شیعہ سنی متفقہ فیصلہ: زمین پر رہنے والا کوئی ایسا نہیں جو سعید بن جبیر ؓ کے علم کا محتاج نہ ہو؛ امام سجاد ؑکے مستجاب الدعوات صحابی کا یوم شہادت

ولایت نیوز شیئر کریں

واسط میں حضرت سعید بن جبیر کے یوم شہادت کے مو قع جلوس عزا کا انتظا م روضہ امام حسینؑ و حضرت عباس ؑ نے کیا تھا
جلوس عزا میں عراق بھر سے ہزاروں عاشقان اہلبیتؑ و صحابہ ؓ کی شرکت
حجاج بن یوسف نے سعید بن جبیر کو عشق اہلبیت ؑ اور حق گوئی کی وجہ سے شہید کیا
سعید بن جبیر ذبح ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے سعید کی دعا کو قبول فرمایا، پھر ان کے بعد حجاج کسی کو قتل نہیں کرسکا

واسط عراق (ولایت نیوز۔ تحریر و تحقیق : خیزراں موسوی )حجاج بن یوسف کے ہاتھوں بے دردی سے شہید ہونے والے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے صحابی خیر التابعین حضرت سعید بن جبیر کے یوم شہادت کو منانے کے لیے اہل کربلا نے واسط کے جنوبی شہر قضاء الحيّ میں جلوس عزاء برآمد کیا جس کے انتظامات روضہ مبارک حضرت امام حسین علیہ السلام اور روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے شعبہ شعائر حسینی کی جانب سے کئے گئے تھے۔

حضرت سعید بن جبیر ؓ کے یوم شہادت پر جلوس عزا و مجلس میں عراق سمیت دنیا بھر سے مومنین و مسلمین نے شرکت کی ۔ کربلا سے بھی ہزاروں عزاداروں اور درجنوں مواکب نے عاشق اہلبیت اور علم و عمل کے کوہ گراں سعید کو خراج پیش کرنے کیلئے عزاداری میں شرکت کی ۔حضرت سعید بن جبیر کے مزار تک عزاداروں کو لے جانے اور واپس لانے کے لئے روضہ امام حسین ؑ و روضہ حضرت عباس علمدار ؑ کی جانب سے نے بڑي تعداد میں گاڑیاں فراہم کی گئیں ۔

جب اہل کربلا کا جلوس واسط پہنچا تو وہاں واسط کے گورنر ڈاکٹر محمد جمیل میاحی اور واسط پولیس کے سربراہ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر گورنر واسط نے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کی طرف سے ان مناسبات کو منانے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔

حضرت سعید بن جبیر کے یوم شہادت پر ہر سال ہزاروں عاشقان اہلبیت ؑ پاپیادہ بھی واسط شہر پہنچتےہیں اور تاریخ اسلام کی اس عظیم المرتبت ہستی کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں ۔

واضح رہے کہ حضرت سعید بن جبیر ؓ 46 ہجری کو پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایتھوپین نسل سے تھا۔ آپ کوفہ میں رہتے تھے اور اپنے وقت کے ایک بہت بڑے عالم تھے۔ آپ اپنے زہد اور تقوی کی وجہ سے بہت مشہور تھے اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ آپ کو 95 ہجری میں حجاج بن یوسف کے حکم پر شہید کر دیا گیا۔

ابو محمد سعید بن جبیر ؓ کو شیخ طوسی ؒ نے امام سجاد علیہ السلام کے شاگردوں میں سے قرار دیا ۔یہ بھی اپنے زمانہ کے زاہد و پارسا لوگوں میں سے تھے نیز آپ کو مؤرخین نے مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات لکھا ہے۔ سعید بن جبیر ؓ مشہور تابعین میں سے تھے ۔ اہلسنت میں انہیں افضل ترین تابعی کا اعزاز حاصل ہے ۔

