یہ نہ جائیں گے تو جنت میں نہ جائے گی بتولؑ: راجہ صاحب محمود آباد کے والد مہاراجہ محب کی مرثیہ نگاری
🍁مہاراجہ سر محمد علی خاں محبؔ🍁
21 مئی ریاست محمودآباد کے والی مہاراجہ محمد علی خاں محب کا یوم وفات ہے۔ والیان محمود آباد کی شعر و ادب سے دلچسپی اور فنکاروں کی سرپرستی کی بدولت خزانہ ادب میں جو اضافے ہوئے ہیں انھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں محب ایک اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ کی ولادت 2 جادی الثانی 1292 بمطابق 1878 میں ہوئی . غزل میں تخلص ساحرؔ جبکہ مرثیے میں محبؔ تھا۔
آپ کا جدی سلسلہ براہ راست حضرت محمدؓ بن ابی بکر تک پہنچتا ہے۔ محب کے دادا راجہ نواب علی خاں وہبؔ (شاگرد مرزا اُنس) اور والد راجہ امیر حسن خاں (شاگرد میر مونسؔ و میر نفیسؔ) دونوں صاحبِ دیوان تھے اور مرثیہ گوئی میں بھی شہرت رکھتے تھے. جب ایسے ماحول میں تربیت ہو اور ہر طرف منقبت گوئی کے چرچے اور اہل فضل و کمال کی انجمنیں آراستہ ہوں تو شعری ادب کی فطری صلاحیتیں کہاں چھپی رہ سکتی ہیں۔ جیسا کہ ایک ساقی نامہ کے بند میں محب فخر سے کہتے ہیں
آج پینے کا زیادہ ہے ارادہ ساقی
منتظر دیر سے ہوں دستِ کشادہ ساقی
اس کا حقدار ہوں میں سب سے زیادہ ساقی
میری گھٹی میں پڑا ہے یہی بادہ ساقی
یہی مشرب یہی مذہب یہی پیشہ میرا
ہے مُخَمّر اسی مے سے رگ و ریشہ میرا
خاندان محمودآباد میں مہاراجہ کا خطاب آپ کے علاوہ کسی دوسرے والی ریاست کو نہیں ملا۔ مہاراجہ محب کے فرزند محسنِ پاکستان راجہ صاحب محمود آباد سے کون واقف نہیں جب کہ ان کے چھوٹے فرزند مہاراج کمار نے "دارالتصنیف امیریہ” لکھنو سے ان کے مرثیوں کا مجموعہ شائع کروایا جو مراثی محبؔ کے نام سے منظر عام پر آیا
فخر مجھ کو ہے کہ حضرت کا ثنا خواں ہوں میں
ہمسر دعبلؒ و ہم پایہِ حساںؓ ہوں میں
شہؑ کا خادم صفتِ بوذرؓ و سلماںؓ ہوں میں
اس تعلی سے مگر دل میں پشیماں ہوں میں
جو رہے حاضر خدمت وہ ضرور اچھا ہے
مجھ سے واللہ سگ کوئے حضورؐ اچھا ہے
رتبے مرے کوئی کہاں پاتا ہے
یہ اوج کسی کے ہاتھ کب آتا ہے
وہ ہاتھ کر لے گا دستگیری محبؔ
جو ہاتھ خدا کا ہاتھ کہلاتا ہے
سبحاںؔ کا نظیر فخر حساںؔ ہوں میں
کونین کے سلطان کا ثناخواں ہوں میں
خود داد خداداد ملے جب مجھ کو
نافہموں سے کیوں داد کا خواہاں ہوں میں
مہاراجہ محب نے غزل میں ریاض خیرآبادی سے مشورہ لیا. ١٩٠٩ عیسوی میں جب محب کے بھائی صاحبزادہ محمد علی احمد خاں بھرپور جوانی کی عالم میں بن بیاہے دار فانی سے کوچ کرگئے تو دل کی بیتابیاں مرہم زخمِ جگر تلاش کرنے لگیں اور گویا ہاتفِ غیبی نے آواز دی کہ غزل کو چھوڑ کر مرثیے کے میدان میں قدم رکھو . بس اسی زمانے سے محب نے مرثیہ گوئی کی طرف توجہ کرنا شروع کی اور اپنے مرثیے کا وہ حصہ جو باعتبار ربط سب کے آخر میں پڑھا جاتا ہے سب سے پہلے نظم کیا جس کا مطلع ملاحظہ کیجیے
جب شہؑ دیں سے برابر کا برادر چھوٹا
قوت بازوئے دلبندِ پیمبرؐ چھوٹا
راحتِ روح چھپا ، زینتِ لشکر چھوٹا
جس سے تھا روشن وہ مہ انور چھوٹا
گلشن حیدرؑ صفدر کو خزاں لوٹ گئی
