عاشورہ مظلومین کی فتح کا استعارہ ہے،،انقلاب حسینی تحاریک حریت کا سرچشمہ ہے، قائد ملت جعفریہ کا پیغام عاشورہ

ولایت نیوز شیئر کریں

عاشورہ ظلم و جبر،لادینیت کے خلاف مظلومین کی فتح کا استعارہ ہے۔آغا حامد موسوی
شہادت حسین ؑ پوری انسانیت کیلئے سبق آموز ہے،نواسہ رسول ؐجگر گوشہ علی ؑ و بتول ؑ لازوال قربانی پیش کرکے بشریت کو آبرو بخشی
امام عالی مقام ؑ نے قانون آزادی و بشر پر اپنی اور اصحاب حسینی کے پاک لہو سے دستخط ثبت کردیئے،انقلاب حسینی تحاریک حریت کا سرچشمہ ہے
شہید جاوداں کو عظیم ترین شرف و منزلت حاصل ہے، جب تک دنیا باقی ہے،اسکا جلوہ آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاں رہے گا
غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینی استعماریت و صیہونیت کے مقابلے میں حسینی جذبے کیساتھ نبردآزما ہیں،کشمیری و فلسطینی لبیک یا حسین ؑ پکار رہے ہیں
عالم اسلام کی سربلندی، وطن عزیزکے استحکام کیلئے حسینیت کو مشعل راہ بنا کر اتحاد و اخوت کیساتھ عملی جدوجہد جاری رکھیں گے۔یوم عاشورہ پر قائد ملت جعفریہ کا خصوصی پیغام

اسلام آباد( ولایت نیوز) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماء بورڈ قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ شہادت حسین ؑ کو چودہ صدیاں بیت جانے کے باوجود اس عظیم قربانی کی یادآج بھی تازہ ہے جس سے سورج کی کرنوں،دریاؤں کے پانی،بارش کے قطروں کی طرح بلاتفریق رنگ و نسل،مذہب و مسلک پوری انسانیت فیضیاب ہورہی ہے، میدان کربلا میں 10محرم 61ھ کو رونما ہونیوالے معرکہ حق وباطل نے ہر عہد،ہر منطقہ،ہر ملک ہر قوم ہر تہذیب کو اپنے ثمرات سے مستفید کیا ہے،شہادت حسین ؑ سب کیلئے سبق آموز ہے اسی لیے اپنے کیا بیگانے بھی امام عالی مقام حسین ابن علی ؑ کو کلمات تحسین پیش کرتے ہیں،مطلق العنانیت،ظلم،جبر،ناانصافی،برائی،لادینیت،پست کرداری،دغا بازی عہد شکنی کے مقابلے میں شہادت حسین ؑ آزادی و حریت،سچائی،عزم و ہمت،وفا واستقامت،عدل و انصاف،مساوات،جرات بہادری،عظمت کردار اور مظلومین کی فتح و سرفرازی کا استعارہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم عاشورہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا ہے۔

آقای موسوی نے باورکرایا کہ حسین ؑ ابن علی ؑنے عظیم ترین مجاہد ہ اور شہادت سے بشریت کو آبرو و حرمت بخشی اور جہان بشریت کے رہبر و رہنما کہلائے،آپ ؑ سرنوشت کربلا کے معرکہ میں اگرچہ آزادی،عدالت اور فضیلت و شرف کے دشمنوں کے محاصرہ میں اس طرح تھے جیسے انگوٹھی میں نگینہ،موت خوفناک اژدھا کی طرح آپؑ اور آپ کے اصحاب باوفا کو نگلنے کیلئے منہ کھولے کھڑی تھی،آپ ؑ کے عیال و اطفال زمانہ کے پست ترین،وحشت و نالائق افراد کی قیدو بند میں گرفتار ہونے کے شدید خطرہ سے دوچار تھے،آپ ؑ کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اقتصادی،حیاتی تحریر اور آب و آزوقہ کی محرومی کا سامنا تھا پھر بھی ایسے حساس حالات میں امام عالی مقام ؑ فولادی پہاڑ سے زیادہ سخت،ٹھوس،مصمم آہنی عزم کیساتھ سرزمین عراق کے سورج کی جلا دینے والی شعاعوں کے نیچے ایستادہ ہوئے اور نہایت دلیرانہ و جراتمندانہ لہجہ میں لشکر یزید کے مقابل آن کھڑے ہوئے۔