مناقب آل ابی طالب کا حوالہ دے کرباقر شریف قرشی نے لکھا ہے :
ان سعید من ابرزعلماء عصرہ ،کان یسمی جھبذۃ العلماء وما علی الارض الا وھو محتاج الی علمہ (موسوعۃ سیرۃ اہل البیت جلد16صفحہ 264)
سعید اپنے زمانہ کے بارز ترین علماء میں سے تھے اور ان کوعلماء میں سے دانا ترین ہونے والا نام دیا جاتا تھا اور زمین پر رہنے والا کوئی ایسا نہ تھا جو (امام علیہ السلام کے اس شاگرد)سعید کے علم کا محتاج نہ ہو۔

رجال کشی کا حوالہ دے کر شہید ثالث ؒ رقمطراز ہیں:
“حجاج بن یوسف نے سعید کو جرمِ تشیع اور امام زین العابدین علیہ السلام کا شاگرد ہونے کی وجہ سے شہید کیا تھا ”

سعید کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف چالیس دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا اور وہ لعین مرض الموت میں بے ہوش ہو جاتا تھا اور جب ہوش میں آتا تو کہتا سعید بن جبیر ؓ آخر تو مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ حجاج لعین کو نیند آتی تو خواب میں دیکھتا کہ سعید بن جبیر  نے اس کا گریبان پکڑ رکھا ہے اور فرماتے ہیں اے دشمن خدا تو نے مجھے کس جرم میں قتل کرایا تھا ؟۔۔ (مجالس المؤمنین :صفحہ 524) وفات کے وقت سعید بن جبیر کی عمرانچاس برس تھی ۔

اہل سنت کتب تاریخ و حدیث کے مطابق حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی جلیل القدر تابعی ہیں بلکہ بعض محدثین نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو خیرالتابعین ( تمام تابعین میں بہترین )لکھا ہے۔

امام سجادؑ شیعیان اہل بیتؑ کی قلت کا شکوہ کرتے تھے انہیں مکہ اور مدینہ میں صرف چند افراد کی معیت حاصل تھی: سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، محمد بن جبیر بن مطعم، یحیی بن ام طویل، ابو خالد کابلی(معرفۃ الرجال طوسی )

یہ بھی منقول ہے کہ قتل کے بعد حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بدن سے اس قدر خو ن نکلا کہ حجاج اور حاضرین حیران رہ گئے، جب طبیب سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ قتل ہونے والوں کا خون خوف سے سوکھ جاتا ہے، مگر حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ بالکل بے خوف تھے اس لیے ان کا خون بالکل خشک نہیں ہوا اور اس قدر زیادہ خون نکلا کہ سارا دربار خون سے بھر گیا(اکمال فی اسماء الرجال ص۵۹۸وطبقات شعرانی وتہذیب التہذیب)

سعید بن جبیر ؓ اہل سنت مورخین کی نظر میں :

سعید نام،ابوعبداللہ کنیت ،بنی والبہ بن حارث اسدی کے غلام تھے، اس نسبت سے وہ والبی بھی کہلاتے تھے، ان کا شمار ان تابعین میں ہے،جو علم وعمل کے مجمع البحرین تھے۔ فضل وکمال سعید کا آغاز اگرچہ غلامی سے ہوا، لیکن آگے چل کر وہ اقلیم علم کے تاجدار بنے، حافظ ذہبی انہیں علمائے اعلام میں لکھتے ہیں امام نووی کا بیان ہے کہ سعیدتفسیر،حدیث،فقہ،عبادت اورزہد وورع جملہ کمالات میں وہ کبار ائمہ اورسرکردہ تابعین میں تھے۔(تذکرۃ الحفاظ، ذہبی)

اوراہل سنت علماء میں سے ابن کثیر جیسا شخص سعید کی مدح سرائی کیے بنا نہ رہ سکا اپنی شہرہ آفاق کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھتا ہے :
”کان سعید من ائمۃ الاسلام فی التفسیر والفقہ وانواع العلوم ،وکثرۃ العمل الصالح۔۔۔کان سعید من طلیعۃ المتقین فی عصرہ وکان ملازما لتلاوۃ القرآن الکریم وکان یجلس فی الکعبۃ المکرمۃ ویتلو القرآن فلا ینصرف حتی یختمہ ۔۔۔وکان کثیر الخشیۃ من اللہ ۔۔۔ “ (البدایہ والنہایہ :ابن کثیر جلد9صفحہ 98)