آگیا فرق بصارت میں کمر ٹوٹ گئی
حضرت عباسؑ کا سراپا
چشمِ پرخشم وہی اور رُخ روشن بھی وہی
لب و لہجہ بھی وہی دل بھی وہی تن بھی وہی
دست و بازو بھی وہی سینہ و گردن بھی وہی
بانکپن بھی اسی انداز کا چتون بھی وہی
شان شانوں کی عیاں کرتی ہے جعفرؑ کا شباب
دیکھنے والوں کو یاد آتا ہے حیدرؑ کا شباب
اور مندرجہ ذیل بند جس کی بیت بہت مشہور ہوئی
شائقِ علم و ہنر ، مثلِ علیؑ ہیں بالذات
خود پڑھاتے تھے انھیں شیرِ الہی دن رات
ان کو معلوم ہیں ہر عِلم کے اسرار و نکات
اک امامت کے سوا اور نہ چھوٹی کوئی بات
مثلِ سبطین دو عالم کی حکومت ملتی
بطنِ زہراؑ سے جو ہوتے تو امامت ملتی
اسی مرثیے میں حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ اور حضرت سکینہؑ کی گفتگو دیکھیے
گود میں بیٹھ کے بابا کی سکینہ نے کہا
پانی لے آنے کا عمو نے کیا تھا وعدہ
دیکھو بابا نہ چچا آئے نہ پانی آیا
رو کے بیٹی سے یہ فرمانے لگے شاہِ ہدا
شکوہ وعدہ خلافی مری جانی کیسا
بہہ گیا خون علمدار کا ، پانی کیسا
ایک مرثیے میں وہابی نجدیوں کے ہاتھوں جنت البقیع مسمار کیے جانے پر آپ نے اپنے مجروح احساسات کو اس طرح نظم کیا ہے
آج ہے تختِ حکومت پہ وہ نجس و مردود
نہ مسلمان نہ کافر نہ مجوسی نہ یہود
پیروِ سیرتِ حجاج و یزید و نمرود
گورکن ، عہد شکن ، اہلِ دغا ابنِ سعود
ہائے افسوس ہے کیسی یہ جفا تھی جو ہوئی
کسی مذہب میں یہ بدعت نہ روا تھی جو ہوئی
محب کا ایک مرثیہ عزاداروں سے خطاب سے شروع ہوتا ہے ، لیکن یہ خطاب جوش کے ‘عزاداران حسینؑ سے خطاب’ سے بالکل مختلف ہے اور اس کے برعکس ہے. جوش نے عزاداروں کے رویے پر تنقید کی ہے جب کہ مہاراجہ محب نے عزاداروں کو خوش خبری دی ہے
اے محب خوب ہوئی مجلسِ ماتم میں بکا
مرتضیٰ روتے ہیں ، گریاں ہیں رسولِؐ دو سَرا
جلوہ فرما ہیں پسِ پردہ جنابِ زہراؑ
حق میں ہم سب کے بصد عجز یہ کرتی ہیں دعا
حشر تک خوش رہیں منہ اشکوں سے دھونے والے
یا الہی جئیں شبیرؑ کے رونے والے
یہ چمن تازہ و خرم ہے انہیں کے دم سے
مشتہر خلق میں یہ غم ہے انہیں کے دم سے
روز عاشور ، محرم ہے انہیں کے دم سے
میرے مظلوم کا ماتم ہے انہیں کے دم سے
پایہ عرش قیامت میں ہلاے گی بتولؑ
یہ نہ جائیں گے تو جنت میں نہ جائے گی بتولؑ
سن لیا اہل عزا آپ نے اپنا اعزاز
آپ کو رحمت باری نے کیا سر افراز
آپ ہیں امت محبوب خدا میں ممتاز
آپ کی ذات پہ خود حیدر و زہرا کو ہے ناز
جان دینے کو غم شاہ میں تیار ہیں آپ
کیوں نہ ہو کیسے بہادر کے عزادار ہیں آپ
امام حسینؑ کی مدح
جن میں حیدرؑ کی ہے طاقت وہ بہادر ہیں حسینؑ
جن سے ہے دین کی عزت وہ بہادر ہیں حسینؑ
جن کی جرات کی ہے شہرت وہ بہادر ہیں حسینؑ
ختم جن پر ہے شجاعت وہ بہادر ہیں حسینؑ
آپ کا رنج کسی طرح گوارا نہ کیا
حد یہ ہے آپ سے اولاد کو پیارا نہ کیا
صبح عاشور کا منظر
صبح عاشور جو ہوئی رن میں عیاں
آے دیوھڑی پہ رفایقانِ شہؑ زماں
لحن دلکش سے کہی اکبرؑ غازی نے اذاں
لاے تشریف مصلے پہ امامِ دو جہاں
فرض معبود ادا کرکے نمازی اٹھے