آغا سیدحامدعلی شاہ موسوی نے باورکرایا کہ امام حسینؑ کی شہادت نے قانون آزادی بشر پر اپنے جانثاروں اور جگر پاروں کے پاک لہو سے دستخط ثبت کیے ہیں اور اسے بعنوان درس جاوداں مجاہدین عالم بشریت کے سامنے پیش کردیا ہے۔وہ طاہر و مطہر لہو جو شفق شام کی طرح ہمیشہ کی طرح روشن رہے گا اور دنیائے مظلومیت کے بہادر سپوت اس سے روشنی حاصل کرتے رہیں گے،اسی بناء پر غیر مسلم دانشوروں نے کربلا اور سید الشہداء کی عظمت کا اعتراف کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مشہور امریکی مورخ واشنگٹن ارونگ امام عالی مقام کے ایمان،صبر و استقامت،استقلال و پائیداری کا یوں اعتراف کرتا ہے”امام حسین ؑ کیلئے ممکن تھا کہ یزید کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرکے اپنی شخصی زندگی بچالیتے لیکن امامت و رہبری کی مسؤلیت آپ کو اس بات کی اجازت نہ دیتی کہ آپ ؑ یزید کو خلیفہ کی حیثیت سے پہچانیں اور تسلیم کریں،آپ ؑ نے بڑی سرعت کیساتھ دین اسلام کو بنوامیہ کے چنگل سے رہائی دلانے کیلئے اپنے کو ہر مصیبت و تکلیف گوارہ کرنے پر آمادہ کرلیا،سرزمین خشک اور آفتاب سوزاں کی دھوپ میں عربستان کی تپتی ہوئی ریت پر امام عالی مقام کی لافانی روح قائم ہے۔آپ ؑ نے اپنی شہادت سے اسلام کو روحانیت،نورانیت اور ایک تازہ رونق و درخشندگی سے نوازا اور امت مسلمہ کو معنویت اسلام کی طرف متوجہ کیا وہ معنویت جو عالم اسلام کی حیات کے دستور سے مٹا دی گئی تھی اور انقلاب حسینی عظیم ترین اسلامی انقلابات کا منبع و سرچشمہ بن گیا اور اس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔قائد ملت جعفریہ آغاسید حامدعلی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ تاریخ دین و شریعت کے اس عظیم سپوت کے بارے میں غیر مسلموں کے اقوال و نگارشات قابل صد ستائش ہیں اگر انہیں جمع کیا جائے تو کئی دفاتر درکار ہیں۔

انہوں نے یہ بات زوردیکر کہی کہ شہید راہ کربلا امام عالی مقام ؑ کا پاک و طاہر نام تاریخ بشریت میں ایک نئے باب اور ایک نئے ظہور کا باعث بنا ہے جس نے شرق و غرب،شمال و جنوب کے پیروان محمد و آل محمدکے قلوب کو اپنی طرف راغب کرنے کے علاوہ پوری انسانیت کو الہی عظمت و کبریائی اور اپنی روحانیت کے سامنے حیران و ششدرکردیا،اس شہید جاوداں اور بلند مقام و مرتبہ کی تعظیم و تکریم کو عوام الناس کے درمیان اس طرح خصوصی شرف و منزلت حاصل ہے کہ جب تک دنیا باقی رہے گی ہر روزاسکا جلوہ اور روشنی آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاں ہوتی رہے گی۔آقای موسوی نے کہا کہ مفکرین اور نکتہ وروں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ظلم و ستم،جبروتشدد اور آمریت و ملوکیت کو حسینی راہ پر گامزن ہوکر پاش پاش کیا جاسکتا ہے۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہا کہ آج غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینی استعماریت و صیہونیت کی ٹیکنالوجی کیساتھ حسینی جذبے کیساتھ ہی نبردآزما اور صدیوں سے غلامی کا شکار کشمیریوں میں بھی لبیک یا حسین ؑ کا نعرہ ہی حرارت پھونکے ہوئے ہے گویامظلومین عالم کی تمام تحاریک میں جوش و ولولے یک سبب حسینی تحریک ہے۔انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ عالم اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز پاکستان کی بقاء و استحکام کیلئے حسینیت کو مشعل راہ بنا کر اتحاد و اخوت کیساتھ عملی جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.