بڑا لائحہ عمل دینے پر مجبور نہ کیا جائے،خانوادہ رسالت ؐ کے گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہر گز تاخیر نہ کی جائے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

خانوادہ رسالت ؐ کے گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہر گز تاخیر نہ کی جائے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
پاکستان ہر شے سے عزیز ہے،ہمیں کوئی بڑا لائحہ عمل دینے پر مجبور نہ کیا جائے، مشاہیر اسلام کے گستاخوں کو کھلی چھٹی دینا دو قومی نظریے کو جھٹلانے کے مترادف ہے
محمد ؐ کا سچا ترین گھرانہ ہے،خاندان رسالت ؐ کا گستاخ کاذب ودجال زمانہ ہے، نگہبان نبوت نے نصرت پیغمبرؐمیں شعب ابی طالب کی سختیاں برداشت کیں
سرکار دو عالم نے وصال ابو طالب ؑ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینے ہجرت فرمائی،ابو طالبؑ پابند دین اسلام اوروالد کل ایمان تھے، انسانیت ابو طالب ؑ کی ممنون احسان ہے
حضور اکرم ؐ کا وفات ابوطالب ؑ کو عام الحزن قرار دینا خدمات ابو طالب ؑ کا اعتراف ہے۔قائد ملت جعفریہ کا یوم نگہبان رسالت ؐ کی مرکزی تقریب سے خطاب، یکم ذیعقد یوم کریمہ اہلبیت ؑ منایا جائیگا

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماء بورڈ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے حکمرانوں، سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ نگہبان رسالت ؐ حضرت ابو طالبؑ، خاتون جنت حضرت فاطمۃ زہرا ؑ اور امام زمانہ ؑ، اہلبیت اطہار ؑ اور پاکیزہ صحابہ کبار ؓ کی توہین کا ارتکاب کرنے والے زبان درازوں سے اظہار بیزاری کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں ہر گز تاخیر نہ کریں اور ہمیں کوئی بڑا لائحہ عمل دینے پر مجبور نہ کیا جائے، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں مشاہیر اسلام کے گستاخوں کو کھلی چھٹی دینا دو قومی نظریے کو جھٹلانے کے مترادف ہے، خاندان رسالت ؐ کا ہر گستاخ بد ترین کاذب ودجال زمانہ اور محمد ؐ کا سچا ترین گھرانہ ہے،حضرت ابو طالب ؑ نگہبان نبوت، کفیل مصطفی تھے جنکاایثار و قربانی،نصرت پیغمبر ؐمیں شعب ابی طالب ؑ کے بے بہا مصائب و آلام برداشت کرنا اور حضور اکرم ؐ کا انکی وفات کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دینا خدمات ابو طالب ؑ کا اعتراف ہے اسی لیے سرکار دو عالم نے وصال ابو طالب ؑ کے بعد مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینے ہجرت فرمائی،ابو طالبؑ پابند دین اسلام اوروالد کل ایمان تھے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یوم نگہبان رسالت ؐ کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آقای موسوی نے باور کرایا کہ علمائے اخلاق کا اتفاق ہے کہ رئیس مکہ ابو طالب ؑ نے باہمی ہمدردی کے لاتعداد اسباب اپنائے جن میں سے اہم ترین عاطفت مذہبیت و دینیت ہے،یہ وہ عقیدہ و نظریہ ہے جس سے نہ صرف قرابت وطینیت اور محبت کو ترک کیا جا سکتا ہے مگر عقیدہ و نظریہ پر کسی قسم کی آنچ برداشت نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے چچا آذر انکے ہم عقیدہ نہ تھے اسی لئے ابراہیم ؑ نے عاطفت قرابت داری کے بجائے ان سے اعلان برات کیا،اسی طرح حضرت نوح ؑ اور لوط ؑ کی ازواج بھی انکے دین پر نہ ہونے کی وجہ سے انکی نوح اور لوط سے کوئی تعلق اور ہمدردی نہ تھی۔آقای موسوی نے کہا کہ حضور اکرم ؐ کے ایک چچا کا مذہب مختلف ہونے کی بنا پر قرآن نے کہا کہ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اگر ابو طالب ؑ دین محمد ؐ پر نہ ہوتے تو انکی محبت میں عظیم مصائب و آلام برداشت نہ کرتے اور حفاظت مصطفی کیلئے شجرسایہ دار نہ بنتے، اپنی اولاد پر حضور ؐ کو ترجیح نہ دیتے۔

