قرآن پر ادھورے عمل اور شعائر اللہ کی بے توقیری کے سبب مسلمانوں سے عزت و سرداری چھنی ؛ قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا یوم انہدام جنت البقیع پر پیغام

ولایت نیوز شیئر کریں

اسلامی آثار مٹانا مسلمانوں سے تابوت سکینہ چھیننے کے مترادف تھا جس کے نتیجے میں مسلمانوں سے سرداری چھن گئی،آغا حامد موسوی
امت مسلمہ نے قرآن پر ادھوراعمل کیا،آج مسلمانوں کی حیثیت استعمارر و استکبار اور صیہونیت کیلئے لوٹ مار کی جگہ سے زیادہ کچھ نہیں
جنت البقیع کی مسماری سے شہ پا کر فلسطین پر صیہونیت کا خنجر پیوست کیا گیاپوری دنیا میں صحابہؓ و اہلبیتؓ و اولیاء ؒکے مزارات کی بے حرمتی کا دروازہ کھل گیا
عالم اسلام متحدہو کر مسجد اقصی کو روندنے والے صیہونی درندوں اور دہشت گردوں کے حرمین شریفین کی جانب بڑھنے والے ناپاک قدموں کو روکے
روشن خیالی کا تقاضا ہے محمد بن سلمان مزارات مقدسہ کی ازسر نو تعمیر کا اعلان کرکے امت کے زخم کا مداوا کریں، عالم اسلام میں یکجہتی کی فضا قائم ہو جائے گی
عروج و زوال کے خدائی قوانین اٹل ہیں،اپنے محسنوں کے آثار کی تحقیر کرنے والے ذلت کے پاتال میں جا گرے، نبی کریم ؐ اہلبیتؑ و پاکیزہ صحابہ کی ہر یادگار شعائر اللہ ہے
ہمارا احتجاج کسی ملک یا خاندان نہیں بلکہ مسلمانوں کو بے روح کرنے کے اقدام کے خلاف ہے، یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا پیغام

باسمہ تعالی
سورہ بقرہ میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْی’‘ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ۔ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْن
کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور ایک کا انکار کردیتے ہو۔ ایسا کرنے والوں کی کیا سزا ہے سوائے اس کے کہ زندگانی دنیا میں ذلیل ہوں اور قیامت کے دن سخت ترین عذاب کیطرف پلٹا دیئے جائیں گے۔ اور اللہ تمہارے کر توت سے بے خبر نہیں ہے(سورہ بقرہ آیت 85)

امام اہلسنت جلال الدین سیوطی تفسیر جلالین میں سورہ بقرہ کی اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے رقم کرتے ہیں ’شریعت کے بعض احکام کو ماننے اور بعض کو نہ ماننے کی سزا کا بیان ہے کہ اس کی سزا دنیا میں عزت و سرفرازی کی جگہ ذلت و رسوائی اور آخرت میں ابدی نعمتوں کے بجائے، سخت عذاب ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں وہ اطاعت مقبول ہے جو مکمل ہو، بعض باتوں کو ماننا اور بعض کو نظر انداز کرنا اللہ کے یہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں، یہ آیت مسلمانوں کو بھی دعوت غور و فکر دے رہی ہے کہ کہیں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی وجہ بھی مسلمانوں کے وہی کردار تو نہیں جو مذکورہ آیات میں یہود کے بارے بیان کیے گئے ہیں۔‘(تفسیر جلالین)

قرآن مجید ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَاماً وَّیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ (صحیح مسلم)
”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو بلندی عطا فرماتا ہے اور کچھ دوسروں کو پستی میں دھکیل دیتا ہے۔“
قرآن نے مسلمانوں واضح حکم تھا کہ
وَمَآاٰتٰئکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰئکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب
اور رسولؐ جو کچھ تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں، اس سے رک جاؤ، اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (سورہ حشر آیت 7)

، تمام شیعہ سنی کتب احادیث و تاریخ متفق ہیں کہ نبی کریم نے امت کو دو چیزیں سونپ کر گئے جو ہدایت کا سرچشمہ بھی تھیں اور ان کی تکریم امت کیلئے نجات و سرخروئی کی ضمانت بھی تھی
وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ” فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِ
اور میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں (صحیح مسلم حدیث 6225)

