چار محرم 61ھ: مسجد کوفہ میں قتل حسینؑ کے مباح ہونے کا فتوی سنا دیا گیا

ولایت نیوز شیئر کریں

چار محرم الحرام (61 ہجری) کو کوفہ کے والی عبید اللہ بن زیاد نے مسجد کوفہ میں ایک دھمکی آمیز خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین علیہ السلام کی مدد کرنے والوں کو قتل اور سزائے موت دینے کی دھمکی دی، اور ساتھ ہی امام حسین علیہ السلام کے خون کے مباح ہونے کے متعلق قاضی شریح کا فتوی بھی پڑھ کر سنایا۔

ابن زیاد نے کوفہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا، تاکہ اہل کوفہ اور باقی علاقوں کے رہنے والوں کو امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے روکا جا سکے۔

ابن زیاد نے کچھ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور کچھ کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور بہت سے مخلص لوگوں کو گرفتار کر کے زندان میں ڈلوا دیا ( زندان میں ڈالے گئے یہی لوگ جب باہر نکلے تو انھوں نے اپنے لیے توابین کا لقب اختیار کیا اور سلیمان بن صرد کی سربراہی میں اموی حکومت کے خلاف جنگ کی اور جام شہادت نوش کیا۔)

قبائل کے سرداروں کی ایک بڑی تعداد بنو امیہ کی محبت یا مال کی لالچ میں ابن زیاد کے ساتھ مل گئی اور قبائلی نظام کے تحت اہل قبائل نے اپنے سرداروں کی فرمانبرداری کرتے ہوئے علوی محبت کے حامل لوگوں کے خلاف جںگ کی اور بنو امیہ کی مدد کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.