موجود نظام ریاست مدینہ نہیں ریاست بنی امیہ ہے! ہم اصل مدینے والے ہیں موت اور جیلیں قبول ہیں عقائد پر سمجھوتہ نہیں ، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا ماتمی احتجاج کے آغازپرخطاب
اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ حکومت آئین کو پاؤں تلے روند رہی ہے وزیر اعظم نااہل مشیر وں سے جان چھڑائیں،موجود نظام ریاست مدینہ نہیں ریاست بنی امیہ ہے ضیاء الحق کی طرح دو قومی نظریے کو بدترین نقصان پہچا رہی ہے۔ حکومت جان لے اگر حکومت بنی امیہ ہے تو اصل مدینے والے ہم ہیں ہمیں موت قبول ہے جیلیں قبول ہیں عقائد اور حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نصاب میں نبی کریم ؐ کی والدہ کی توہین کی گئی شیعہ سنی عقائد کو پامال کیا گیا، پیکا آرڈیننس انسانی حقوق کی پامالی ہے ہمارا احتجاج فرد مسلک کے خلاف نہیں یزیدی فکر کے خلاف ہے، نساب تیار کرنے والے اکثر پرائمیری اور مڈل بھی پاس نہیں شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں ناصبی و خارجی ملک کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں،
ایک قوم ایک نصاب صحیفہ یا حدیث نہیں اصل نظریہ ایک دین ایک کتاب ایک رسول ؐ ہے، وضو کی ایک آیت پر مسالک کا تفاق نہیں ہوسکا مشترکہ ترجمہ ایک فقہ کو دوسری پر مسلط کرنا ہے،وزیر کی توہین پر ریاست ایکشن لیتی ہے انبیاء اور قائد اعظم کو گالی پر قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا،حکومتیں سودابازوں بات کرتی ہے، قوم پاک فوج کے پیچھے کھڑی ہے تعصبات اداروں میں سرایت کرگئے تو ملک میں کچھ نہیں بچے گا،مظلوم کر بلا کے ماننے والے ہیں،ہم مظلومیت میں رہ کر ظالمین کو شکست دیں گے، صدر مملکت نے ہمارے تحفظات کو تسلیم کیا اور تمام وزارتوں اور صوبوں کو ہدایات جاری کی ہیں حکومت نے مطالبے نہ تسلیم کئے تو دوسرا قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ حقوق کی پامالی اور وطن عزیز کی نظریاتی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے خلاف دی گئی ملک گیر احتجاج کے آغاز پر ماتمی جلوس کے دوران میڈیا اور عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آغاسید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ بنیاد اسلام بل لا کر اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کی گئی، صحیح بخاری سمیت تمام شیعہ سنی کتب کے نزدیک درود ابراہیمی سنت ہے، نصاب میں درود میں تحریف کی گئی،رسول ؐ نے صحابہ ؓ سے یہ کہا کہ تم میں قرآن و اہلبیت ؑ چھوڑ کر جارہا ہوں،نصاب میں رسول ؐ کی والدہ اور والد کی توہین کی گئی،نصاب میں مواخات سے ذکر نبی ؐ و علی ؑ کو نکال دیا گیا ہے،بدر و احد خیبر و خندق کے ہیرو حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا ذکر نصاب سے نکال دیا گیا،غزوہِ خندق میں علی ابن ابی طالب ع کو نبی ص نے کل ایمان قرار دیا،علی ؑ کی شجاعت طلباء سے چھپانا بڑی زیادتی ہے،محرم کو سبوتاژ کرنے کیلئے نصاب میں تاریخی واقعات میں تحریف کی گئی،ایک وضو کی آیت کا یکساں ترجمہ نہیں ہو سکاقرآن کا یکساں ترجمہ ایک فرقے کو مسلط کرنا ہے،یکساں نصاب آئین کے آرٹیکل 227، 22, 23،25، 33، 36کی نفی کی گئی، فیملی لاز میں پرسنل لاز کو پامال کیا گیا،ہمیں مرنا قبول ہے سودا بازی قبول نہیں،نصاب بنانے والے بعض پرائمری بھی پاس نہیں،حکومتوں کو سوداباز درکار ہوتے ہیں،آئمہ اہلبیت ع کے ذکر پر غیر اعلانیہ پابندی ہے،ناصبی اور خارجیوں کو شیعہ سنی اتحاد گوارانہیں،امام حسین ع کے ذکر پر گھروں میں بھی پابندی عائد کی گئی،حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے نوحوں پر پابندی لگادی گئی،ایک عقیدہ دوسرے پر مسلط کیوں کیا جارہا ہے،اگر حکومت بنی امیہ ہے تو اصل مدینے والے ہم ہیں،پیکا انسانی حقوق کی پامالی ہے،بادشاہ انور شاہ غگ کی زیارت پر پابندی کیوں ہے دینہ میں آغا لعل بادشاہ کی زیارت کی توہین کی گئی علم مبارک قرٓن کو نقصان پہنچایا گیا حکومت ایف آئی درج کرنے پر راضی نہیں،82 جماعتیں کالعدم ہیں انہی سے نصاب بنوایا گیا۔
آغا حامد موسوی نے کہا کہ ذاکرین اور ان کی ماؤں بہنوں کو گالی دی جارہی ہے اسلام میں غنا حرام ہے سر کے ساتھ اللہ اوررسول اور پاکیزہ ہستیوں کا ذکر قدیم روایت ہے مراجع کے سامنے سر کے ساتھ کلام الہی اور محمد وآل محمد ؐ کے قصائد پڑھے جاتے ہیں
کل تک جن کے پاؤں میں جوتی نہ تھی آج کیسے ارب پتی ہیں،اہلبیت ؑ کو برا کہنے والے اہلسنت نہیں ناصبی وخارجی ہیں،ہماری کال اپنی شہرت کیلئے نہیں اسلام و پاکستان کیلئے ہے،اہل سنت اور شیعہ عزاداریوں میں ساتھ ساتھ ہیں،شیعہ اور بریلوی وسیلے کے قائل ہیں ان کے خلاف نصاب میں بات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 2016سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما طارق جعفری کو کالعدم جماعت سے نتھی کرکے شیدول فور میں شامل کیا گیا ہے جو ایجنسیوں اور اداروں کی فعالیت پر مذاق ہے۔ملک بھر سے ماتمی عزادا ر ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع میں جمع ہیں،اتوار 25رجب کو پاکستان کے تمام شہروں میں احتجاج کیا جائے گا۔
