کرسی کی ہوس فوج اور عوام کی قربانیاں نگل رہی ہے،ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ماں کے تین بیٹوں کی شہادت پر حکمرانوں سیاستدانوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے، آغا حامد موسوی
سیاستدانوں کی مفاد پرستی ‘دہشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
حالیہ تمام انتخابات گواہ ہیں کہ حکومت و اپوزیشن کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، کرسی کی ہوس فوج اور عوام کی قربانیاں نگلتی جارہی ہے
انارکلی لاہور سے بلوچستان تک دہشت گردی کے پیچھے بلاشبہ بھارت کارفرما ہے لیکن اس کے سہولت کارکراچی سے خیبر تک موجود ہیں
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ماں کے تین بیٹوں کی شہادت پر حکمرانوں سیاستدانوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے، کسی منصف نے حشر کیوں نہ اٹھایا؟
جہاں بے گناہوں کو شیڈول فور اور کالعدم جماعتوں کو نظریاتی کونسل علماء بورڈز کی ممبریاں مل رہی ہوں وہاں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے
قومی سلامتی پالیسی پرصرف زبانی جمع خرچ نہیں عملدرآمد بھی نظر آنا چاہئے، سانحات پر افسروں کی معطلی ڈرامہ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے
انتہا پسندسیاسی جماعتوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں جس کے عوض انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، کابینہ سے خطاب؛ ایام عظمت نسواں منانے کا اعلان
اسلام آباد( ولایت نیوز) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کی مفاد پرستی ‘دہشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،آزاد کشمیر گلگت بلتستان سمیت تمام ملکی انتخابات گواہ ہیں کہ حزب اقتدار اور حزب مخالف کی تمام سیاسی جماعتوں کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، کرسی کی ہوس فوج اور عوام کی قربانیاں نگلتی جارہی ہے،انارکلی لاہور سے بلوچستان تک دہشت گردی کے پیچھے بلاشبہ بھارت کارفرما ہے لیکن اس کے سہولت کارکراچی سے خیبر تک موجود ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ماں کے تین بیٹوں کی شہادت پر حکمرانوں سیاستدانوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے کھلی بربریت پرکسی منصف نے حشر کیوں نہ اٹھایا؟جہاں بے گناہوں کو شیڈول فور اور کالعدم جماعتوں کو نظریاتی کونسل علماء بورڈز کی ممبریاں مل رہی ہوں وہاں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے،قومی سلامتی پالیسی پرصرف زبانی جمع خرچ نہیں عملدرآمد بھی نظر آنا چاہئے، سانحات پر افسروں کی معطلی ڈرامہ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے، 18تا20جمادی الثانی شہزادی کونین حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت پرنور کی مناسبت سے ایام عظمت نسواں منائے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نے ٹی این ایف جے کی مرکزی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ چار دہائیاں قبل پاکستان کوایک طرف امریکی دوستی کا تحفہ دہشت گردی کی صورت ملا تو دوسری جانب مذہبی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو پراکسی جنگوں کا اکھاڑہ بنا دیا گیا، بیرونی سرمایہ نفرت اور دہشت کی آبیاری کرتا رہا اور اہل سیاست دہشت گرد گروہوں کو پریشر گروپ کے طور پر استعمال کرتے رہے جس کے نتیجے میں یہ گروہ اتنے طاقتور اور با اثرہوگئے کہ پوری ریاستی قوت کے استعمال کے ساتھ بیسیوں آپریشنز کے باوجود ان دہشت گرد گروپوں کا صفایا نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند گروہوں پر پابندی لگی ضرب عضب جیسے قربانیوں سے لبریز آپریشن ہوئے انسدا دہشت گردی ایکٹ تیار ہوئے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا لیکن تمام کوششیں اور قربانیاں اسی لئے رائیگاں جارہی ہیں کہ دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے یارانے ہیں وہ سیاسی جماعتوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں اورجس کے عوض سیاسی جماعتیں پھر ان کا تحفظ کرتی ہیں۔
آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ شیڈول فور میں شامل عام شخص اپنے تھانے کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا پھرسوال یہ ہے کہ کالعدم جماعتوں کے سینیئر رہنما اہم سرکاری اداروں تک کیسے جاپہنچتے ہیں؟کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنسیں کی جاتی ہیں ان کے تیارہ کردہ بلوں کو بھاری اکثریت سے منظور کرایا جاتا ہے ایسے حالت میں انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ ازلی دشمن بھارت نے قیام پاکستان سے آج تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا اور ملک دشمن سازشوں پر اسی لئے قابو نہیں پایا جا سکا کہ حکومت اپوزیشن ہمیشہ ایک دوسرے کو زیر کرنے میں مصروف ہیں اور اس جنگ میں وہ پاک فوج اور بے گناہ عوام کے قاتل دہشت گردوں سے بھیک مانگنے میں بھی شرم نہیں کرتے، حکومتی جماعت اپنا اقتدار بچانے اور اپوزیشن اقتدار ہتھیانے کیلئے ہر ہتھکنڈا اور حربہ استعمال کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔
آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ جب تک دہشت گردوں اور قومی مجرموں کو سرعام عبرتناک انجام سے دوچار نہیں کیا جائے گاقیام امن کی کوئی تدبیر کاگر نہیں ہو گی۔
