یوم یکجہتی کشمیر:مسئلہ کشمیرکاواحدحل حق خوداداریت کی ادائیگی ہے،آغا حامدموسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

مسئلہ کشمیرکاواحدحل اقوام متحدہ کی قراردادوں ،کشمیری کے امنگوں کے مطابق حق خوداداریت کی ادائیگی ہے،آغاحامدموسوی

بھارت اوراسکے سرپرست ذہن نشین رکھیں کہ وہ جتنے چاہے حربے اورہتھکنڈے استعمال کریں کشمیریوں کی آوازکوہرگزنہیں دباؤ سکتے

مشرقی تیمور،جنوبی سوڈان میں استصواب رائے سے اقوام متحدہ کادوہرامعیارعیاں ہوچکاہے، کشمیریوں کومسلمان ہونے کی سزادی جارہی ہے

کشمیرمیں بھارتی سامراج کے ظلم وتشددکے ہاتھوں انسانیت آج سسک رہی ہے،بھارت نے ریاست جموں کشمیرکوجہنم بنارکھاہے

اقوام متحدہ کابہترمستقبل کی تعمیر،عالمی تنازعات کے حل کا عزم عملی اقدامات کامتقاضی ہے بصورت دیگراس عالمی ادارے کا وجودبلاجوازہے

5فروری کویوم یکجہتی کشمیرمناکرعالمی سطح پر کشمیریوں کی حمایت واعانت کے عزم کی تجدید کی جائیگی۔ قائدملت جعفریہ کاکشمیرکونسل سے خطاب

اسلام آباد( ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرکاواحدحل اقوام متحدہ کے قراردادوں اورکشمیری کے امنگوں کے مطابق استصواب رائے اورحق خوداداریت کی ادائیگی ہے ،بھارت اوراسکے سرپرست ذہن نشین رکھیں کہ وہ جتنے چاہے حربے اورہتھکنڈے استعمال کریں کشمیریوں کی آوازکوہرگزنہیں دباؤ سکتے اورانہیں راہ حریت وآزادی سے نہیں ہٹا سکتے ،5فروری کویوم یکجہتی کشمیرمناکراس عزم کی تجدید کی جائیگی کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت واعانت جاری رکھے گا ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے اپنے پیش روکی تاسی میں دنیامیں امن کے فروغ کیلئے پیغام تو جاری کردیاہے تاہم عالمی ادارہ جواب دے کہ کیاوہ مقبوضہ کشمیر کے طویل ترین حل طلب مسئلے کیلئے عملی اقدامات اوراپنی قراردادوں پرعمل کرواسکے گا؟ اس کادوہرامعیاردنیاپرعیاں ہوچکاہے کیونکہ مشرقی تیموراورجنوبی سوڈان میں تواستصواب رائے کاحق دلوادیاگیاہے مگرکشمیریوں ، فلسطینیوں کومسلمان ہونے کی سزادی جارہی ہے ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے سوموارکوٹی این ایف جے کشمیرکونسل کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آقای موسوی نے باورکرایاکہ تقسیم برصغیرکے موقع پرطے کیاگیاتھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کاپاکستان کے ساتھ الحاق ہوگا مگربرطانیہ حکمرانوں اورہندولابی کی گھناؤنی سازش کے تحت جان بوجھ جوناگڑھ اورحیدردکن سمیت مختلف مسلم علاقوں کوبھارت کیساتھ ملحق کردیااوربھارت نے برطانیہ کے ہی ایماء پراپنے مسلح فوجی دستے داخلے کرکشمیرکے بڑے حصے پرناجائزتسلط جمالیااوریہ مسئلہ کشمیرخوداقوام متحدہ میں پیش کیاچنانچہ عالمی ادارے نے مقبوضہ کشمیرمیں آزادانہ رائے شماری کراکے وہاں کے عوام کی مرضی کے مستقبل کے فیصلے کی ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ قراردادیں منظورکیں مگروہ دن اورآج کادن بھارت مقبوضہ کشمیرپراپناتسلط مضبوط سے مضبوط ترکررہاہے اوراقوام متحدہ کے قراردادوں کوجوتی کی نوک پررکھے ہوئے ہے، پون صدی سے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جس کے تحت 5لاکھ کے قریب کشمیری آزادی کی جدوجہدمیں شہیدہوچکے ہیں لاکھوں جیلوں میں سزائیں بھگت رہیں ، بھارتی مظالم روزبزوربڑھتے جارہے ہیں ۔

آقای موسوی نے کہاکہ حقوق بشر کی تنظیمیں بارہابھارت کوخبردارکرچکی ہے کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی ختم کرے مگرسات لاکھ سے زائدفوجیوں کے بل بوتے پربھارت نے ریاست جموں کشمیرکوجہنم بنارکھاہے اورکشمیرانسانی حقوق سے محروم ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ان حالات میں 90ء سے کشمیریوں نے نئے جذبے کیساتھ آزادی کی مسلح تحریک شروع کررکھی ہے مگرکشمیرمیں بھارتی سامراج کے ظلم تشددکے ہاتھوں انسانیت آج سسک رہی ہے جبکہ بھارتی ننگی جارحیت اورریاستی دہشت گردی پراقوام عالم مصلحت کوشی کاشکاراورعملی اقدامات سے گریز اں ہیں ۔

قائدملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جانب سے 2019ء میں انسانی احترام کے بہترمستقبل کی تعمیراورعالمی تنازعات کے حل کے عزم کااظہارعملی اقدامات کامتقاضی ہے بصورت دیگراس عالمی ادارے کا وجودبلاجوازہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.