ہندو مندر کو تنازعہ نہ بنایا جائے،مادیت پرست علماء نے عوام کو دین سے دور کیا، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

ہندو مندر کو تنازعہ نہ بنایا جائے، اسلام انتہاپسندی سے نہیں رواداری اوردانشمندی سے پھیلا،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
مندرپر اعتراض سے غیر ممالک میں مسلم مساجد کا جواز ختم ہو جائے گا، متشدد گروہوں کو دوسرے مسالک کی عبادتگاہیں بھی منظور نہیں
دین اور ملک کی نیک نامی کیلئے اقلیتوں کی عبادتگاہ کی تعمیر جائز ہے، ریاست تنگ نظری کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو
سعودی جریدے کی جانب سے عراقی مراجع کی توہین قابل مذمت ہے،علمی اختلاف رحمت ہے جسے توہین کے لبادے اوڑھانا خطرناک ہے
مادیت پرست علما نے عوام کو دین سے دور کیا،مراجع کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، ایک ڈاکٹر کی غلطی کو تمام مسیحاؤں کی غلطی قرار دینا کم فہمی ہے
شہید محمد حسین شاد کی قربانی مذہبی آزادیوں کا سنگ میل ہے نظریہ پاکستان ہر شہری کے حقوق کا پاسبان و نگہبان ہے،جھنگ کے عمائدین سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ اسلام انتہاپسندی سے نہیں رواداری اوردانشمندی سے پھیلا اسلام آباد میں ہندو مندر کو تنازعہ نہ بنایا جائے، اگر اقلیتوں کو اپنی حدود کے اندر عبادات کرنے کیلئے مندر گوردوارے گرجے تعمیر کر کے دینے سے دین اور ملک کی نیک نامی ہو تو ایساکرنا جائز ہے ریاست تنگ نظری اور انتہا پسندی کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو، اسلام کا یہ درس ہے کہ دوسرے کیلئے وہی پسند کروجو اپنے لئے کرتے ہو، اگر چند سو ہندوؤں کی عبادات پر اعتراض کیا گیا تو غیر ممالک میں کروڑوں مسلمانوں کی مساجد عبادتگاہوں اور مراکز کا جواز بھی ختم ہو جائے گا،پاکستان پر تسلط کے خواہشمند متشدد گروہوں کو غیر مسلم ہی نہیں دوسرے مسلمان مسالک کی عبادتگاہیں حتیٰ کہ مساجد امام بارگاہیں بھی منظور نہیں، سعودی جریدے کی جانب سے عراقی مراجع کی توہین قابل مذمت ہے علمی اختلافات رحمت ہیں جن سے علم منجمد نہیں ہوتا اختلاف کوتوہین کے لبادے اوڑھانا خطرناک ہے، مراجع عظام کی خدمات ناقابل فراموش ہیں مادیت پرست علما نے عوام الناس کو دین سے دور کیا،شہید محمد حسین شاد کی قربانی مذہبی آزادیوں کا سنگ میل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مخدوم حیدر عباس بخاری اور سردار نوید بلوچ کی قیادت میں جھنگ کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ اسلام مسلم ممالک میں اقلیتوں کو ان کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت اور آزادی فراہم کرتا ہے،فقط وہ چیزیں جو اسلام میں حرام ہیں غیر مسلم افراد انہیں اہل اسلام کے سامنے انجام نہیں دے سکتے غیر مسلم اپنے عقیدے کے مطابق شراب پی سکتا ہے لیکن کھلے عام مسلمانوں کے سامنے بجا نہیں لا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو تبلیغی سرگرمیوں کی اجازت حاصل ہے تو وہ مسلم ممالک میں بھی غیر مسلموں کو حدود کے اندر عبادات کی سہو لتیں فراہم کرنی چاہئیں، بھارت سمیت کئی غیر مسلم ممالک میں مسلمان حجاج زائرین کیلئے حج مرکزقائم ہیں یورپی ممالک میں لاتعداد اسلامک سینٹر قائم ہیں وہاں سے چندے اکٹھے کرکے مسلم ممالک میں دینی کاموں پر خرچ کئے جاتے ہیں ہندوؤں کے ملک میں سینکڑوں تبلیغی اجتماع منعقد ہوتے ہیں جنونیت اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرکے دوسرے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے مسائل کھڑے کئے نہ جائیں اور اسلام کو بدنا م نہ کیا جائے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ سب سے بڑا مرجع اللہ ہے حکیم الامت علامہ اقبال نے مدینہ و نجف کو مسلمانوں کی مرجع گاہ قرار دیا، اللہ نبی اور معصومین کے بعد قرآن اور روایات حدیث و علم الرجال پر مکمل عبوررکھنے والے مجتہدین و مراجع سے رجوع کیا جاتا ہے دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں ’ناواقف‘ واقف لوگوں سے رجوع نہ کرتا ہوکسی کی ذاتی خامی کو کسی شعبے پر تھوپ دینا کم فہمی ہے ایک ڈاکٹر کی غلطی کو تمام مسیحاؤں کی غلطی قرار دینا صائب نہیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نظریہ پاکستان ملک میں بسنے والے ہر مذہب مسلک صوبے کے شہری کے حقوق کا پاسبان و نگہبان ہے جس میں تخریب کی سازشوں کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے ہر محاذ پر ناکام کیا شہید محمد حسین شاد کا لہونظریہ پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد کو حیات نو بخش گیا، دین و وطن کے شہداء کی قربانیوں کی ہمیشہ لاج رکھیں گے اور نظریہ پاکستان پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.