ریاست ہی نہیں میڈیا بھی مکتب تشیع کو درجہ دوم کا شہری سمجھتا ہے، مذہبی آزادیاں امریکہ نے سلب کرائیں ، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو عالمی دہشتگرد امریکہکو پاکستان کی مذہبی آزادیوں پر انگشت نمائی کی جرات نہ ہوتی، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

امریکی ایجنڈوں کے سبب پاکستان میں اقلیتیں ہی نہیں اہل تشیع و اہلسنت سبھی حقوق سے محروم ہیں،خارجیوں پرسب سے بڑی سرمایہ کاری امریکہ نے کی

اب بھی وقت ہے مسلم حکمران جاگ جائیں توانائیاں ابلیسی قوتوں کو ناکام کرنے پر صرف کریں،ایران اور سعودیہ نجشیں ختم کر کے شیطا نی بیڑوں کو خلیج میں غرقاب کردیں

ریاست ہی نہیں میڈیا بھی مکتب تشیع کو درجہ دوم کا شہری سمجھتا ہے سب سے بڑا ثبوت عشرہ صاد ق آ ل محمد ؐ کو نظر انداز کرنا ہے، صفحہ اول آخر پر غیر اعلانیہ پابندی ہے

کالعدم جماعتوں سے امامتیں نہ کرائی جاتیں توضرب عضب کے کچلے ہوئے دہشتگردوں میں روح نہ پڑتی، تمام مکاتب قومیتوں کے حقوق برابری کی سطح پر ادا کیے جائیں

خواہ کیسا ہی سلوک کیوں نہ کیا جائے مادر وطن کے تحفظ و سلامتی کیلئے ہمیشہ سینہ سپر رہیں گے، عشرہ صادق آل محمد کے اختتامی ماتمی احتجاج جلوس میں عزاداروں سے خطاب

