ملت جعفریہ پاکستان کرب میں مبتلا ہے، 25 رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کا بھر پور خیر مقدم ،قیادت کے ہر لائحہ عمل پر لبیک کہیں گے، عزاداری کنونشن کا اعلامیہ

ولایت نیوز شیئر کریں

ملت جعفریہ پاکستان کرب میں مبتلا ہے، شیعہ عقائد ونظریات پر ڈاکہ قابل تشویش ہے۔اعلامیہ عزاداری کنونشن
 وطن عزیز پاکستان کو مخصوص فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے اور مکتب تشیع کے مذہبی و آئینی حقوق پر ڈاکے ڈالنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے
عزاداری کیخلاف ناروا پابندیوں سمیت ظالمانہ و متعصبانہ اقدامات کو سب سے پہلے مسترد کرنے پر قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد موسوی کو خراج تحسین
پہلے مرحلے کے طور پر 25 رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کا بھر پور خیر مقدم ،قیادت کے ہر لائحہ عمل پر لبیک کہیں گے  
لائقِ احترام آئمہ اہلبیتؑ کا نصاب میں کوئی ذکر نہیں ، ملوکیت کی جانب دھکیلنے والے متنازعہ کرداروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا خیانت ہے
امن پسند اہل تشیع کی شیڈول فور میں شمولیت ، انتہا پسندوں کو ریلیف اور بے گناہوں کو ٹارچر کرنے کے مترادف ہے
 پوری قوم مرکزمکتب تشیع کے لائحہ عمل پر لبیک کہنے کیلئے تیار ہے ۔فیاض حسین شاہ کاظمی کی میزبانی میں منعقدہ عزاداری کنونشن سے علماء و ذاکرین کا خطاب

اسلام آباد( ولایت نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بانیان مجالس ،عزاداروں ،ماتمی سالاروں،واعظین و ذاکرین نے وطن عزیز پاکستان میں مکتب تشیع کے خلاف تعصب پر مبنی امتیازی سلوک ، اسکے تحت اٹھائے جانیوالے حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے پر قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کو مخصوص فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے اور مکتب تشیع کے مذہبی و آئینی حقوق پر ڈاکے ڈالنے کی مسلسل کوششیںکوناکام کرنے کیلئے پہلے مرحلے کے طور پر 25 رجب کو ملک گیر ماتمی احتجاج کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انکے ہر لائحہ عمل پر لبیک کہنے کے عہد کا اظہار کیا ہے ۔

عزادار سید فیاض حسین شاہ کاظمی برادران کی میزبانی میں مرکزی امام بارگاہ قصر امام موسیٰ کاظم آئی ٹن سادات کالونی اسلام آبادمیں منعقدہ عزاداری کنونشن میں اعلامیہ پیش کرتے ہوئے صدر ٹی این ایف جے فیڈرل کیپٹل علامہ بشارت حسین امامی نے ا س امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ یکساں نصاب تعلیم میںدرود ابراہیمی ؑ میں قرآن و سنت کے منافی اضافہ قابل تشویش ہے ،نبی ؐپاک کے والدین اور اجداد کے ایمان کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اہلبیت ؑ جن کے ذکر کے بغیر دینی تعلیم مکمل ہی نہیں ہوتی انکے ذکر سے حد درجہ اجتناب کیا گیا ہے جبکہ متنازعہ کرداروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے،ختمی مرتبت ؐ کے آبائو اجداد،والد گرامی حضرت عبداللہ،والدہ حضرت آمنہ ،چچا حضرت ابوطالب ؑکا ذکر اس انداز میں شامل کیا گیا ہے کہ جیسے وہ مسلمان ہی نہیں ،جن مشاہیر اسلام کی وجہ سے اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچا انہیں نصاب میں یکسر نظر انداز کیا گیا ہے،علاوہ ازیں ایسی بہت سی چیزیں نصاب میں شامل کردی گئیں ہیں جو سنی شیعہ دونوں مکاتب کیلئے ناقابل قبول ہیں،بدر و احد اور خندق و خیبر جیسی اسلامی جنگوں کے ہیرو حضرت علی ؑ ابن ابی طالب ؑ کا ذکر نکال دیا گیا ہے،قومی ا سمبلی سے فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کے پرسنل لاء کو پامال کرکے متنازعہ فیملی لازاکثریتی بل بوتے پر منظور کروانا سراسر زیادتی ہے ،نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کالعدم و تکفیری گروپوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے،جلسوں میں حکومتی وزراء کی موجودگی میں شیعہ کافر کے نعرے سر عام لگائے جا رہے ہیںاور انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ خانہ پری کیلئے اہل تشیع کو شیڈول فور میںبلا وجہ ڈالا جا رہا ہے ،حکومتی کمیٹیوں اور اداروں میں مکتب تشیع کی غیر نمائندہ شخصیات کو صرف اپنی ذاتی پسند اور تعلقات کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سارے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