ایک جگہ خلافت باطلہ کی تردید میں حضرت عباسؑ کی زبانی وہ دلائل پیش کیے ہیں جو جنابِ سیدہؑ کے خطبہ عالیہ میں ضوفشاں ہوئے تھے
یہ غلط ہے کہ نبی کے نہیں ہوتے ورثا
ملکِ داؤد وراثت میں سلیماںؑ کو ملا
ورثہ دار ذکریاؑ تھے جناب یحییٰؑ
جانشین حضرت ہارونؑ کو موسیٰؑ نے کیا
بس اسی طرح وصئ غالبِ ہر غالب ہیں
بعد احمدؐ کے علیؑ ابن ابی طالبؑ ہیں
بعد اختتام رجز گھوڑے کی تعریف میں یہ بند بلندی تخیل کے ساتھ سائنس کے بعض حقائق پر بھی روشنی ڈالتا ہے
پہنچے یہ منزلِ مقصد پہ صدا سے پہلے
ختم چکر کرے دورانِ سما سے پہلے
جائے تا عرش یہ بیکس کی دعا سے پہلے
آئے دنیا میں ستاروں کی ضیاء سے پہلے
پیچھے مرکب کے ہوا ٹھوکریں کھا کر رہ جائے
برق نقشِ قدم آنکھوں سے لگا کر رہ جائے
امام حسینؑ کے لشکر کی مدح
شور ہے دبدبہ و شوکت شاہی دیکھو
سپہ ظلم پہ آتی ہے تباہی دیکھو
لشکر دلبر محبوب الہی دیکھو
رستم عصر ہے ہر ایک سپاہی دیکھو
جنگ تنہا کریں لاکھوں سے دلاور ایسے
ڈھونڈو دنیا میں تو پاؤ نہ بہتر ایسے
منتخب دہر میں ہے نام خدا ایک سے ایک
ہمت و شوکت و جرات میں سوا ایک سے ایک
شیر دل ایک سے ایک اہل وفا ایک سے ایک
عاشق صادق شاہ شہدا ایک سے ایک
دل میں ٹھانے ہیں کہ مولا کی رفاقت نہ چھٹے
جان جاتی رہے پر دامن حضرت نہ چھٹے
اور اس بند میں کس خوبی سے ان شہیدوں کی عزاداری کو بیان کیا ہے
لوگ سر پیٹیں گے ذکر آے گا جس دم ان کا
درد بھولے گا نہ ہرگز دل عالم ان کا
ہوگا غم اپنے غموں سے بھی مقدم ان کا
مومن ایمان کا جز سمجھیں گے ماتم ان کا
مستعد ہوگا جہاں تعزیہ داری کے لئے
مجلسیں ہوں گی بپا گریہ و زاری کے لئے
جنگ خیبر والے مرثیے میں تولاے جناب امیر کے وہ بے پناہ جذبات موجزن ہیں جن کی تعریف میں زبان لال ہے۔ اس میں ساقی نامے کا ایک بند ہے جو بلکہ اپنی نظیر آپ ہے
ساقیا اذن کے طالب ہیں تیرے سودائی
رہبری بخت نے کی بعد جہاں پیمائی
ہوس بادہ پرستی ہمیں یاں تک لائی
شکر صد شکر تمناے دل بر آئی
راستہ پا گئے ہم میکدے میں آنے کا
یہی منبر تو ہے زینہ ترے میخانے کا
امام حسینؑ حضرت زینبؑ سے رخصت ہورہے ہیں اور صبر کی تلقین فرما رہے ہیں
صبر و تسلیم تو شیوا ہے تمہارے گھر گا
صبر مشہور ہے آفاق میں پیمبرؐ کا
صبر میں کوئی مقابل ہی نہ تھا حیدرؑ کا
صبر ہے بعد علیؑ یاد تمھیں شبرؑ کا
گزرے جو بعد نبیؐ رنج و محن یاد کرو
صبر خاتونِؑ قیامت کا بہن یاد کرو
تحریک پاکستان کے سلسلے میں آپ نے مسلم لیگ کی ہر طرح مدد کی یہاں تک کہ اپنے جگر گوشہ ولی عہد امیر احمد خاں المعروف راجہ صاحب محمودآباد کو کمسنی میں ہی اپنے دوست محمد علی جناح کی خواہش پر ان کے سپرد کردیا تھا۔ انتقال سے ایک سال پہلے مہاراجہ صاحب نے حضرت ابوالفضل عباس کے حال کا مرثیہ مکمل کرکے شہزادہ علی اکبر کے حال کا مرثیہ لکھنا شروع کیا لیکن وہ ناتمام رہ گیا . فقط 22 بند کہنے پاے تھے کہ شدت مرض نے قواے دماغی کو کافی مضمحل کردیا . غرض کہ 4 محرم 1351 ہجری بمطابق 21 مئی 1931 کو وقت فجر سراے فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرماگئے۔ پروردگار مغفرت فرمائے
ترتیب و انتخاب و پیشکش : ذیشان زیدی