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ اگر نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل کیا جاتا تو امریکہ جیسے عالمی دہشتگر د کو پاکستان کی مذہبی آزادیوں پر انگشت نمائی کی جرات نہ ہوتی،امریکی پالیسیوں اور ایجنڈوں کے اطلاق کے سبب پاکستان میں اقلیتیں ہی نہیں اہل تشیع و اہلسنت سبھی حقوق سے محروم ہیں،مذہبی آزادیاں سلب کرکے اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط کرنے والے خارجیوں و جنونیوں پرسب سے بڑی سرمایہ کاری امریکہ نے کی، انسانیت کے سب سے بڑے دشمن اور عالمی امن کو تہہ و بالا کرنیوالے عالمی دہشتگرد امریکہ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کرتا پھرے؟اقوم متحدہ،عالمی عدالت انصاف،او آئی سی کہاں ہیں؟اب بھی وقت ہے مسلم حکمران جاگ جائیں امریکی ایجنڈے کے استعمال ہونیوالے مسلم حکمران اپنی توانائیاں ابلیسی قوتوں کو ناکام بنانے کیلئے صرف کریں،ایران اور سعودیہ کے برادر ممالک اپنی رنجشیں ختم کرتے ہوئے شیطانی بحری بیڑوں کو خلیج میں غرقاب کردیں،کالعدم جماعتوں کو تحائف اور امامتیں نہ کرائی جاتیں توضرب عضب کے کچلے ہوئے دہشتگردوں میں روح نہ پڑتی، حکومت نیشنل ایکشن پلان کی تمام 20شقوں پر عمل کرے،تمام مسالک،مکاتب قومیتوں کے حقوق برابری کی سطح پر ادا کیے جائیں، وطن دشمن قوتیں جان لیں ہمارے ساتھ خواہ کیسا ہی سلوک کیوں نہ کیا جائے مادر وطن کے تحفظ و سلامتی کیلئے ہمیشہ سینہ سپر رہیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشرہ صادق آل محمدؐ کے اختتامی روز ماتمی احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے عزاداروں سے خطاب میں کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ قرآن ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام نے لا متناہی علوم سے دنیا کو روشن کیا،اور دنیا پر واضح کر دیا کہ علم اور رسالت و ولایت کا سرچشمہ ایک ہی ذات توحید ہے،مکتب نبی ؐ و علی ؑ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کی فقہ پر عمل پیرا ہے تمام اسلامی فقہوں کا سرا امام جعفر صادق کی تعلیمات سے جا ملتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کی خوش بختی ہے کہ اس کی بنیاد اسلام کو قراردیا گیا بحمدللہ پاکستان کا سرکاری مذہب آرٹیکل2کے تحت اسلام ہے لیکن عالمی سازش کے تحت جب ایک ڈکٹیٹر نے جمہوریت پر شب خون مارا تو نہ صرف آزادی جمہور کو سلب کیا بلکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ سے بھی انحرا ف کیا اور اسلام ملتِ واحدہ و کفر ملت واحدہ کے نظریہ کو پامال کرنا چاہا جس سے عصبیتوں کو فروغ ملا اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگیں اور پاکستان کو بدترین دہشتگردی کا سامنا کر نا پڑا اور یہ سلسلہ گزشتہ چار عشروں سے جاری ہے جو اس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب اے پی ایس سکول کے ڈیڑھ سو معصوم نونہالوں کو بے دردی سے ذبح کردیا گیا جو قوم کے مستقبل پر کھلا حملہ تھا جسکے نتیجے میں قومی بیداری کے سبب ضربِ عضب کے بعد نیشنل ایکشن پلا ن تیارکیا گیا،ضرب عضب نے دہشتگردوں کے مراکز کے پرخچے اڑا دیئے اور بچے کھچے مفرور دہشتگردوں کیخلاف افواجِ پاکستان کا آپریشن ردالفساد آج بھی جاری ہے لیکن سول حکومتوں کو جس طریقے سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا چاہیئے تھا وہ نہ کیا گیا جسکے نتیجے میں چھ درجن سے زائد کالعدم گروپ آج بھی اپنا وجود برقراررکھے ہوئے ہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان کی تشکیل و تاسیس میں مکتب تشیع کا برابر کا حصہ ہے دہشتگردی کیخلاف 75ہزارقربانیاں ہوں یا دفاع وطن کا کوئی بھی مرحلہ مکتب تشیع ہمیشہ ہراول دستے میں شامل رہا لیکن اسکے باوجود ریاست ہی نہیں بلکہ میڈیا بھی اس مکتب کو درجہ دوم کا شہری سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا اقلیتوں کی مذہبی تقریبات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے لیکن مکتب تشیع کی مذہبی تقریبات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جس کا سب سے بڑا ثبوت عشرہ صاد ق آ ل محمد ؐ کو مکمل نظر انداز کرنا ہے۔اخبارات میں مکتب تشیع کی خبریں صفحہ اول و آخر پر شائع ہونے پر غیر اعلانیہ پابندی ہے لہذا اگر ہم گھر کو درست کرلیں تو کسی غنڈے دہشتگرد کی جرات نہیں کہ وہ ہم پر الزام عائد کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت مسلم امہ ذہن نشین رکھے کہ شیطانی قوتیں نہ پہلے مسلمانوں کی دوست تھیں نہ آئندہ بنیں گی،۔ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت بند کردیں۔مسلم ممالک کے عوام کو خود فیصلے کرنے کا اختیار دیں اور سیاسی مخالفین کو کچلنے کا سلسلہ بندکریں اور عالم اسلام کے خلاف ہونیوالی بین الاقوامی دہشتگردی کو روکنے کیلئے مشترکہ اقداما ت کریں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے تاریکی میں ڈوبی انسانیت کو علم کی روشنی سے چکا چوند کردیا آپ نے اپنے ایک فرمان میں سمندر کو کوزے میں بند کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے علم کو چار اصولوں میں محدود پایا،خدا شناسی،نعماتِ الہی کا ادراک،ذات الہی کا نعمات کے بدلے انسان سے تقاضہ، اور وہ گناہ و لغزشیں جو انسان کی روح کی روشنی کو بجھا دیں۔تمام مورخین اور عارفین اس بات پرمتفق ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بتائے ہوئے چار اصول ہی علم کی حقیقت ہیں جو بھی بصیرت و معرفت کی اس منزل پر پہنچا وہ علم کی حقیقت پہچان گیاگویا اللہ اوراسکی نعمات کو پہچان کر اسکی شکر گزاری کرنا اور ذاتِ الہی ک عبادت و پرستش اورا پنے فرائض ہائے منصبی کو اداکرنا اور گناہوں اور لغزشوں سے بچنا کامیابی و سرفرازی کی کلید ہے۔

ماتمی احتجاجی جلوس کے دوران ملک بھر سے آئے عزاداروں و بانیان نے قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کو شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام پر تعزیت پیش کی اور انکے ہر حکم پر لبیک کہنے کے عہد کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.