اور یہ ارشاد نبی کریم نے ان الفاظ میں بھی بیان فرمایا
إِنِّی تَارِکٌ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِہِمَا لَنْ تَضِلُّوا، کِتَابَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَہْلَ بَیْتِی عِتْرَتِی أَیُّہَا النَّاسُ اِسْمَعُوا وَقَدْ بَلَّغْتُ إِنَّکُمْ سَتَرِدُونَ عَلَیَّ الْحَوْضَ فَأَسْأَلُکُمْ عَمَّا فَعَلْتُمْ فِی الثَّقَلَیْنِ وَالثَّقَلَانِ کِتَابُ اللَّہِ جَلَّ ذِکْرُہُ وَأَہْلُ بَیْتِی۔۔۔”
ترجمہ: میں تمہارے درمیان میں دو امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں، تم ان کا دامن تھامے رکھوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے: کتاب خدا اور میری عترت جو اہل بیت علیہم السلام اور میرے خاندان والے ہیں۔ اے لوگو! سنو، میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچا دیا کہ تمہیں حوض کے کنارے میرے سامنے لایا جائے گا؛ چنانچہ میں تم سے پوچھوں گا کہ تم نے ان دو امانتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا؛ یعنی کتاب خدا اور میرے اہل بیت ؑ۔(کلینی)

اہلسنت کے نزدیک مستند ترین صحاح ستہ سمیت تمام مکاتب مسالک میں نبی کریم کی یہ وصیت امت مسلمہ کی نجات کی ضمانت ہے لیکن اگر مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ نبی کریم کی دونوں امانتوں اور ترکے کو مسلمانوں نے ترک کردیا، ایک طرف قرآن عمل نہ ہونے پر فریادی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر ۔۔۔۔۔اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

دوسری جانب دین میں تحریف اور تبدیلیوں کے خلاف علم اٹھانے والے اہلبیت رسول ؐ پر ظلم و ستم کی حد کردی گئی کسی کو زہر کے جام پلوائے گئے کسی کے خون کے گارے بنائے گئے اور کسی کی لاشوں پر گھوڑے دوڑادیئے گئے دنیا کا ہر بر اعظم اولاد نبی کا مقتل بن گیا۔ نبی کریم کی عترت اہلبیت ؑ کے خونسے جس طرح مقتل آباد کئے گئے اس پر اہلسنت شاعر شورش کاشمیر ی زبان میں خود قرآن اور نبی کریم کا مزار بھی گریہ کناں ہے

نالہ نہیں یہ گنبد خضری کی ہے فریاد ماتم نہیں یہ سی پارہ قرآن کی صدا ہے
جبرائیل امیں دیکھ کہ اولاد نبیؐ سے کیا صاحب معراج کی امت نے کیا ہے (شورش کاشمیری)

قرآن مجید نے تقوی کا حکم دیتے ہوئے مسلمانوں پر واضح کیا تھا کہ انبیاء سے منسوب نشانیاں شعائر اللہ ہیں اور شعائر اللہ کی تعظیم ہی تقوی قلوب ہے
ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب
یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی (سورہ حج آیت 32)

قرآن کی آیتیں یہ کھول کھول کر بیان کررہی ہیں کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی ہر یادگار شعائر اللہ ٹھہری جس کی تکریم کو مناسک حج میں شامل کرکے اس کی عظمت کو مزید روشن کردیا گیا۔لیکن مسلمانوں نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب نشانیوں کا جو حشر کیااس کا احوال جنت البقیع اور جنت المعلی کے ساتھ ساتھ مکہ و مدینہ کا ذرہ ذذرہ کررہا ہے، کبھی شرک قرار دے کر تو حیدکے پاسبانوں نبی کریم ؐکے اجداد،والدین، صحابہ و اہلبیت و ازواج کی نشانیوں کو مسلمانوں نے اپنے ہاتھوں سے تاراج کیا تو کبھی حرمین کی تو سیع حرمین کے نام پر جس مقدس جگہ پر نبی کریم کی ولادت ہوئی اسے گر اکر بادشاہوں کی گزرگاہ بنا دیا، جہاں خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا ؑ تشریف لائیں وہ نابود کردیا گیا خلفائے راشدین سمیت نبی کے پیارے اصحابسے منسوب تمام آثار کو مٹا کر نہ صرف آئندہ نسلوں کو عظمت کی نشانیاں دیکھنے سے محروم کیا گیا بلکہ مسلمانو ں کی ذلت و رسوائی کے عذاب کا دہانہ کھول دیا گیا۔

