کربلا میں کائنات کا سب سے بڑا اجتماع اور بقیع میں مادرِحسینؑ کی ویران لحد: ’عام البقیع‘ کی مناسبت سے اربعین واک کے دوران بقیع والوں کی مظلومیت کی گونج

ولایت نیوز شیئر کریں

نجف اشرف / کربلائے معلی (ولایت نیوز۔۔علا حیدر رپورٹ ) ایسے وقت میں جب پورا عالم فرط عشق کے ساتھ لاتعداد انسانوں کے سمندر کو اربعین کے موقع پر کربلا کی جانب بڑھتا دیکھ کر حیرت و استعجاب میں ڈوبا ہوا تھا روئے زمین کی سب سے بڑی واک میں شریک کچھ منفرد زوار جنت البقیع کی مسماری کے سوسال پورا ہونے کے ہینڈ بل اٹھائے قبر زہرا و آئمۃ البقیع کے نوحہ گر نظر آرہے تھے۔

لبیک البقیع کے عزم سے لیس اور عالمی تحریک البقیع کے موسس آغا سید حامد علی شاہ موسوی ؒ کی تصاویر والی سیاہ شرٹس پہنے یہ منفرد زوار ہر زائر حسینیؑ کی نگاہ کا مرکز تھے۔

اپنی رحلت سے قبل جہان تشیع کے عظیم لیڈر عالم ربانی آغا سید حامد علی شاہ موسوی 1444ھ کو جنت البقیع کی مسماری کو سو سال مکمل ہونے پر ’ عام البقیع ‘ کا اعلان کرکے گئے تھے تاکہ پورا سال جنت البقیع پر ہونے والے ظلم کو اقوام عالم پر اجاگر کرنے کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں ۔

اسی کال پر لبیک کہتے ہوئے دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے زائرین کے ساتھ ساتھ مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور البقیع موومنٹ کے کارکنان جا بجا ’ عام البقیع ‘ کی مناسبت سے دنیا بھر سے آئے زائرین میں کئی زبانوں میں تحریر کردہ پمفلٹ بانٹتے نظر آئے ۔ نجف سے کربلا تک کئی مقامات پر جنت البقیع کیمپس بھی لگائے گئے البقیع موومنٹ کی جانب سے بینرز بھی آویزاں نظر آرہے تھے ۔

ایک مقام پر مختار جنریشن کے بچے جنت البقیع کی ٹوٹی قبروں کے مجاور بنے پرسہ دیتے نظر آئے ۔

یہ خیال ہر عزادار اور زوّار کی آنکھوں کو اشکبار کررہا تھا کہ نبی کریم ؐ ، مولائے کل حضرت علی ابن ابی طالب ؑ ، غریب کربلا امام حسین ؑ ، اسیر بغداد امام کاظم ؑ، غریب طوس امام علی ابن موسی الرضا ؑ، باب المراد امام محمد تقیؑ کے مزارات ، کئی بار تباہ ہونے والے روضۃ العسکریینؑ اور امام قائم ؑ کی یادگاروں پر لاکھوں کروڑوں عشاق کا ہجوم ہے لیکن حضرت فاطمہ زہرا ؑ اورن کے ساتھ سوئے چار بیٹوں امام حسنؑ و زین العابدینؑ ، امام باقرؑ و امام صادقؑ کی قبروں پر آج بھی غربت و ویرانی کا راج ہے جن پر کوئی چراغ روشن کرنے والا نہیں جو زائر بقیع کے مظلوموں کو سلام کرنے کیلئے آگے بڑھے اسے آج بھی تعزیرات اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

بقیع کے مظلوموں کیلئے آواز احتجاج بلند کرنے والے ان سرفروشوں حتی کہ کم سنوں کا جذبہ یہ بتا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب روضہ حسینی ؑ سے لیکر کائنات کے گوشے گوشے میں لبیک یا حسینؑ کی طرح لبیک البقیع کی صدائیں بلند ہوں گی اور عاشقان رسالتؐ و اہلبیت ؑ کا جنت البقیع کو آباد اور اس کی عظمت رفتہ بحال ہونے کا منظر دیکھنے کا خواب ضرور پورا ہو کر رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.