سلام فاطمہؑ: ایئر یونیورسٹی کے طالبعلم نے سفر کربلا کا انعام جیت لیا ؛ روحانیت سے لبریزمقابلہ منقبت خوانی خوشگوار یادیں چھوڑ گیا

ولایت نیوز شیئر کریں

راولپنڈی (ولایت نیوز) مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ذیلی ادارے بزم مختار کے زیر اہتمام سیدہ کونینؑ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت پرنور کی مناسبت سے منعقدہ مقابلہ منقبت خوانی ’ سلام فاطمہ ؑ‘ ایئر یونیورسٹی کے طالبعلم سید حسن رضا نقوی نے جیت لیا ۔

مقابلہ منقبت خوانی مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دو روزہ عزم نو کنونشن کی تقریبات کا اہم حصہ تھا جس کا مقصد نوجوان نسل میں منقبت خوانی و ذکراہلبیت کے شوق کو مہمیز کرنا تھا ۔ مقابلہ نعت خوانی میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں سے انٹریز بھیجنے والوں میں سے چودہ منقبت خوانوں کو منتخب کیا گیا تھا ۔

ذاکر مطیع الحسن کاظمی کے قصائد کی گونج میں مرکزی ماتمی حیدری دائرہ کی سرکردگی میں خطہ پوٹوھار کی نوحہ خوان و ماتمی تنظیموں کے عمائدین کے ہمراہ مشعل بردار جلوس کی آمد نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے ۔ جس کے فوراً بعد مقابلہ منقبت خوانی کاباقاعدہ آغاز ہوا۔

مقابلے کے ججز معروف نعت خواں و منقب گزار سید اعزاز نقوی ، سید فرجاد مہدی اور شیخ وسیم عباس تھے ۔

شرکائے مقابلہ نے اس خوبصورت لحن اور کلام کے ساتھ شانِ خاتون جنتؑ میں مدح سرائی کی کہ ججز کو بار بار منقبت خوانوں کو سننا پڑا اور ایک انتہائی سخت مقابلے کے بعد ایئر یونیورسٹی کے سید حسن رضا نقوی کو سفر کربلا اور گولڈ میڈل کا حقدار قرار دیا گیا جسے کاروان سراج اللہ کی جانب سے سپانسر کیا گیا تھا۔ سلور میڈل کے حقدار ماڈل کالج لالہ زار کے سید محمد حیدر اور سیکنڈ رنر اپ ٹرافی گورڈن کالج کے حقدار سید واصف کاظمی بنے جنہیں جہان انٹرنیشنل ٹورز کی جانب سے خصوصی گفٹ ہیمپرز دیئے گئے ۔

شرکائے مقابلہ کے انداز منقبت خوانی کو سراہتے ہوئے ججز کی یہ مشترکہ رائے تھی مدح محمد ؐ و آل محمد ؐ کی دنیا میں ہمیشہ اجالا اور ہریالی رہے گی ۔

مقابلے کے مہمان خصوصی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی نائب صدر معروف عزادار باوا سید فرزند علی شاہ ، علامہ قمر حٰدر زیدی ، علامہ شبیہہ الحسن کاظمی اورمختار فورس کے چیئرمین چوہدری مشتاق حسین تھے ۔

شرکاء مقابلہ کے جوش و جذذبہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے باوا سید فرزند علی شاہ نے کہا کہ شان فاطمہ میں لب کشائی کی سعادت خوش نصیبی کی علامت ہے ۔

خطیب فاتح فرات علامہ قمر حیدر زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہؑ زہراؑ کی زندگی سادگی اور وقار کا حسین امتزاج ہے۔ بچپن میں رسولِ خداؐ کے دکھ بانٹے، جوانی میں گھر کو جنت کا نمونہ بنایا اور ماں بن کر ایسے فرزند عطا کیے جنہوں نے حق و باطل کے فرق کو قیامت تک کے لیے واضح کر دیا۔ آپؑ کی دعا میں امت تھی، آپؑ کی نگاہ میں مظلوم تھا، اور آپؑ کے عمل میں خالص رضائے الٰہی کا حصول تھا فرشتے آپکے در کے بھکاری تھے ۔

شرکائے مقابلہ سے خطاب کرتے ہوئے ٹی این ایف جے کے ریجنل صدر علامہ سید شبیہ الحسن کاظمی کہا کہ سلام ہو اُس فاطمہ زہراؑ پر جسے رسولِ خداؐ نے دل کا سکون، آنکھوں کی ٹھنڈک اور امت کے لیے معیارِ ہدایت قرار دیا۔ سلام ہو حضرت فاطمہؑ زہراؑ پر، جو عصمت، طہارت، صبر اور ایثار کی زندہ تصویر ہیں۔ آپؑ کی ذات اسلام کے اُس روشن باب کی علامت ہے جس میں عبادت بھی ہے، خدمت بھی؛ خاموشی بھی ہے، اور حق گوئی کی بلند صدا بھی تھی۔

مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئر مین سید محمد عباس کاظمی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہؑ زہراؑ خواتین ہی نہیں، پوری انسانیت کے لیے نمونۂ عمل ہیں۔ عفت و حیا، علم و شعور، حق پر استقامت اور ظلم کے سامنے خاموش احتجاج—یہ سب آپؑ کی سیرت کے روشن پہلو ہیں۔ آج کے دور میں بھی اگر فرد اور معاشرہ فاطمیؑ کردار کو اپنا لے تو عدل، محبت اور امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نسل نو کی فکری و نظریاتی تربیت اور کردار سازی کیلئے قائد ملت جعفریہ آقای سید حامد علی شاہ موسوی کی تعلیمات کی روشنی میں جدوجہد جاری رکھے گی ۔

استقبالی کلمات مختار جنریشن کے نمائندگان ثائب علی جعفری اور رہیب احمد اعوان نے ادا کئے ، کم سن منقبت خوانوں سید زیاف حیدر کاظمی اور اواب حیدر موسوی نے بھی مخصوص انداز میں بارگاہ فاطمیہ ؑ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

ذاکر زوہیب الحسن آف چکری نے بھی محفل سے خطاب کیا اور کہا کہ زمین حضرت فاطمہ زہراؑ کا حق مہر ہے اسی لئے ہمارے علاقے میں آج بھی لوگ قبر کھودنے سے پہلے سادات سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔

جب تقریب کے اختتام پر نصف شب کو تمام ججز اور منقبت خوانوں نے مشہور منقبت ’لیلۃ القدر کا ترجمہ فاطمہ ؑ ‘ پڑھنا شروع کی اور اعزاز نقوی نے شان سیدہ زینبؑ میں چند مصرعے کہے تو تقریب میں روحانیت اورکیف و سروس کا دور دورہ ہوگیا ۔ لاتعداد آنکھیں اشکوں سے تر بھی نظر آئیں ۔

سلام فاطمہؑ کی صورت بزم مختار کی ایک منفرد کاوش خوشگوار یادیں چھو ڑ کرنصف شب کو اختتام پذیر ہوگئی اور شرکاء محفل ہی نہیں والعصر پر لائیو دیکھنے والے بھی سلامتی اور خیر کی خیرات سے جھولیاں بھرنے میں کامیاب نظر آئے جس کا تمام تر کریڈٹ راہ موسوی ؒ پر گامزن مختار سٹودنٹس آرگنائزیشن کے نوجوانوں اور ان سے تعاون کرنے والے منتظمین کو جاتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.