سعید اپنے زمانہ میں تفسیر ،فقہ اور دیگر انواع کے علوم میں اسلام کے اماموں میں سے تھا اور کثیر عمل صالح بجا لانے والوں میں سے تھا اور سعید اپنے زمانہ میں متقین کی پہچان تھا وہ قرآن کی تلاوت کو لازم سمجھتا اور کعبہ مکرمہ میں بیٹھ جاتا اور قرآن کی تلاوت کرتا اور اس وقت تک نہیں پلٹتا تھاجب تک قرآن ختم نہ کر لے ۔

سعید بن جبیر کی ذات جملہ علوم وفنون کی جامع تھی، جوکمالات دوسرے علما میں فرداً فرداً تھے، وہ ان کی ذات میں تنہا مجتمع تھے،خصیف کا بیان ہے کہ مسائل طلاق کے سب سے بڑے عالم سعید بن مسیب تھے،حج کے عطاء تھے،حلال وحرام کے طاؤس تھے اور تفسیر کے مجاہد تھے اوران سب کی جامع سعید بن جبیر کی ذا ت تھی۔(ابن خلکان )

وہ علم کا ایسا سرچشمہ تھے جس کی اس عہد کے تمام علما کو احتیاج تھی،میمون بن مہران کابیان ہے کہ سعید نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہ تھا جو ان کے علم کا محتاج نہ رہا ہو۔

سعید بن جبیر ؓ اور حجاج بن یوسف :

جب سے حضرت سعید بن جبیر نے کوفہ میں رہائش اختیار کی تھی ، یہ شہر حجاج بن یوسف کے زیر تسلط آچکا تھا، حجاج ان دنوں عراق، ایران اور سرزمین ماوراء النہر کا گورنر تھا، اور اس کا رعب ودبدبہ ،ظلم وستم، جبروقہر اور اقتدار واختیار نقطہ عروج پر تھا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب حجاج بن یوسف نے چاروں طرف بنوامیہ کے خلاف اٹھنے والی شورش کی آگ کو بجھادیا تھا، اس نے بندگان خدا کی گردنوں پر بے دریغ تلوار چلائی، ملک کے کونے کونے میں اپنے رعب ودبدبہ کی ایسی دھاک بٹھادی کہ لوگوں کے دل اس کی پکڑ دھکڑ سے لزرنے لگے۔ حضرت سعید بن جبیر کو بس اتنی سی جرم کی سزا میں شھید کیا گیا کہ اس نے حجاج کے بارے میں کہا تھا
” تم نے خطا کی ھے ظلم کیا ھے برائی کی ھے اور حد سے آگے بڑھ گیے ھو”

حجاج بن یوسف جو امام زین العابدین سے عقیدت کی بنا پر پہلے ہی سعید بن جبیر ؒ سے خائف تھا کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے حضرت سعید بن جبیر کو اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا،فوجی حضرت سعید بن جبیر کے گھر گیئے اور دروازے پر دستک دی،
حضرت سعید بن جبیر اس غضبناک دستک کو سمجھ گیئے۔

