نئے جلوس ومجالس پر پابندی قبول نہیں؛قائد ملت جعفریہ آغاحامدموسوی نے ضابطہ عزاداری کا اعلان کردیا

ولایت نیوز شیئر کریں

نئے جلوس ومجالس پر پابندی قبول نہیں؛قائد ملت جعفریہ آغاحامدموسوی نے 19نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کردیا
آئین کے تابع رہا جائے دستور کو مطیع نہ بنایا جائے،بنیاد بل وہیں پہنچ گیا جہاں کا خمیر تھا، تمام متنازعہ بلو ں کا پنجاب میں لایاجانا سوالیہ نشان ہے؟
نئے شہر مدارس مسجدیں بن سکتی ہیں تو نئی عزاداری اور میلاد کیوں نہیں؟ ہزاروں ایف آئی آرکاٹیں پھانسی چڑھا دیں میلاد وعزا کے جلوس نکالیں گے
ہم ایران یا عربوں کے پٹھو نہیں اسی نظریے پر کاربند ہیں جو فلسطین کیلئے قائد اعظم نے دیا،اسرائیل کو تسلیم کیا گیاتو حکمران رہیں گے نہ سیاستدان!
جیسے ہم صحابہؓ کو مانتے ہیں کوئی نہیں مانتالوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے لابیاں کام کررہی ہیں،حضرت عمر خطاب ؓکی شہادت محرم سے قبل ہوئی
سوشل میڈیا پر عصبیتوں کو فروغ دیا جارہا ہے صیہونی مسلمانوں کو لڑانا چاہتے ہیں مسلمانان عالم ہوشیار رہیں،مدنی ریاست کیلئے شعب ابی طالب ؑ کی راہ پر چلنا ہوگا
وزیر مذہبی امور کالعدم جماعتوں کو ساتھ لئے پھرتے ہیں، ہماری زبانیں کاٹ دیں اعضا کاٹ دیں میثمؓ کی طرح دین و وطن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے
خارجہ پالیسی کی ناکامی کا سبب بھیک مانگناہے اوآئی سی بادشاہوں کی کنیز ہے،کعبہ اور مقامات مقدسہ کا بند ہونا مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ تھا
دشمنانِ دین و وطن پر کڑی نظر،احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ذاکرین اخوت و یگانگت کوپیشِ نظر رکھیں محرم کنٹرول روم قائم کئے جائیں،پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب

راولپنڈی /اسلام آباد( ولایت نیوز)تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامد علی شاہ موسوی نے ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محرم الحرام و ایام عزائے حسینیؑ کیلئے 19نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کردیا،نئے جلوس اور مجالس کے انعقاد پر پابندی کا فیصلہ قبول نہیں نئے شہر مدارس مسجدیں بن سکتی ہیں تو نئی عزاداریاں اور میلاد کیوں نہیں ہوسکتے گھروں کے اندر مجالس پر کیوں پابندی ہے؟ بے حیائی کی محافل کی اجازت ہے غیر مسلم عبادت کرسکتے ہیں تو شیعہ اپنی عبادات کیوں نہ کریں؟ عزاداری ہماری شہ رگ ہے کٹنے نہیں دیں گے ہم علی ؑکے پیروکار ہیں مر سکتے ہیں میلاد و عزا کو قتل نہیں ہونے دیں گے ملک پر کسی کی اجارہ داری قائم نہیں ہونے دیں گے،ہزاروں ایف آئی آر درج کریں پھانسی پر چڑھا دیں میلاد اور عزاداری کے جلوس نکالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ بنیاد بل وہیں پہنچ گیا جہاں کا خمیر تھا73 کے آئین کی موجودگی میں بلوں کی ضرورت نہیں، متحدہ علماء بورڈ سمیت کسی غیر آئینی ادارے کونہیں مانتے، آئین کے تابع رہا جائے دستورکو مطیع نہ بنایا جائے،اسرائیل کو تسلیم کیا تو حکمران رہیں گے نہ سیاستدان،ہم ایران یا عربوں کے پٹھو نہیں اسی نظریے پر کاربند ہیں جو قائد اعظم نے فلسطین اسرائیل کیلئے دیا تھا، مسلم حکمران نوالہ بھی استعماری قوتوں سے پوچھ کر ڈالتے ہیں ان کی سرتابی کیسے کرسکتے ہیں؟جیسے ہم صحابہؓ کو مانتے ہیں کوئی نہیں مانتا یوم صحابیت فخر سے مناتے ہیں لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے لابیاں کام کررہی ہیں، عائشہ نامی موساد کی خاتون ایجنٹ سوشل میڈیا پر عصبیتوں کو فروغ دینے میں مصروف ہے صیہونی مسلمانوں کو لڑانا چاہتے ہیں مسلمانان عالم ہوشیار رہیں،تمام متنازعہ بلو ں کا پنجاب میں لایاجانا سوالیہ نشان ہے ڈکٹیٹر کی باقیات تفرقہ بازی کو بھڑکانا چاہتی ہیں،خلیفہ دوم حضرت عمر خطاب ؓکی شہادت اورتدفین بھی محرم سے قبل ہوئی تفرقہ پھیلانے کیلئے کا یوم شہادت محرم میں ڈالنے کی بنیاد ڈالی گئی۔

مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بھی رسالتمآب ؐ اہلبیت و پاکیزہ صحابہ کے نقش قدم پر چلے گاکورونا جیسی آفات سے محفوظ رہے گا، کعبہ اور مقامات مقدسہ کا بند ہوناآزمائش اور مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ تھا،رسولؐ کی وصیت کے مطابق قرآن و اہلبیت کا دامن تھامے ہوئے ہیں اپنا عقیدہ سب کو بیان کرنے کی اجازت ہونی چاہئے دوسروں پر مسلط نہ کیا جائے،تمام دہشت گرد نئے ناموں سے کام کررہے ہیں وزیر مذہبی امور کالعدم جماعتوں کو ساتھ لئے پھرتے ہیں جو شہداء کے خون کو رائیگاں کرنا ہے،جنہوں نے پاکستان کیلئے خون دیا عزتیں لٹائیں وہ ملک کو برباد نہیں ہوتے دیکھ سکتے،موت سے نہیں ڈرتے میثم تمار ؓ کی طرح ہماری زبانیں کاٹ دیں اعضا کاٹ دیں دین و وطن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی عزاداری میں کسی قسم کی رخنہ اندازی برداشت کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ معاشی طور پر خود مختارملکوں کی خارجہ پالیسی کامیاب ہوتی ہے،خارجہ پالیسی کی ناکامی کا سبب دوسروں سے بھیک مانگناہے اوآئی سی بادشاہوں کی کنیز ہے اسی لئے کشمیر پر اجلاس نہیں بلاتی، مدینہ کی ریاست کیلئے شعب ابی طالب ؑ کی راہ پر چلنا ہوگااہلبیت اور پاکیزہ صحابہ والادل پیدا کرنا ہوگا،پاکستان سب سے بڑے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح ہیں انہی کی پالیسی پر چلا جائے بھوکا رہنا قبول کیا جائے ملکی مفادات پر سودابازی نہ کی جائے ہمارے اتحاد کا محور رسالتمآب ؐ، اہلبیت اطہارؑ اور پاکیزہ صحابہ کبارؓہیں ایک مدت سے مکتب تشیع کو زیادتیوں کا سامنا ہے،قائد اعظم کے بعد کوئی لیڈر نہیں آیا جو آئے انہیں مروا دیا گیاپاکستان کی بنا لا الہ اور حسینؑ ہیں،قائد اعظم کے نظریے پر پاکستان قائم رہے گا کوئی اور نظریہ نہیں لانے دیا جائے گا،، اقلیتوں سمیت تمام مکاتب کا احترام کرتے ہیں،سلطنت عثمانیہ کو توڑنا گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا ہے اکثر مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے اعلان باقی ہے، ٹرمپ کی ثالثی اگر مودی مان لیتا تو کشمیر کا حشر بھی فلسطین والا ہوتا،دنیا جان لے کہ ہم تمام مسلمان یکجان دوقالب ہیں۔ہمارا دین،قبلہ،رسول ؐ اور کتاب ایک ہے،ہم ایک اور نیک ہوکر مشترکہ دشمن کی ہر سازش و شرارت کو ناکام بنا کر دنیائے شیطانیت کو بتا دیں گے کہ کوئی طاقت ہم میں رخنہ نہیں ڈال سکتی،یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان میں محر م کو ”ہوّا“ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ساری قوت عزاداری میں رکاوٹیں ڈالنے پر لگائی جاتی ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ضابطہ عزاداری پر عمل درآمد وطن اور اہل وطن کیلئے باعث عزت ہوگا اور دشمن کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑیگا،19نکاتی ضابطہ عزاداری میں عوام پر زور دیا گیا کہ ایام عزائے حسینی ؑ کے دوران دشمنانِ دین و وطن پر کڑی نظر رکھیں اور چوکنا رہیں۔ ٭۔دوسروں کے عقائد و نظریات میں دخل اندازی نہ کی جائے اور اپنے نظریات پر قائم رہ کر شہدائے کربلا کو نذرانہ عقیدت پیش کیا جائے،٭۔تمام مکاتب کو تسلیم اور انکے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے،٭۔