جنت البقیع کا عشق: مرنے کے بعد خوا ہش پوری ہو گئی

ولایت نیوز شیئر کریں

زندگی کتنی بے بضاعت و ناپائیدار اور عشق آل رسولؐ کتنا دائمی و پائیدار ہے

مظفر آباد ( تحریر: ابو زیاف حیدر) بنت رسول حضرت فاطمۃ الزہراؑ کی مظلومیت کا درد عاشقان رسالتؐ کو صدیوں سے رلا رہا ہے ایک صدی قبل جنت البقیع میں حضرت فاطمہ زہراؑ اور ان کے چار عظیم المرتبت فرزندان حضرت امام حسن ؑ ، امام زین العابدین ؑ ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادق ؑ کے مزارات کی مسماری نے اس درد کو مزید بڑھا دیا ہے خارجی فکر رکھنے والے استعمار کے مسلط کردہ حکمرانوں نے امہات المومنین اور صحابہ کبار کے مزارات کو بھی نہیں بخشا ۔ جب روضہ رسولؐ گنبد خضری سے چند قدموں کے فاصلے پر موجود نبی ؐ کی پیاری بیٹی کی اجڑی،بے نام و نشاں اور بے سائباں قبر کا تذکرہ ہوتا ہے ہر عاشق رسولؐ کی آنکھین پرنم اور دل کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہی عشق رسالتؐ کا میزان ہے۔۔۔۔۔

14مئی 2018 کو جہان فانی سے کوچ کرجانے والے  مجلس المودت کے سربراہ  اور آقائے سید حامد علی شاہ موسوی کی عالمگیر جنت البقیع تحریک کے سرگرم ورکر سید شاہ حسین کاظمی بھی انہی افراد میں شامل تھے  جن کا اوڑھنا بچھونا حضرت زہرا ؑ کی قبر کی مظلومیت کا پرچار رہا۔مرحوم مردان علی شاہ کاظمی کے چشم و چراغ اپنے برادران و فرزندان( شاہ حسن ، وقار کاظمی ، نثار کاظمی ، صدا حسین، طاہر کاظمی ، طیب کاظمی ) کے ہمراہ  3 جمادی الثانی کو اپنے گھر سے برآمد ہونے والے جلوس میں حضرت زہرا ؑ کے مزار کی شبیہہ برآمد کرتے تھے  اولیاء  فقرا ء ماتمی عزاداروں ماتمیوں کی صحبت رکھنا زندگی بھر شاہ حسین کا وطیرہ رہا۔بزرگ عزادار باوا سید کرم حسین شاہ مرحوم و مغفور ہوں یا مرد فقیر مرزا ظہور الحسن آف مظفر آباد مرحوم،  انکے ساتھ بیٹھکوں ، رفاقت کا ذکر اکثر انکی زبان پر ہوتا۔ سادات کے شجرے انہیں زبانی یاد تھے ۔ حرمت سادات کے پرچارک تھے ۔ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو نعمت معصومین قرار دیا کرتے اور انہیں دنیا بھر کے سادات کا سربراہ اور پہچان قرار دیا کرتے تھے ۔

شاہ حسین کاظمی سے آخری ملاقات علی مسجد راولپنڈی میں ہوئی  جہاں وہ اپنے دیرینہ دوست محمد علی شمس مرحوم کے فرزند صادقین تقوی کو ہمرا ہ لائے تھے ۔ اختر رضا کیانی صاحب سے ملنے کے بعد دربان عزا خانہ معصومہ قم ؑ عقیل کاظمی کے کمرہ میں آن بیٹھے اور پھر محفل کئی گھنٹے جاری رہی ا ن کا کہنا تھا کہ عزیز دوست کے بیٹے کو اس لئے ساتھ لایا ہوں تاکہ انہیں اپنے مرکز کا تعارف کرا سکوں اور ہمارے بعد بھی وہ عقائد حقہ کے مرکز سے وابستہ رہیں !!!!(شاید انہیں معلوم تھا کہ وہ اس کے بعد مرکز مکتب تشیع نہیں آ ئیں گے ) لنگر کیلئے مسور کی دال آئی تو کہنے لگے کہ میں نے ساری زندگی فارن سروسز کی ملازمت میں گزاری بہترین ضیافتوں میں شریک ہونے کا موقع ملا لیکن جو مزا علیؑ مسجد کی دال میں ہے وہ کسی کھانے میں نہیں دیکھا۔

