بیوروکریسی میں تعصب کا رجحان تشویشناک؛ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے انتہا پسند افسر کے خلاف اقدامات پرعدم اطمینان اورسول سروس سیلیکشن پر سنگین تحفظات کا اظہار کردیا

ولایت نیوز شیئر کریں

لاہور( ولایت نیوز) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے فیصل آباد کے ایڈیشنل کمشنر ایوب بلوچ کی جانب سے ایک سکول میں مکتب تشیع کے خلاف متعصبانہ تقریر پر حکومتی ایکشن کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعصب افسر کو برطرف کیا جائے ۔نیز تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سول سروس سیلیکشن پر سنگین تحفظات کا اظہار کردیا ۔ بیورو کریسی سیلیکشن کے نظام کا اہم ترین عہدوں کیلئے انتخاب کرتے ہوئے ان کے خطرناک رجحانات بھانپنے میں ناکام رہنا لمحہ فکریہ ہے ۔

وزیر اعلی ،گورنر، چیف سیکرٹری سمیت حکومتی زعما کے نام مراسلوں میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی ترجمان نے کہا کہ ایک اہم سرکاری عہدے پر تعینات شخصیت کی جانب سے پاکستان میں بسنے والے مسلمہ اسلامی مکتب کو سرعام توہین و تنقیص کا نشانہ بنانا جہاں انتہائی قابلِ مذمت ہے، وہیں یہ سرکاری ملازمت کے قوائد و ضوابط، اور پاکستان کے قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور سول سوسائٹی کے شدید احتجاج پر اگرچہ کمشنر فیصل آباد کی جانب سے ایڈیشنل کمشنر محمد ایوب کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم اس واقعہ کی سنگینی اورپس منظر کے تناظر میں یہ اقدام ناکافی ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے سرکاری منصب کومتشدد تکفیری مائنڈ سیٹ کے فروغ اور مسلمہ اسلامی مکتب کی تکفیر کیلئے استعمال کرنے والے محمد ایوب خان کو مکمل طور پر سرکاری ملازمت سے فارغ کر کے اسکے خلاف مقدمہ کا اندراج اور قانونی کاروائی کر کے کڑی سے کڑی سزا دی جائے جبکہ اسے نشر بھی کیا جائے تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں۔

ترجمان نے مراسلے میں دیرپا و دور رس اقدامات کا مطلالبہ کرتے ہوئے درج ذیل سوالات بھی اٹھائے کہ

٭ ایک متشدد اور تکفیری سوچ کا مالک شخص اسقدر اہم اور اعلیٰ عہدے پر کیسے تعینات کر دیا گیا؟
٭ اعلیٰ عہدوں کے لیے افسران کے تربیتی عمل میں ایسی متعصبانہ سوچ اور فکر کی شناخت اور اسکا اخراج کیوں نہیں کیا جا سکا؟
٭ وہ کیا عوامل ہیں جنہوں نے محمد ایوب خان کو اپنے سرکاری منصب اور قوائد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مسلمہ اسلامی مکتب کے طریقہ ِعبادت کی توہین پر مائل کیا؟
٭ کیا عوامی خدمت کیلئے مقرر کیے جانیوالے افسران کی ایسی متشدد و متعصبانہ سوچ کی موجودگی میں ان سے منصفانہ اقدامات اور بلا امتیاز قومی خدمت کی توقع کی جاسکتی ہے؟
٭ محمد ایوب خان بلوچ کے ذاتی تعلقات اور سوشل سرکل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ اسکے حلقہ احباب و انحصار میں ممکنہ طور پر کالعدم متشدد جماعتوں کے امکان کا سراغ لگایا جاسکے۔
٭ کیا ایسے متعصب شخص کا کسی بھی نوعیت کی سرکاری ملازمت یا عہدے پرفائض ہونا حکومت و انتظامیہ کی ساکھ اور قومی یکجہتی و مساوات کیلئے نقصاندہ نہیں ہے؟

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی ذمہ داران نفرت و اشتعال انگیزی اور توہین ِ مذہب کے مجرم افسر کے خلاف فوری قانونی کاروائی کر کے اسے کڑی سے کڑی سزا د یں گے تاکہ مکتب ِ تشیع کوپنہچنے والے رنج و غم کا ازالہ، متعصبانہ سوچ کی سرکاری سرپرستی کے تاثر کی نفی اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کی فتح ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.