گھر گھر چودہ ستارے اتارنے والے علامہ نجم الحسن کراروی
علامہ نجم الحسن کراروی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ علامہ سید نجم الحسن رضوی کراروی ہندوستان کے ایک مشہور شیعہ عالم دین اور مذہبی مصنف تھے۔ ۹ رمضان المبارک آپ کا یوم وفات ہے ۔
عام فہم انداز میں سیرت معصومینؑ کی پہلی ڈکشنری چودہ ستارے کی صورت میں جس نے جمع کی وہ علامہ نجم الحسن کراروی تھے ۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ چودہ ستارے بھی برصغیر پاک و ہند میں محبان اہلبیتؑ کی بیٹیوں کے جہیز میں دی جاتی تھی ۔
ہر ذاکر اور صاحب منبر کی پہلی کتاب چودہ ستارے ہوا کرتی تھی آپ نے صرف چودہ ستارے ہی نہیں دیگر سینکڑوں کتب اور رسالے تحریر کئے قوم کی فکری رہنمائی کیلئے شہاب ثاقب کا اجراء کیا
مدرسۃ الواعظین لکھنو کی روشنی لیکر پشاور کے افق سے مہتاب کی صورت چمکنے والے علامہ نجم الحسن کراروی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ انہوں نے علم اور تاریخ کو معرفت کے ساتھ جمع کیا جو روایت شان اور فرمان معصومینؑ سے مطابقت رکھتی نظر نہ آئی اس کو دلائل کے ساتھ رد کیا ۔

علامہ نجم الحسن کراروی 2 صفرالمظفر سنہ 1337ھ مطابق 7 نومبر 1918ء بروز پنجشنبہ، قصبہ کراری ضلع الہ آباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید فیض محمد کربلائی تھا۔ ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کرنے کے بعد سنہ 1927ء میں آپ مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخل ہوئے۔ وہاں تین سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلطان المدارس چلے گئے،
سنہ 1934 میں الہ آباد یونیورسٹی سے "فاضل فقہ” لکھنو یونیورسٹی سے ” دبیر کامل” اور جامعہ سلطانیہ لکھنو سے "سند الافاضل ” کا امتحان پاس کیا۔ سنہ 1936 میں الہ آباد یونیورسٹی سے "فاضل طب” اور شعیہ عربک کالج سے ” عماد الادب” کا امتحان پاس کیا – سنہ 1938 میں "صدر الافاضل ” کی سند حاصل کی۔
سلطان المدارس سے صدرالافاضل کرنے کے بعد آپ نے مدرسۃ الواعظین میں داخلہ لیا۔ اس وقت علامہ سید عدیل اختر مدرسہ کے مدیر تھے جو آپ کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ چنانچہ سنہ 1939ء میں کسولی ضلع انبالہ کے ایک پنڈت، جن کا نام نیک رام تھا، مدرسۃ الواعظین میں آکر مسلمان ہوئے اور اس کے بعد ان کا نام غلام الحسنین رکھا گیا، علامہ عدیل اختر نے انھیں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ کے سپرد کیا اور آپ نے انھیں تقریباً چھ مہینہ تک دینی تعلیم دی۔

