا جشن منانے قیدی بنا کر لے گیا تھا لیکن ان اسیروں نے بازاروں اور درباروں میں اپنے ایمان افروز خطبات سے دنیا کو مقصد شہادت حسین ؑ سے آگاہ کردیا اور ظالم حکمرانوں کی منافقت کے نقاب کو تار تار کردیا۔ اسیروں کو پہنائی گئیں یزیدی فوج کی زنجیریں انقلاب کی صدا بن گئیں ہر شہید کا نیزے پر بلند سر آفتاب و ماہتاب بن کر عوام الناس کے قلوب واذہان میں روشنیاں بکھیرنے لگا ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ چودہ سو سال کی تاریخ اسلام گوہ ہے کہ جابر حکمرانوں اور انسانیت دشمن دہشت گردوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ لوگوں کو روضہ امام حسین ؑ کی زواری سے روک لیں ، اور متوکل اور ہاروں جیسے بادشاہوں نے روضہ امام حسین تک کو گرا دیا لیکن کربلا زمیں بوس کرنے کے باوجودشہدائے کربلا کے فلک بوس پیغام کی بدولت ہر کلمہ تو حید کے پرستار عاشقان رسول ؐ کے دل میں آباد رہی ۔ سرزمین پاکستان بھی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ بذریعہ سڑک کربلا جانے والے زائرین پر درجنوں خود کش حملے کئے گئے ، بسوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا لیکن زائرین کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ زیارت اربعین کے دوران زائرین امام حسین ؑ کے ساتھ عراقی عوام کا التفات بھی دیدنی ہوتا ہے ، عراقی امراء و رؤسا سے لیکر غریب افراد تک ان زائرین کے پاؤں تلے پلکیں بچھاتے نظر آتے ہیں دوران مشی زائرین حسین ؑ کے استقبال ، خدمت اور پذیرائی کے مناظر دیکھ کر آنکھیں اشکوں سے وضو کرنے لگتی ہیں ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دنیا بھر سے آئے زائرین اسیران کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف اسلام بلکہ انسانیت پر احسان عظیم کیا اور بے سروسامانی کے باوجود کلمہ حق کے ذریعے جابر ترین حکمران کے جاہ وجلا ل کو خاک میں ملا دیا، مظلوموں کو حوصلہ عطا کیا، صداقت پر ڈٹ جانے کا عملی درس دیا، ، طاقتوروں کو پرامن جدوجہد کے ذریعے جھکانے کا راستہ دکھا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.