اعلامیہ میں باورکرایاگیاکہ حکومتی یکساں نصاب میںمسلمہ مکاتب فکر کے عقائد و نظریات کی تردید بھی کی گئی ہے جسے پڑھنے کے بعد طلباء کے اندر ایک مخصوص فکر کے علاوہ دیگر مکاتب کو غلط تصور کرنیوالی تکفیری سوچ ہی پروان چڑھے گی اور معاشرہ اسی شدت پسندی کی جانب بڑھے گا جس سے چھٹکارے کیلئے لاتعداد قربانیاں دی جا چکی ہیں،لہٰذا ملت جعفریہ کو ایسا متعصبانہ نصاب کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔عزاداری کنونشن کے اعلامیہ میں کہاگیاکہ  گزشتہ ماہ جون میں قومی اسمبلی اور نومبر 2021 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کیلئے منظور کیا جانیوالا فیملی لاز ترمیمی بل مکتبِ تشیع کے عقائد اور فقہ سے ہی متصادم اور آئین کے آرٹیکل 227 کے بھی منافی ہے ،اس بل کے ذریعے وراثت کی تقسیم کے معاملے میں اہل تشیع پر انکے فقہی اصولوں سے متصادم قانون کا اطلاق کر کے فقہ جعفریہ پر حملہ اور مستقبل میں فقہ جعفریہ میں بیرونی مداخلت و ترمیم کا دروازہ کھولا گیا ہے جو قابل مذمت ہے ۔

اعلامیہ میں واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ اہل تشیع اپنے عقائد سے متصادم کسی قانون کو قبول نہیں کریں گے ۔عزاداری کنونشن کے اعلامیہ میں کالعدم دہشتگرد جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے بچانے کیلئے ملک کے کئی مقامات پر خانہ پری کیلئے امن پسند اہل تشیع کو شیڈول فور میں شامل کرنے کی مذمت بھی کی گئی جو انتہا پسندوں کو ریلیف اور بے گناہوں کو ٹارچر کرنے کے مترادف ہے ۔

اعلامیہ میں بلوچستان میں بہادر پاک فوج پر دہشتگرد حملوں کو پاکستان کی غیرت و حمیت پر حملہ قراردیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے اس مطالبے کی تائید کی گئی کہ وہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام کالعدم جاعتوں پر عملی پابندی عائد کی جائے اورانہیں نئے اور پرانے نام استعمال کرکے کام کر نے سے روکا جائے۔ شرکائے عزاداری کنونشن نے بلندحیدری نعروں کی گونج میں مرکز مکتب تشیع سے قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے لائحہ عمل پر بھرپور لبیک کہنے کے عہد کا اظہار کیا ۔

عزاداری کنونشن سے علامہ سیدقمرحیدرزیدی ،ذاکرسیدضرغام عباس شاہ ، ذاکرملک علی رضاکھوکھرایڈووکیٹ ،ذاکرمشتاق حسین شا، ذاکرعلی عباس ملک، ذاکراعجازجھنڈوی ،علامہ سیدتصورحسین نقوی، ذاکررضوان قیامت ، ذاکریاسرجھنڈوی، ذاکرذریت عمران شیرازی، ذاکر علی احمدجوئیہ اور ملک کے نامور علمائے کرام،واعظین اور ذاکرین نے خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.