آپ نے پوچھا : کیا چاھتے ہو
فوجی : حجاج نے آپکو فوراََ طلب کیا ھے
سعید بن جبیر : تھوڑا صبر کرو میں آتا ہوں
اندر جاکر غسل فرمایا اور حنوط شدہ ملا عطر ( مردوں کے استعمال کے لیے) لگایا کفن پہنا اور فرمایا ” اے پرودگار میرے لیے حجاج کے شر سے کافی ھوجا”
جب سعید بن جبیر کو حجاج بن یوسف کے دربار میں پیش کیا گیا، حجاج نے انہیں کینہ پرور نگاہوں سے دیکھا اور بڑے حقارت آمیز لہجے میں پوچھا
تیرا نام کیا ہے؟
آپ نے فرمایا: سعید بن جبیر
حجاج نے کہا: نہیں بلکہ تیرا نام شقی بن کسیر ہے۔
فرمایا: میری والدہ میرے نام کے متعلق تجھ سے بہتر جانتی ہے
حجاج نے کہا: توشقی اور تیری ماں بھی شقی ہیں۔
سعید نے کہا: غیب کا علم کسی اور کو ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ ذات جانتی ہے کہ میں اور میری ماں جنتی ہیں یا دوزخی۔
تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے؟
سعید نے کہا: تم اپنے آپ سے زیادہ واقف ہو۔
حجاج نے کہا: نہیں، بلکہ میں تمہاری رائے جاننا چاہتا ہوں۔
سعید نے کہا: میری بات تمہیں مغموم کردے گی نہ کہ خوش۔
حجاج نے کہا: ٹھیک ہے ہم تم سے سنیں گے۔
سعید کہنے لگے: مجھے معلوم ہے کہ تم اللہ کی کتاب کے مخالف ہو، تم رعب جمانے کے لیے ایسی چیز کرتے ہو جو تمہیں جہنم تک پہنچائے گی۔

حجاج : میں تم کو سونے چاندی سے نوازنا چاھتا ھوں سعید کے سامنے سونے چاندی کے تھیلے ڈال دو جو فوراََ ڈال دیئے گیئے
سعید ؛ یہ کیا ھے حجاج ! اگر یہ مال تو نے اللہ ک رضا اور اللہ کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے بنایا ھے تو یہ قابل تعریف ھے لیکن اگر یہ مال تو نے غریب لوگوں اور ناجائز طریقے سے ھڑپ لی ھے تو قسم ھے تم کو روز قیامت سے ڈرنا چاھیئے،

حجاج : سعید تم ھماری طرح ھنستے کیوں نھی؟
سعید : جب میں روز قیامت کا تصور کرتا ھو کہ قبروں سے نکال دیئے جاے گے اور سینوں کے پوشیدہ راز پاش کیئے جاے گے تو میں اس دن کے ڈر سے ھنسی بھول جاتا ھو،
حجاج: تو سعید پھر ھم کو ھنسی کیوں آتی ھے؟

سعید : لوگوں کے دل یکساں نھی ھوتے حجاج۔
حجاج نے کہا: ہم تم کو ایسے قتل کردینگے جس کی مثال نھی ھوگی؟
سعید نے کہا: اے حجاج! تو اپنے لیے جیسے قتل کا طریقہ چاہتا ہے وہی اختیار کر، اللہ کی قسم تو مجھے جس طرح قتل کرے گا آخرت میں اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح تیرا قتل فرمائیں گے۔

حجاج : ہم تمھاری دنیا کو ایسی آگ میں تبدیل کردینگے جو بڑی شغلہ بار ھوگی
سعید: اگر تم ایسا کرنے پر قادر ھوتے تو میں اللہ کو چھوڑ کر تیری عبادت کرتا
پھر حجاج نے کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں معاف کردوں۔

سعید نے کہا: اگر معافی ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے،اور اس میں تمہارا کوئی کمال نہیں۔
حجاج نے کہا: اسے لے جاؤ اور قتل کردو، (جب حضرت سعید اس کے پاس سے نکلے تو ہنس دیا)
حجاج نے کہا: کس چیز نے تمہیں ہنسایا؟

سعید نے کہا: تیری اللہ پر جراءت اور اللہ کی تجھ پر نرمی نے مجھے تعجب میں ڈالا۔
تو حجاج نے کہا: اس کا سر قلم کردو اور ذبح کے لیے اسے لٹادے۔

سعید کی زبان سے جاری ہوا:
إني وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ۔ [الأنعام: 79]
’’میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمان وزمین بنایا۔‘‘