قرآن نے واضح بتایا جس جس قوم نے اپنے محسنوں اور انبیاء کی نشانیوں کی عزت کی کامیاب رہی اور جس نے اپنے محسنوں کے آثار کی تحقیر کی وہ ذلت ورسوائی کے پاتال میں جا گرے۔قرآن کے سورہ بقرہ میں وہ تابوت سکینہ جس میں حضرت موسی و ہارون علیہ السلام کی باقیات و آثار تھے کو طالوت کی بادشاہی کی نشانی اور بنی اسرائیل کیلئے خیر و برکت کا باعث قرار دیا گیا
وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃ’‘ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃ’‘ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓءِکَۃُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْن
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسکین دہ چیزیں اور ان تبرکات سے بچا کھچا ہوگا جو موسیٰ و ہارون کی اولاد یادگار چھوڑ گئی ہے اور اس صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو بیشک اس میں تمہارے واسطے پوری نشانی ہے۔ (سورہ بقرہ248)

مفسرین اور مورخین گواہ ہیں کہ یہ تابوت سکینہ جس میں آل موسی و ہارون ؑ کی نشانیاں تھیں بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی ضمانت بن گیاجب تک بنی اسرائیل اس تابوت کی عزت کرتے رہے کامیاب و سرفراز رہے اور جب انہوں نے ان نشانیوں کی توہین کی تو مغلوب ہوگئے۔
قرآن کی آیت واضح بتا رہی ہے کہ جب نبیوں اور ان کی آل کی نشانیوں کی توہین بنی اسرائیل کو تباہی سے نہ بچا سکی تو امت مسلمہ کیسے اپنے نبی کی نشانیوں اور ان کی اہلبیت کی توہین کرکے اللہ کے غضب سے بچ سکتی ہے۔اور اللہ نے اگر کسی ایک قوم کو کسی گناہ پر سزا دی تو وہ قانون ہر قوم کیلئے ہے۔
جیسا کہ سورہ احزاب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ
سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلً
گزشتہ اقوام کے لیے بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے اور اللہ کے دستور میں آپ کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ (سورہ احزاب 62)

اس حقیقت میں کسی شک و شبے کی گنجائس نہیں کہ اللہ نے نے جن اوصاف کی بنیاد پر قوموں کی عزت بخشی اور جن اسباب کی بنا ء پر انہیں زوال سے دوچار کیا وہ قوانین اٹل ہیں جن میں کوئی ردو بدل نہیں یعنی جن اقوام نے اس کتاب ہدایت سے اپنا تعلق جوڑا‘ اس سے رہنمائی حاصل کی اور اسے اپنا دستور العمل بنایا‘ وہ یقیناً دین ودنیا کامیاب و کامران ہوئیں اور جنہوں نے تغافل کیا وہ ذلیل وخوار ہوں گے۔

قرآن کریم کاہر سورہ اور ہر پارہ یہ راز کھول رہا ہے کہ کتاب ہدایت کے کچھ حصوں پر عمل اور کچھ احکامات کی صریح مخالفت ہی وہ بیماری کی جڑ ہے جس کے سبب امت مسلمہ آج مسائل کے گرداب میں گرفتار اور ذلت کے پاتال میں گری پڑی ہے مسلمانوں نے صوم صلوۃ کو تو یاد رکھا لیکن اپنے نبی کی نشانیوں اور ورثے کو تاراج کرڈالا یا تاراج ہوتے دیکھتے رہے اور لبوں کو سیے رکھا۔