گفتگو تصور شاہ صاحب کی موجودگی کے سبب منڈی بہا ولدین کے سادات سے شروع ہوئی اور جنت البقیع کے تذکرے پر ختم ہوئی ۔ شاہ حسین کا کہنا تھا کہ آقائے حامد موسوی کی شروع کردہ جنت البقیع کی بحالی کی تحریک کو غیبی تائید حاصل ہے تین چار مرلہ کی مسجد میں بیٹھنے والے متقی سید کی قلندرانہ صدا نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جو کام حکومتیں نہ کر سکیں ایک زمین پر بیٹھنے والے با عمل عالم دین اور متاع فقر کو سنبھالے ہوئے سید نے کر دکھایا۔ وہ جنت البقیع جسے پرائے تو درکنار اپنے بھی فراموش کر بیٹھے تھے آج یہ آقائے حامد موسوی کی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی مخلصانہ جدوجہد کا فیضان ہے کہ شرق و غرب میں جنت البقیع کی تعمیر کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ۔

کشمیر سے شاہ حسین کاظمی کا گہرا تعلق تھا اسی بیٹھک میں شاہ حسین کاظمی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ مظفر آباد میں بھی یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر ایک زبر دست احتجاجی جلوس نکالا جائے اور دنیا بھر کے آبزرورز کو اس سانحہ فاجعہ کی جانب بھی متوجہ کیا جا سکے  ان کا ارادہ تھا کہ ارشاد نقوی کے کھوکے پر جا کر 8 شوال کے پروگرام کو فائنل کریں گے ۔(ارشاد نقوی زمانہ طالبعلمی سے مختار سٹو ڈنٹس آرگنائزیشن اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے منسلک ہیں جنہیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی نمائندگی چھوڑ دینے کے عوض بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں لیکن انہیں ٹھکرا کر وہ مظفر آباد بس سٹینڈ پر اپنے چھوٹے سے ٹی سٹال پر آج بھی مرکز مکتب تشیع کی ترجمانی میں مصروف ہیں ۔ایسے ہی میثم مزاج کارکن ہی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا اصل اثاثہ اور اس کی کامیابی و عالمگیریت کا راز ہیں )

قدرت کو کچھ اور ہی منطور تھا اور چند ہی دن بعد بوقت سحر مرحوم کے مجلس المودت اور حدیث کسا ء واٹس ایپ گروپس پر میسیج ملا کہ شاہ حسین کاظمی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے ہیں  ۔خبر پر یقین نہ ۤآیا کہ رات تین بجے تک تو شاہ جی گروپس پر مخلتف معلوماتی میسیجز ارسال کررہے تھے ۔

مظفر آباد میں جنت البقیع کی مظلومیت کا احتجاجی جلوس  شاہ حسین کاظمی کی آخری خواہش تھی جو ان کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی لیکن وہ خواہش ان کی زندگی کے بعد مختار سٹو ڈنٹس فخر کاظمی ، انجمن دعائے سیدہ ؑ کے بلاول کاظمی ، ارشاد نقوی اور دیگر ماتمی عزاداروں نے پوری کردی ۔ مظفر آباد کی شاہراہوں سے گزر کر پریس کلب پہنچنے والے احتجاجی جلوس کے آگے آگے شاہ حسین کاظمی کی تصویر بھی چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی کتنی بے بضاعت و ناپائیدار اور عشق آل رسولؐ کتنا دائمی و پائیدار ہے  ۔۔۔۔۔

(مختار سٹو ڈنٹس ارگنائزیشن کے تعزیتی ریفرنس میں پڑھا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.