مجلس و ماتم کی فلک شگاف گونج میں عالمی تحریک البقیع کے موسس، ملت جعفریہ کے حقوق کے پاسباں ، عقیدہ و عمل کے کوہ گراں آغا سید حامد علی شاہ موسوی سپرد خاک

ولایت نیوز شیئر کریں

قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی جامعہ المرتضیٰ میں اشکبار آنکھوں کیساتھ سپردخاک
آغا حامد موسوی تمام مکاتب میں یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے،وہ دہشت گردی کے خلاف مضبوط آواز تھے
فرزندان آغا محمدمرتضیٰ موسوی ایڈووکیٹ،آغاعلی روح العبا س موسوی ایڈووکیٹ کا والد کے پاکیزہ مشن جاری رکھنے کا اعلان
قیادت کے اصولوں ولایت علی ؑ،عزائے حسین ؑ،حرمت سادات،احترام مرجعیت اور مرکزیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے۔علامہ قمرزیدی
جنازے میں تحریک کے عہدیداران،علمائے کرام،ذاکرین،ماتمی سالاروں،بانیان مجالس،لائسنسداران اور مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی شرکت

اسلام آباد( )سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماء بورڈ قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کو سوموار کو مرکزی امامبارگاہ جی نائن فور میں ماتم و نوحہ کی گونج، آہوں،سسکیوں اور اشکبار آنکھوں کیساتھ سپردخاک کردیا گیا۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔واضح رہے کہ آقای موسوی گزشتہ شب مختصر علالت کے بعدہیڈکوارٹر مرکزتشیع علی مسجد میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔نماز جنازہ مفتی باسم عباس زاھری نے پڑھائی۔اس موقع پر آقای موسوی کے فرزند آغا سید محمد مرتضیٰ موسوی ایڈووکیٹ اور آغا سید علی روح ا لعباس موسوی ایڈووکیٹ نے اپنے والد کے مشن پر ثابت قدم رہنے اور انکے پیغام اتحاد و اخوت کو عام کرنے کیلئے پوری قوت صرف کرنے کے عہد کا اظہار کیا اور نماز جنازہ کے ہزاروں شرکا ء اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں اور ماتمی عزاداروں کا شکریہ اداکیا۔ٹی این ایف جے کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ سید قمرحیدرزیدی نے اپنے تعزیتی خطاب میں قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کو سپاس تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ولایت علی ؑ،عزائے حسین ؑ،حرمت سادات،احترام مرجعیت اور مرکزیت کے اصولوں پر قائد محترم نے کوئی آنچ نہیں آنے دی اور ٹی این ایف جے کا ہر کارکن اور قوم کا ہر فرد ان کے ان اصولوں کو حب الوطنی کی بنیاد پر اپنے ایمان کی اساس قراردیکر امانت و دیانت کیساتھ عملی جدوجہد جاری رکھے گا۔
جنازے میں شریک کارکنوں نے باطل کے ایوانوں میں،زلزلہ ہے موسوی،یا ثاراۃ الحسین لبیک یا حسین ؑ کے نعرے بلند کیے۔ہر آنکھ اشکبار اور سوگوار تھی۔
حوزات علمیہ کے نمائندگان، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام،دینی و سیاسی عمائدین کے علاوہ ملک بھر سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان اور ذیلی شعبہ جات کے عہدیداران،بانیان مجالس،لائسنسداران،ماتمی دستوں کے سالاروں،نوحہ خوانوں اور عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ابراہیم اسکاؤٹس(اوپن گروپ) کے چاق و چوبند دستے نے قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کی میت پر گارڈ آف آنر پیش کیا اورپھولوں کی چادر چڑھائی۔

واضح رہے کہ آغا حامد موسوی کو 1984 میں دینہ کے مقام پر لاکھوں شیعیان حیدر کرار نے قائد ملت جعفریہ منتخب کیا تھا۔ آغا حامد موسوی تمام مکاتب میں یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے،وہ دہشت گردی کے خلاف مضبوط آواز تھے،د ہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف سپریم کورٹ میں تاریخی امن فارمولا پیش کیا جس کی روشنی میں نیشنل ایکشن پلان تیار ہوا،آغا حامد موسوی سنی شیعہ وحدت کی علمبردار تھے جنہوں نے پاکستان میں سنی شیعہ اتحاد کے خلاف ہر سازش کو اپنے پیغام اخوت سے ناکام بنایا۔آغا حامد موسوی نے مذہبی جماعتوں کی غیر ملکی امداد کی ہمیشہ مخالفت کی،ملت جعفریہ کے سربراہ مذہب اور مسلک کے نام پر سیاست کو ملک کے لئے زہر قاتل قرار دیتے تھے۔آغا حامد موسوی نے 38 سال تک ملت جعفریہ کی قیادت کی اور ضیاء الحق کے خلاف آٹھ ماہ تک حسینی محاذ ایجی ٹیشن کے ذریعے مارشل لا حکومت کی جانب سے عزاداری اور میلا کے جلوسوں پر لگائی جانے والی پابندی کو ناکام بنایا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے جنت البقیع کے مزارات کی بحالی کیلئے عالمی تحریک کا آغاز کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.