آج اللہ کے اسی دستور کے باعث قرآن پر ادھورے عمل کے سبب مسلمان اپنے آزاد ممالک میں بھی محفوظ نہیں دولت وسائل افرادی قوت ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کی حالت خس و خاشاک کی سی ہو چکی ہے ہر مسلم ملک معاشی یا دفاعی لحاظ سے غیروں کا دست نگر ہے صیہونیت و نصرانیت کے سامنے بے بس ہے القدس الشریف میں اسرائیلی دہشت گردی اور غزہ میں جارحیت مسلمانوں کی ضعیفی کا منہ بولتا ثبوت ہے استعماری قوتیں جب چاہے جہاں چاہے مسلمانوں کو روند ڈالتی ہیں افغانستان عراق شام لیبیا یمن سمیت درجنوں ممالک استعماری قوتوں نے کھنڈرات میں بدل دیئے، نبی کریم کے خاکے بناکر عالم اسلام کے سینے چھلنی کئے جا رہے ہیں مسلم ممالک کے چند رہنماؤں کے علاوہ کوئی زبانی جمع خرچ بھی نہیں کرتا، زوال اور ذلت کی گہرائیاں کھل کر بتا رہی ہیں کہ امت مسلمہ نے قرآن پر ادھوراعمل کیا اور نبی کریم کے چھوڑے ورثے کی توہین کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے سبب مسلمانوں کی حیثیت استمار و استکبار اور صیہونیت کیلئے لوٹ مار کی جگہ سے زیادہ کچھ نہیں۔بقول اقبال
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ 1925میں سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کے بعد اسلام کے محسنوں کی نشانیوں جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کی تاراجی صدیوں پرانے صیہونی منصوبے کا شاخسانہ تھا، سلطنت عثمانیہ کو مٹانا صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام اور جنت البقیع و جنت المعلی کو گرانا مسجد اقصی کو گرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا دیباچہ تھا، جنت البقیع کی مسماری کے بعد اسلامی شعائر اللہ کی تو ہین کا درواززہ ایسا کھلا کہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
ہم ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع منا کر امت مسلمہ بالخصوص حکمرانون کو جھنجھوڑتے ہیں کہ صیہونی وبرطانوی و شیطانی سازش کے تحت جنت البقیع جنت المعلی اور سرزمین حجاز میں موجود بانی اسلام نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوراسلام کے محسنوں کی نشانیاں مٹانا یسا ہی تھا جیسا کہ نبی اسرائیل سے تابوت سکینہ چھیننا تھا اسی سبب مسلمانوں سے خود مختاری عزت سرداری ہر شے چھن گئی۔ ہمارا احتجاج کسی ملک یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے جرم کے خلاف ہے جس نے مسلمانوں کو بے روح کردیا۔

سعودی عرب کے موجودہ ولی عہدمحمد بن سلمان اقتدار کی ڈوریں ہاتھ میں آنے کے بعدمتواتر روشن خیالی کے دعوے کررہے ہیں اور یہ حقیقت بھی کھول چکے ہیں کہ سعودی عرب نے بنیاد پرستی کی آبیاری مغربی طاقتوں کی ہدایت پر کی۔ اسی طرح وہ دیگر مذاہب کے عقائد و نظریات کو بھی نصاب میں شامل کرنے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں۔لہذا اب وقت آن پہنچا ہے کہ مملکت سعودی عرب ایک سو سال قبل مغربی طاقتوں کے یما پر گرائے جانے والے اسلام کی مقدس ہستیوں کے مزارات، نبی کریم ؐ کی جائے پیدائش، شجر رسول ؐ، صحابہ و اہلبیت کی نشانیوں اور بالخصوص مزار خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی بحالی و ازسر نو تعمیر کا اعلان کرے اور امت مسلمہ کے سینے پر ایک صدی قبل لگے گہرے زخم کا مداوا کرے تو پورے عالم اسلام میں سکون کی لہر دوڑ جائے گی اور عالم اسلام میں یکجہتی کی فضا قائم ہو جائے گی جو بیت المقدس سمیت عرب علاقوں کو صیہونی قبضے سے چھڑانے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے تمام مسائل کے حل کی کلید و نوید ثابت ہو گی۔

یہ بھی واضح رہے کہ جیسے موسی و ہاروں کی نشانیوں کو فرشتے خود اٹھا کر لائے تھے ایسے ہی اللہ کی نشانیاں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ بھی ایک دن ضرور پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگائیں گے دنیا کی کوئی طاقت ٹیکنالوجی اور شیطانی قوت اس انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا ہو کر رہے گا۔
والسلام

خاکپائے عزاداران جنت البقیع و جنت المعلی
آغا سید حامد علی شاہ موسوی (سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ و سرپرست اعلی سپریم شیعہ علماء بورڈ )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.