جو نبی ؐ کا نہیں وہ ہمارا نہیں۔علامہ قمرزیدی
مصطفی ؐ سے ہمیں کوئی پیارا نہیں،جو نبی ؐ کا نہیں وہ ہمارا نہیں۔علامہ قمرزیدی
اسوہ ِ رسول ؐ کی عملی پیروی ایمان کی اساس ہے۔ہفتہ و حدت و اخوت کی محافل میلاد سے مقررین کا خطاب
راولپنڈی(ولایت نیوز )قائد ملتِ جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے قائم کردہ عالمگیر ہفتہ وحدت اخوت کی مناسبت سے محافل میلاد،کانفرنسوں اور دیگر تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔امام بارگاہ زین العزامیں محسن انسانیت کی آمد پرنورکے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ سید قمرحیدرزیدی نے کہا کہ نانا محمد ؐ اور نواسے حسین ؑ کے روحانی جلوس اور میلاد کی محافل کوئی دنیاوی رسم نہیں بلکہ بہترین عبادت ہے جو تمام عبادتوں کی روح ہے۔انہوں نے یہ بات زوردیکر کہی کہ فرش میلاد پر بلا رنگ و نسل اور کسی مذہبی تفریق کے بغیر آنیوالے خوش نصیب اور بلند درجات کے حامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ؐ کی حیات ِ مبارکہ تمام انسانیت کیلئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے اور آپ ؐ کے ارشادات عالیہ کی عملی پیروی میں انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم جن مصائب و آلام کا شکار ہیں وہ سیرت نبوی ؐ سے دوری کا نتیجہ ہے اگر ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں تو اس جہان فانی اور آخرت میں بھی سرخرو ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میلاد مصطفی ؐ کی محافل اور جلوس قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے بقول اسلام کی عظمت و شوکت کے مظاہرے ہیں جن میں تمام کلمہ گو مسلمان آپ ؐکی شان میں نعت خوانی کرکے اپنے دلوں کو گرماتے اور قلبی سکون پاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات زوردیکر کہی کہ تعلیمات نبوی ؐ اور اسوہ حسنہ کی پیروی کرکے ہم دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو مدنی رسالت کے سانچے میں ڈھال کر اسلام کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول اعظم ؐ پوری دنیا کیلئے مینارہ ِ نور اور کامیابی کا زینہ ہے۔انہوں نے کہاکہ امام جعفر صادق علیہ السلام آفتاب امامت کے نصف النہار ہیں جن کے چہرہ انور سے نور محمدی ؐساطع تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام تر مسائل کا حل اور نجات کا راز سیرت صادقین کی عملی پیروی میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد و آل محمدؐ کی پاکیزہ سیرت و تعلیمات قیامت تک کی اقوام کیلئے سرچشمہ و منبع ہدایت ہیں۔انجمن کنیزان امام العصر والزمان ؑکے زیراہتمام محفل صادقین سے خطاب کرتے ہوئے خطیبہ سیدہ بنت موسیٰ موسوی نے کہا کہ تعلیمات ِنبویؐ کی اساس عدل و انصاف پر ہے لہذا دنیا سے معاشرتی ناہمواریوں کے خاتمے اور تمام کے حقوق برابری کی سطح پر ادا کر کے عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔محفل کے آخر میں ملکی استحکام و ترقی کیلئے دعا ئیں کی گئیں۔
