حضرت مریمؑ و ام البنینؑ کا انوکھا امتیاز؛ جامعۃ المرتضی میں سیدہ بنت الھدی کا تاریخی خطاب؛ مجالس میں عزاداری پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ
مادرِ غازی عباس حضرت ام البنین کا یوم شہادت عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا, ملک بھر میں مجالس عزا ، ماتمی جلوسوں کا انعقاد.
امام بارگاہ جامعہ المرتضٰی میں مرکزی مجلس خواتین میں برآمدگی شبیہہ تابوت۔
خانوادہ محمد و آل محمد کی اس باعظمت خاتون کا اسوہ رہتی دنیا تک کے وفاداروں کیلئے عملی نمونہ ہے۔ سیدہ بنت الھدیٰ کا خطاب
مرکز علی مسجد میں ملک طلعت عباس کے زیر اہتمام مجلس عزا ، ذاکر اقبال شاہ بجاڑ،علامہ علی ناصر حسینی تلہاڑا ، ذاکر فرخ عباس ، علامہ قمر زیدی و دیگر کا خطاب، ماتمی حیدری دائرہ کی پرسہ داری
اسلام آباد (ولایت نیوز) قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے قائم کردہ ایام مادر عباس علمدارؑ کی مناسبت سے سربراہ ٹی این ایف جے آغا سید حسین مقدسی کے اعلان کے مطابق حرم امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام حضرت ام البنین کا یوم شہادت دنیا بھر کی طرح پورے پاکستان میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا. اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور مجالس عزا منعقد کی گئیں.
مرکزی امامبارگاہ جامعہ المرتضٰی جی نائن فور اسلام آباد میں خواتین کی مرکزی مجلس عزاء سے معروف سکالر سیدہ بنت الہدیٰ ( مصنفہ شہرہ آفاق کتاب تذکرہ مختار ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مریمؑ کو جو یگانہ اعزازات قرآن میں حاصل ہوئے حضرت ام البنین ؑ بھی انہی اعزازات کی حامل تھیں جنہیں توحید و رسالتؐ و ولایت ؑ کے پاسداران اہل بیت نبوتؐ کے وفاداروں کو پروان چڑھانا تھا۔
سیدہ بنت الھدی نے قائد ملت جعفریہ آقای موسوی کے پانچ اصولوں ولایت علیؑ عزائے حسینؑ حرمت سادات احترام مرجعیت و مرکزیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ان اصولوں سے انحراف کرے گا رسوائی اس کا مقدر ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ نبی نے علیؑ کو لاکھوں کے سامنے وصایت و ولایت کی دستار پہنا ئی تاکہ کوئی انحراف کی جرات نہ کر سکے ۔
حضرت ام البنین طبقہ نسواں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے عظمت کردار کا آسمان اور حضرت عباس جیسے جری بیٹے کی ماں تھیں جو حضرت علی المرتضیٰ کی شریکہ حیات تھیں اور آپ نے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ع کی حویلی کی نگہدار و پاسدار ہونے کا عہد وفا پورا کرکے رہتی دنیا تک کے وفاداروں کیلئے بے مثال عملی کردار ادا کیا جسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس معظمہ بی بی کے چار بیٹے معرکہ کربلا میں اسلام کی بقاء و سلامتی کے لیے قربان ہوئے.
سیدہ بنت الہدیٰ موسوی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ خانوادہ محمد و آل محمد کی اس باعظمت خاتون کا اسوہ پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے جسکی پیروی کرکے موجودہ ترقی یافتہ مگر پرآشوب دور میں خواتین اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتیں ہیں. انہوں نے واضح کیا کہ وطن عزیز پاکستان کے قیام کے
اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کے لیے خواتین کو بحیثیت بیٹی زوجہ اور ماں حضرت ام البنین کی سیرت کو اپنے کردار میں ڈھالنا ہوگا تاکہ مغرب کی فرسودہ روایات کا خاتمہ کر کے اسلام کے زریں اصولوں کی پیروی کی جا سکے۔
مجلس عزا میں ام البنین ڈبلیو ایف کی جانب سے پیش کردہ قرارداد خواتین بلند نعروں کی گونج میں منظور کی جس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اسلام کی اساس پر قائم ہونے والے وطن عزیز پاکستان میں گزشتہ حکومت کے دور میں ذکر حسین پر غیر ائینی ناروا پابندیوں کے ایس او پیز اور قواعد و ضوابط کو ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بزور قوت نافذ کیا جا رہا ہے جن پر موجودہ دور میں بھی عمل درامد جاری ہے۔
قرارداد میں باور کرایا گیا کہ ان متنازعہ غیر ائینی پابندیوں کے ذریعے نئی عزاداریوں پر پابندی لگائی جا رہی ہے حتی کہ روایتی مجالس اور جلوسوں کو بھی روکا جا رہا ہے جو حکومتی انتظامیہ کی غلطی کے باعث سرکاری شیڈیول میں شامل نہیں کی گئی یہاں تک کہ چار دیواری کے اندر ہونے والی مجالس کو بھی روکا جاتا ہے بانیان مجالس اور عزاداروں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے خلاف مقدمات قائم کر کے انہیں حراست میں لیا جاتا ہے جو قابل مذمت ہے، حکومت یاد رکھے کہ عزاداری کی پاداش میں قائم ہونیوالے مقدمات ہمارے لیے گولڈ میڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرارداد میں واضح کیا گیا وطن عزیز پاکستان کو ازلی دشمن بھارت کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے حسینیت کے خلاف قانون سازی کے بجائے ظلم و بربریت ، خارجیت کا دائمی سدباب کے لیے حسینیت کو عام کرنے کے لیے عزاداری کے خلاف نعرہ پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ جامعہ المرتضٰی میں مجلسِ عزا عزا کے اختتام پرشبیہ تابوت حضرت ام البنین برامد ہوا اور ہزاروں خواتین نے بارگاہ رسالت و امامت میں پرسہ پیش کیا۔
اس موقع پر سفرہ ام البنین س کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
راولپنڈی میں یوم شہادت حضرت ام البنین کے موقع پر مرکزی مجلس عزا ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع علی مسجد راولپنڈی میں ملک طلعت عباس اور ملک یاسر عباس کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے ذاکر اقبال شاہ بجاڑ، ذاکر فرخ عباس نقوی، علامہ سید قمر حیدر زیدی، مولانا وقار نقوی ، ذاکر مطیع الحسنین کاظمی اور کمسن خطیب ملک صالح علی نے بارگاہ حضرت امام البنین میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مادر عباس علمدار کی وفاداری اور میدان کربلا میں اپنی اولاد راہ اسلام میں قربان کرنے کو رہتی دنیا تک کے وفاداروں کیلئے سنگ میل قرار دیا۔

مجلس عزا کے ہزاروں شرکاء نے ٹی این ایف جے کے مرکزی رہنما عمار یاسر علوی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پرجوش نعروں کی گونج میں منظور کی جس میں باور کرایا گیا کہ عزاداری باطل کے خلاف ڈٹ جانے اور حق کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کا وہ آفاقی جذبہ پیدا کرتی ہے جس سے قوم اپنی آزادی کا تحفظ کرسکتی ہے. قرار داد میں کشمیر و فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت اور ان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا. مجلس عزا کے اختتام پر مرکزی ماتمی حیدری دائرہ اور دیگر ماتمی دستوں نے پرسہ داری اور ماتمداری کی.