حجاج نے کہا: اس کی پشت کو قبلے کی طرف کردو۔

سعید کہنے لگے:
فَأَيْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْهُ اللّهِ [البقرة: 115]
’’تو جدھر بھی تم رخ کرو، ادھر ہی اللہ کی ذات ہے‘‘

پھر حجاج نے حکم دیا : اسے منہ کے بل لٹادیا جائے۔

سعید کہنے لگے:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى۔[طه: 55]
’’اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اسی میں لوٹائیں گے، اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے‘‘

حجاج کہنے لگا : بڑا تعجب ہے اس پر، اس موقع پر اسے یہ آیات کیسے یاد آرہی ہیں! اسے ذبح کردو!
سعید کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، حجاج یہ کلمات لو اور پھر قیامت کے دن اس کے ساتھ ملاقات ہوگی۔۔

اس کے بعد حضرت سعید نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا کہ وہ میرے بعد کسی کو قتل کرسکے۔
سعید بن جبیر کو ذبح کردیا گیا، اللہ تعالیٰ نے سعید کی دعا کو قبول فرمایا، پھر ان کے بعد حجاج کسی کو قتل نہیں کرسکا۔۔

حضرت سعید کی شہادت کے بعد حجاج صرف چالیس دن ہی زندہ رہا، یہ بھی کہا جاتا ہے وہ پندرہ دن یا صرف تین دن زندہ رہا، سخت بخار میں مبتلا ہوا اور مر گیا، یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب حسن بصری کو حجاج کے ہاتھوں حضرت سعید کے قتل کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی:
"اللهم يا قاصم الجبابرة اقصم الحجاج”. ’’اے سرکشوں کو ختم کرنے والے! حجاج کو ختم فرما‘‘
ان کی دعا کے تین دن بعد ہی حجاج کے پیٹ میں ایک کیڑہ پیدا ہوا اور وہ بری موت مرگیا۔

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حجاج کی موت سے چند دن پہلے اس کی زندگی خوابوں میں تبدیل ہوگئی تھی، اس کی نیند اڑ چکی تھی، جب بھی سونے کی کوشش کرتاخواب میں سعید بن جبیر اس کے پیروں کو کھینچتے ہوئے دکھائی دیتے، حجاج بھڑبھڑا کر چیختے ہوئےنیند سے بیدار ہوجاتا اور کہتا : ارے یہ سعید بن جبیرابھی ابھی انھوں نے میرے پیروں کو پکڑا تھا، اور کبھی چیختے ہوئے بیدار ہوتا : ارے سعید بن جبیر میرا گلا گھونٹ رہا ہے اور کبھی نیند سے یہ کہتا ہوا بیدار ہوتا: سعید بن جبیر کہہ رہا ہے کس جرم میں تونے مجھے قتل کیا؟ پھر حجاج رونے لگ جاتا اور کہتا میرا اور سعید بن جبیر کا کیا معاملہ ہے۔

حجاج بن یوسف کا بیان ھے کہ اس رات جب میری آنکھ لگ گیئ تو میں نے خود کو خون کے دریاؤں میں تیرتا دیکھا،حجاج کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اس کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ وہ راستہ چلتے ہوئے بڑ بڑاتا تھا’’ سعید بن جبیر کو میرے پاس سے ہٹاؤ‘‘ یہ بھی منقول ہے کہ بعض لوگوں نے حجاج کو خواب میں دیکھا تو اس سے پوچھا: حجاج اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ حجاج نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے بدلے مجھے ایک ایک بار قتل کیا اور سعید بن جبیر کے بدلے ستر مرتبہ قتل کیا۔

اللہ تعالیٰ تابعی جلیل حضرت سعید بن جبیر پر رحم فرمائے،جن کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا: سعید بن جبیر شہید کردیئے گئے، لیکن روئے زمین کا ہر باشندہ ان کے علم کا محتاج ہے۔
(البدایہ والتاریخ صفحہ 38 جلد 6، وسیر اعلام النبلاء جلد 4 صفحہ 330،المنتظم فی التاریخ الملوک الامم 7/7)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.