ملک کو بنو امیہ و بنو عباس کی فریبی سیاست کا سامنا:امریکہ جنہیں دشمن قرار دیتاہے انہی کے ذریعے ناپاک عزائم پورے کرتا ہے، بحرانوں سے بچاؤ سیرت حسنؑ میں ہے، یوم امن پر آغا حامد موسوی کا خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

وطن عزیز حالت جنگ میں ہے سیاسی جماعتیں نادانستگی میں دشمن کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
افواج پاکستان کو تنہاکرنا ازلی دشمن بھارت کا یجنڈا ہے جس پروہ بغیر کوئی نقصان اٹھائے کامیابی سے عمل پیرا ہے
اقتدار کی خاطر جن حیلہ سازیوں سے بنو امیہ و بنو عباس نے کام لیا آج وطن عزیز کو بھی اسی فریبی سیاست کا سامنا ہے
سیاسی جوڑ توڑ سے کالعدم جماعتیں بھرپورفائدہ اٹھارہی ہیں کرسی کی جنگ میں ملکی مفادات کو داؤ پر نہ لگایا جائے، ایکشن پلان پر عمل کیا جائے
عالم اسلام کی تباہی کی داستان بہت تلخ ہے امریکہ بہادر نے جنہیں دشمن قرار دیا انہی کے ذریعے اپنے ناپاک عزائم پورے کئے
سردار جنت شہزادہ صلح و امن خلیفہ راشد امام حسن علیہ السلام کے یوم ولادت پرنور پر قومی اخبارات کا ایڈیشن شائع نہ کرنا احسان فراموشی ہے
مسلم حکمران اور پاکستانی سیاستدان امام حسن مجتبی کی سیرت پر عمل کریں جنہوں نے دین کی خاطردنیاکی سب سے بڑی سلطنت کو ٹھوکر ماردی
اسلام پاکستان اور کلمہ گو ایک بار پھر بحرانوں کی زد میں ہیں بچاؤ کا واحد راستہ امام حسن ؑ ؑ کی سیرت پر عمل ہے، یوم امن کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز)تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ بلوچستان سے وزیرستان تک وطن عزیز حالت جنگ میں ہے سیاسی جماعتیں نادانستگی میں دشمن کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، افواج پاکستان کو تنہاکرنا ازلی دشمن بھارت کا یجنڈا ہے جس پر بغیر کوئی نقصان اٹھائے کامیابی سے عمل پیرا ہے.

آغا سید حامد علی شاہ موسوی ے کہا کہ اقتدار کی خاطر جن حیلہ سازیوں سے بنو امیہ و بنو عباس نے کام لیا آج وطن عزیز کو بھی اسی فریبی سیاست کا سامنا ہے، سیاسی جوڑ توڑ سے کالعدم جماعتیں بھرپورفائدہ اٹھارہی ہیں کرسی کی جنگ میں ملکی مفادات کو داؤ پر نہ لگایا جائے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے، عالم اسلام کی تباہی کی داستان بہت تلخ ہے امریکہ بہادر نے جنہیں دشمن قرار دیا انہی کے ذریعے اپنے ناپاک عزائم پورے کئے، عراق ایران افغانستان شام لیبیا یمن میں نام نہاد امریکی دشمنوں نے وہ سارے کام کئے جو امریکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ نہیں کرسکتاتھا۔

فرزند رسول سردار جنت شہزادہ صلح و امن خلیفہ راشد امام حسن علیہ السلام کے یوم ولادت پرنور پر قومی اخبارات کا ایڈیشن شائع نہ کرنا احسان فراموشی ہے،

مسلم حکمران اور پاکستانی سیاستدان امام حسن مجتبی کی سیرت پر عمل کریں جنہوں نے دین کی خاطردنیاکی سب سے بڑی سلطنت کو ٹھوکر ماردی فخر سقراط بن کر زہر کا جام پی لیا لیکن دین خداو شریعت محمد مصطفی ؐپر آنچ نہ آنے دی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواسہ رسول امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادت پرنور کے موقع پر ملک گیر ’یوم امن‘ کی مناسبت سے محفل میلاد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ جب امام حسن علیہ السلام نے خلافت راشدہ کا منصب سنبھالا تو اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ شرط کردی کہ ”اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی“سب نے اس شرط کو قبول کرلیا۔آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا،اطراف میں عمال اور حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے۔لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اسلامی معاشرہ سازشوں اورانتشار کا شکار ہے اور تو آپ تخت حکومت کو خیر باد کہہ کر تربیت مصطفی کی لاج رکھ لی کیونکہ امام حسن ؑ کا واحد مقصد حکم خدا اور حکم رسول کی پابندی کااجراء تھاامام حسن ؑ نے دین خدا کی سربلندی،فتنہ وفساد کا سر کچلنے،کتاب خدا اور سنت رسول پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اپنے نانارسول خدا ؐ کی صلح حدیبیہ کی تاسی میں تخت حکومت کو ٹھوکر مار کر جو تاریخی صلح کی وہ اسلام کی تاریخ کا ایساناقابل فراموش با ب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ 15رمضان 3 ہجری کی سعیدشب نے حبیب خدامحمد مصطفی ؐ کے گھرانے کوخوشیوں سے لبریز کردیاجب ریحانۃ الرسول شہزادہ صلح و امن حضرت امام حسن علیہ السلام صحن فاتح خیبرخاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی پاکیزہ آغوش میں مسرتوں کی نوید بن کر سامنے آئے اور انا اعطینک الکوثر کے مصداق ٹھہرے ۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے تو نبی کریم کو بڑا صدمہ پہنچتا امام حسن ؑ کی آمدمشرکین کے طعنوں کا جواب تھااور اللہ کے وعدہ ئ کوثر کی تکمیل تھی نبی کریم نے امام حسن علیہ السلام کا عقیقہ خود فرمایااور یوں عقیقہ امام حسن ؑ کی وجہ سے سنت ٹھہرا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ امام حسن و حسین ؑ جب پشت پر سوار ہوتے تو نبی کریم اپنے سجدوں کو طویل کر دیتے رسول خدا ؐ نے نواسوں کیلئے محبت کی انتہا کی تو نواسوں نے بھی نانا کے دین سے وفا میں انتہا کرڈالی تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جب جب تو حید و رسالت پر کڑا وقت آیا نبی ؐ کے نواسے اور انکی تربیت یافتہ اولادہر سازش شرارت کے سامنے ڈٹ گئے، اپنی جانیں تو نچھاور کرڈالیں لیکن اسلام کی سچائی اور حقانیت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ عہد حاضر میں اسلام پاکستان اور کلمہ گو ایک بار پھر بحرانوں کی زد میں ہیں اور عالم اسلام کواسی انداز میں داخلی شورشوں کا سامنا ہے جیسا سبط رسول امام حسن ؑ کے زمانے میں تھا، مسلم ممالک دشمنوں کے بجائے باہم دست و گریباں ہیں مسلم حکمران اسلام کے بجائے اپنے اقتدار بچانے کی فکر میں ہیں، شیطنت و صیہونیت اپنے پنجے عالم اسلام پر گاڑے چلے جا رہے ہیں ایسے میں اگر امت مسلمہ کے پاس بچاؤ کا واحد راستہ ہے تو وہ امام حسن ؑ ؑ کی سیرت پر عمل ہے جو قربانی سے عبارت ہے، مسلم حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرکے عالم اسلام کے مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.