مذہب،مکتب اور زبان کے نام پر افتراق و انتشار کو ممنوع قراردیا جائے،٭۔مسلمہ مکاتب کو غیر مسلم کہنا قابل تعزیر گردانا جائے،٭۔کرونا سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کیونکہ احتیاط سبیلِ نجات ہے،٭۔جلوسہائے عزا کی برآمدگی21مئی85ء کے موسوی جونیجو معاہدے کے تحت یقینی بناکر مکمل تحفظ فراہم کیا جائے،٭۔علمائے کرام،واعظین اور ذاکرین اخوت و یگانگت کوپیشِ نظر رکھیں، عقائد و نظریات کو مثبت انداز میں پیش کریں اور کسی کی دلآزاری نہ کریں،٭۔عوام افواہوں پر کان نہ دھریں،کسی بھی ممکنہ مسئلے کو مقامی انتظامیہ اور ٹی این ایف جے کی محرم کمیٹی کے ذریعے حل کیا جائے،اگر خدانخواستہ کوئی مسئلہ درپیش ہو تو قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے صبر و برداشت اور افہام و تفہیم کیساتھ اسے حل کیا جائے،٭۔اتحاد و بھائی چارے کیلئے وتعاونوا علی البر والتقویٰ کے تحت باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے،٭۔ملکی سلامتی کیلئے جذبہ حب الوطنی کو ہر مقام پر ملحوظ رکھا جائے،٭۔ہوٹل،ہوسٹل،گیسٹ ہاؤس وغیرہ میں قیام کیلئے کمرہ کرایہ پر دینے سے قبل مسافر کا اصل شناختی کارڈ دیکھ کر اسکی شناخت کو یقینی بنایا جائے،٭۔نیاز،سبیل اور تبرک ہر طرح کی تصدیق کے بغیرقبول نہ کیا جائے،٭۔عزاداری کے پروگراموں میں شرکت کیلئے شرکا اور گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جائے،٭۔دینی و سیاسی لیڈران اور میڈیا منفی روش سے اجتناب کریں اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو موثر اور مثبت انداز میں روشن کریں،٭۔نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور نئے ناموں سے کام کرنے والے کالعدم گروپوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے،٭۔وزارتِ داخلہ،وزارتِ مذہبی امور،وفاقی اور صوبائی سطح پر محرم عزاداری سیل تشکیل دیئے جائیں تاکہ ممکنہ مسائل فوری حل ہوسکیں،٭۔پیروانِ امام عالی مقام ؑ تمام امور پر عزاداری کو ترجیح دیں،مومنات مخدراتِ عصمت و طہارت کے نقشِ قدم پر چل کر عزاداری میں شریک ہوں،٭۔بانیان مجالس و جلوس ضابطہ عزاداری پر خود بھی عمل کریں اور واعظین و ذاکرین کو اس کا پابند بنائیں۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ رسول کریم ؐ کے پیارے نواسے اور ان کے جانثاروں کو محرم الحرام کے مہنے میں بے دردی سے شہید کیا گیا جس میں جنگ و جدال ممنوع ہے،مام حسین کی شہادت کو قرآن مجید ذبح عظیم سے تعبیر کیا آپکی قربانی کی مثال تاریخ بشریت پیش کرنے سے قاصر ہے امام حسین ؑ کا مقصد گمراہوں اور ظالموں کو گمراہی کے عذاب سے نجات دلانا اور اللہ کی حاکمیت کا بول بالا کرنا تھا، شہادتِ امام عالی ؑ مقام کو صدیاں گزر جانے کے باوجود آپ ؑ کی محبت کشمیروفلسطین سمیت دنیا بھر میں آزادی کے متوالوں کے دلوں میں موجزن اور آپ ؑ کے اوصا ف و کمالات زبان زد خاص و عام ہیں،حضور نبی کریم ؐ نے کئی بار امام عالی مقام حضرت حسین ؑ ابن علی ؑ کی شہادت کی پیشینگوئی فرمائی آپ ؑ کی قربانی کسی ایک گروہ یا مکتب کیلئے نہیں دین کی سربلندی،شریعتِ محمدی ؐ کے عروج،احترام انسانیت اورمعراج آدمیت کیلئے تھی۔ پریس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے علمائے کرام، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی عہدیداروں،ذیلی شعبہ جات کے نمائندگان بھی موجودتھے، اس موقع پر آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے ملکی سلامتی و یکجہتی اور وباؤں کے خاتمہ کیلئے دعا بھی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.