آپ کے مشہور اساتذہ مندرجہ ذیل ہیں:
1: علامہ نجم الحسن امروہوی، ناصر الملت علامہ سید ناصر حسین موسوی،: علامہ ابن حسن نونہروی، علامہ ظہور حسین
1941ء میں آپ نے قصبہ کراری میں ایک مدرسہ بنام مدرسہ امجدیہ قائم کیا ۔
تقسیم ہندوستان کے بعد آپ پاکستان کے شہر پشاور ہجرت کر گئے، اور مرکزی شیعہ جامع مسجد کوچہ رسالدار میں محراب اور منبر کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ، بہت سی دینی خدمات انجام دیں۔سنہ 1948ء میں پشاور میں پاکستان مجلس علماء شیعہ کا قیام عمل میں آیا جس کے آپ ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔مئی سنہ 1950ء میں آپ نے ھفت روزہ ایک مذہبی جریدہ، شہاب ثاقب کے نام سے جاری کیا،۔سنہ 1974ء میں آپ کو تین سال کے لیے پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن منتخب کیا گیا۔آپ کا شمار کثیرالتصانیف علما میں ہوتا ہے۔ آپ ایک نہایت ہی عمیق صاحب قلم تھے۔ بہت ہی گراں قدر کتابیں آپ نے تالیف کی ہیں جن میں سے چند اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:
1: چودہ ستارے: چودہ معصوم کی سوانح حیات پر اردو زبان میں اب تک لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ مفصل اور مستند کتاب ہے۔
2: بہتر تارے: اردو زبان میں شہدائے کربلا کی سوانح حیات پر اب تک لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ مرتب اور منظم کتاب ہے۔
3: تاریخ اسلام: حضرت آدم سے حضرت عیسی تک کے انبیاء کی سوانح حیات پر اردو زبان میں اب تک لکھی جانے والی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ مستند اور اسرائیلیات سے پاکیزہ کتاب یعنی شان انبیاء کو دنیا کے سامنے صحیح شکل میں پیش کرنے والی کتاب ہے۔
4: ذکرالعباس: عباس بن علی علمدار کربلا کی سوانح حیات پر اب تک لکھی جانے والی تمام عربی، فارسی اور اردو کتابوں میں سب سے زیادہ مفصل اور مستند کتاب ہے۔
5: مختار آل محمد: مختار ثقفی کی سوانح حیات پر اردو زبان میں ایک بے نظیر کتاب ہے۔
6: روح القرآن: اردو زبان میں علوم قرآن پر مشتمل ایک عمدہ کتاب ہے۔
7: الغفاری: صحابی رسول، ابوذر غفاری کی سوانح حیات پر اردو زبان میں ایک مفصل کتاب ہے۔
8: نص خلافت
اس کے علاوہ آپ نے کتاب لواعج الاحزان کی دونوں جلدوں پر حاشیہ لکھا۔
۹ رمضان المبارک 1402ھ مطابق یکم جولائی 1982ء بروز پنجشنبہ، پشاور، (پاکستان) میں دل کا دورہ پڑنے سے آپ کی وفات ہوئی۔ اور وہیں آپ کو سپرد لحد کیا گیا۔

علامہ نجم الحسن کراروی نے پشاور میں کئی عزاداریوں کی بنیاد بھی رکھی جن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔
علامہ نجم الحسن کراروی کی رحلت کے بعد کوچہ رسالدار کے شیعہ خطیب مولانا غلام علی زاہد بھی آپ کے شاگردوں میں شامل تھے ۔ معروف شیعہ خطیب محقق علامہ شیخ اعجاز حسین مدرس آقای موسویؒ سے پہلے علامہ نجم الحسن کراروی کی شاگردی میں رہے
علامہ نجم الحسن کراری ان جوہر شناس ہستیوں میں شامل تھے جنہوں نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی روحانیت کا جوہر ان کے منصب قیادت پر فائز ہونے سے پہلے درک کرلیا تھا ۔ آپ کے فرزند سعید رضوی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی سیکرٹری تعلقات عامہ رہے جو آقای موسویؒ سے ایک منفرد روحانی تعلق کے حامل تھے ۔ لالہ قمر رضوی ابن نجم الحسن کراروی تاحیات کوچہ کراروی پشاور میں مختار سیکرٹریٹ کے نگران رہے سید قائم رضوی نے مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیادیں استوار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور آج بھی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ خیبرپختونخواہ کے شعبہ نشرو اشاعت کی سرپرستی کررہے ہیں ۔
آج سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات تو چند سیکنڈ میں حاصل کی جا سکتی ہیں لیکن انہیں پرکھنے کیلئے آج بھی چودہ ستارے مختار آل محمد تاریخ اسلام جیسی چھاننیوں کی ضرورت ہے جنہیں فراہم کرنے پر ملت جعفریہ ہمیشہ علامہ نجم الحسن کراروی اور ان کی بزم کے عظیم مصنفین محققین کی ممنون احسان رہے گی ۔
تحریر: علا حیدر