انہوں نے کہا کہ رسول خدا کے ساتھ ابو طالب کی ہمدردی کسی دلیل کی محتاج نہیں بلکہ روشن برہان ہے کہ ابو طالب ؑ کامل الایمان تھے چنانچہ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ ؑ نے باب المکتوب میں حاکم شام کو یہ جواب دیا تھاکہ ”تیرا دادا امیہ اور میرا دادا ہاشم ہے، تیرا دادا حر ب اور میرا دادا عبد المطلب ہے،اسی طرح تیرا باپ میرے باپ ابو طالب ؑ کی مثل نہیں ہو سکتا“۔ ایک اور مقام پر حضرت علی ؑ کا ارشاد گرامی ہے کہ زمانہ اسلام میں ہمارے کارناموں تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، زمانہ قدیم میں بھی ہمارے کارنامے نہیں مٹائے جا سکتے۔ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس امر پر گہری تشویش اور افسوس کااظہار کیا کہ ایک عالمی اموی سازش کے تحت نہ صرف حضرت ابو طالب ؑ بلکہ اہلبیت اطہار ؑ اور پاکیزہ صحابہ کبار ؓ کی شان گھٹانے کیلئے انکے خلاف توہین آمیز حرکات کا ارتکاب کر کے من گھڑت احادیث گھڑی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ علی ؑ ہر معرکہ اسلام کے ہیرو ہیں جن کے سوا کسی سورما نے کفار کے مقابلے میں اپنے باپ کا نام نہیں لیاجبکہ علی ؑ نے ہمیشہ مقام فخر میں اعلان کیا کہ میں علی ابو طالب کا بیٹا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اعلان رسالت سے قبل اور زمانہ رسالت میں نہ صرف مسلمان بلکہ کفار بھی جب ابو طالب ؑ سے وباؤں کی دوری کی دعا کروانے آتے تو آپ ؑ فرماتے کہ ہلاکت اور ہر قسم کی وبا ء صرف وسیلہ مصطفی ہی سے ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی امت مسلمہ کے مصائب و آلام اور آفات وبلیات کا سب سے بڑا سبب دامن محمد ؐ سے دوری ہے۔

درایں اثنا قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق یوم ولادت نگبہان رسالت ؐ حضرت ابوطالب ؑ ملک کے دیگر شہروں کی طرح راولپنڈی ریجن میں بھی مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مساجد،امام بارگاہوں میں محافل میلاد اورتہینتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

ہیت طلبائے اسلامیہ کے زیر اہتمام عزاخانہ معصومہ قم ؑ میں محفل سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید قمر حیدر زیدی نے کہا کہ حضور ختمی مرتبتؐ کے عم بزرگوار اور شیرخدا حضرت علی ؑ المرتضیٰ کے والد نامدار رئیس مکہ کلید بردار خانہ کعبہ حضرت ابو طالب ؑ نگہبان رسالت ؐاور رسول خدا ؐکے مربی و محافظ و پاسدار تھے۔انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطالبؑ رسول اللہ ؐکے وہ عظیم حامی و طرفدار تھے جن کا چیلنج تھا کہ میری زندگی میں کوئی محمد مصطفیؐ کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ کی حضرت ابو طالب ؑ سے عقیدت و محبت لازوال تھی جنکی زندگی میں کوئی بھی حضور کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکا۔انہوں نے کہا کہ دنیائے مظلومیت کے سب سے بڑے مظلوم حضرت ابو طالبؑ ہیں جن کا پورا خانوادہ،بھتیجے حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور آپؑ کی اولاد حضرت طالبؑ و عقیل ؑ اور جعفرؑ و علیؑ نے مظلومین و مستضعفین کی نصرت و حمایت جاری رکھی بلکہ ہر دور کیلئے پیغام دیا کہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے دوست بن جاؤ چاہے وہ عرب و عجم کے ہوں یا شمال و جنوب اور مشرق و مغرب کے اور ان کا تعلق کسی بھی مسلک و ملک اور دنیا کے کسی بھی خطے سے ہو۔انہوں نے کہا کہ اس قدر عظیم ہستیوں کا احترام پوری انسایت پر لازم ہے۔ انجمن کنیزان امام العصروالزمان کے زیراہتمام شعب ابیطالب ؑ میں محفل نگہبان رسالت ؐسے خطاب کرتے ہوئے سیدہ آپاحسین نے کہاکہ حضرت ابوطالب ؑ کی سیرت وکردار اور خانوادہ رسالت کی عصمت مآب خواتین کی پیروی انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہاکہ رئیس مکہ کلید بردار خانہ کعبہ،رسول خدا ؐکے مربی و محافظ و پاسدار حضرت ابو طالبؑ کے نقش قدم پر چل کر دور حاضرہ میں انسانیت اور اسلام کو درپیش خطرات، ہر قسم کے چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

دربار عالیہ سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدی چوہڑ ہڑپال میں یوم نگہبان رسالت کی محفل سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ابو الحسن تقی نے کہاکہ حضر ت ابوطالب ؑ انبیائے ماسبق کے ترجمان بھی تھے اور اللہ کے گھر کے پا سبان اور کلید بردار بھی۔انہوں نے کہاکہ نگہبان رسالت،محسن اسلام حضرت ابو طالبؑ کی سیرت وکردار کی پیروی انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کرتمام مصائب و مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اولاد آدم کو کرامت و بزرگی عطا کی گئی ہے اور بنی آدم میں سے بزرگ ترین خانوادہ بنو ہاشم ہے،جس کے سب سے زیادہ صاحب کرامت و فضل، سردار انبیاء ؐ ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ؐہیں جن کے بعد یہ پیغام توحید آئمہ ہدی ٰ ؑ کے سپرد ہوا خانوادہ رسالت کے بعد از حضرت عبد المطلب ؑ بزرگوار حضرت ابو طالب ؑ ہیں جنہوں نے تحفظ رسالت کا فریضہ اس طرح سر انجام دیا کہ جس کی گواہی خود قرآن مجید نے دی۔ قصرابوطالب میں علامہ محسن علی ہمدانی،قصر زینب پیر گروٹی کمال آباد میں علامہ قلب عباس بخاری،مسجد حیدریہ چٹیاں ہٹیا ں میں علامہ زوار حسین مدنی نے محافل یوم نگہبان رسالت ؐ سے خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.