حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کا یومِ شہادت مذہبی جذبے اور عقیدت و احترا م کیساتھ منایا گیا

ولایت نیوز شیئر کریں

ملک بھر میں مجالسِ عزا کا انعقاد جلوسہائے تابوت کی برآمدگی، ہزاروں سوگواران کی شرکت، عالمگیر ایامِ باب الحوائج اختتام پذیر

حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کو کوئی بھی ڈکٹیٹر راہِ حق و صداقت سے نہ ہٹا سکا۔ سربراہِ ٹی این ایف جے کا مجلس سے خطاب

ذکرِ اہلبیتؑ ہمارا مذہبی و آئینی حق ہے جس پر کبھی کوئی پابندی نہ ہمارے آبا و اجداد نے قبول کیا ورنہ ہی ہم قبول کرینگے

دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد اور نئے وپرانے ناموں سے سرگرم کالعدم دہشتگرد گروپوں پر موثر پابندی عائد کی جائے

قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی تعلیمات کے مطابق وطنِ عزیز پاکستان کے نظریۂ اساسی کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ دربار شاہ پیاراؒ میں شرکائے مجلس کا عہد

مرکزی جلوس چوہڑ ہرپال اور سید کسراں میں برآمد ہوئے۔ زنجیر کا زبردست پرسہ، مجالسِ باب الحوائج سے علماء و ذاکرین کا خطاب

ابلیسی قوتوں سے چھٹکارے کیلئے سیرتِ امام موسیٰ کاظمؑ پر کاربند ہونا ہو گا، علیؑ مسجد میں برآمدگی تابوت کی مجلس سے علامہ سید قمر زیدی، سردار طارق جعفری کا خطاب

راولپنڈی( ) قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے قائم کردہ عالمگیر ایامِ باب الحوائج کے اختتام پر جمعرات کو حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کا یومِ شہادت روایتی مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر شبیہِ تابوتِ اسیرِ بغداد امام موسیٰ کاظمؑ کا سب سے بڑا ماتمی جلوس کاظمین عراق میں برآمد ہوا جس میں لاکھوں سوگواران نے شرکت کر کے پرسہ داری میں حصہ لیا۔ دنیا بھر کیطرح پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں مرکزی جلوس برآمد ہوئے اور مجالسِ عزا کا انعقاد کیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں علمائے کرام اور ذاکرین نے مجالسِ باب الحوائج سے خطاب کرتے ہوئے عساکرِ پاکستان کی بھرپور تائید کرتے ہوئے دہشتگردی کی پُرزور مذمت اور کالعدم گروپوں کو آہنی شکنجے میں جکڑنے کا مطالبہ کیا۔ یومِ شہادتِ حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کے موقع پر امام بارگاہ الشہداء ڈھوک وجن میں مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ٹی این ایف جے علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہاکہ میں دہشت گردی ظلم و بربریت کے مقابلے کیلئے اُسوۂ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر دور میں بہترین نمونۂ عمل قرار دیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ ہر ظالم و ڈکٹیٹر نے ہمیشہ نمائندگانِ الٰہی کو جھکانا چاہا مگر مردانِ حق نے سر کٹانا قبول کر لیا لیکن باطل قوتوں کے سامنے نہیں جھکایا۔ راولپنڈی میں مرکزی جلوسِ تابوت چوہڑ ہرپال میں متولی دربار سخی شاہ پیاراؒ باوا سید قاسم علی شاہ کے زیرِ اہتمام سید غلام حیدر شاہ کاظمی، سید عمران حسین نقوی اور سید انوار حسین شاہ کی رہائشگاہ سے برآمد ہوا، دورانِ جلوس بڑی تعداد میں شرکاء نے زنجیر کا ماتم کر کے پُرسہ پیش کیا اور نوحہ خوانی و ماتمداری کی۔ جلوسِ عزاء اپنے مقررہ راستوں سے گزر کر دربارِ عالیہ سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدیؒ میں اختتام پذیر ہوا۔ جہاں پر مجلسِ عزا سے نامور علمائے کرام اور ذاکرینِ عظام نے خطاب کیا۔ دربارِ عالیہ سخی شاہ پیارا کاظمیؒ میں ٹی این ایف جے کے مرکزی رہنما سید حسن کاظمی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد بلند نعروں کی گونج میں منظور کی گئی جس میں تحفظِ عزاداری کے لیے تجدیدِ عہد کیا گیا۔ مجلس کے ہزاروں شرکاء نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی تعلیمات کے مطابق وطنِ عزیز پاکستان کے نظریۂ اساسی کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے اور اسے فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کی کسی بھی کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور جملہ مذہبی حقوق بشمول تحفظِ عزاداری کیلئے سربراہ تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی کی آواز پر بھرپور لبیک کہا جائے گا اور دین و وطن کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ایک قرارداد میں گزشتہ حکومت کے دور میں ذکرِ حسینؑ پر پابندیوں کے قواعد و ضوابط بنا کر بالخصوص پنجاب بھر میں نافذ کیے گئے جن پر موجودہ دور میں بھی عملدرآمد جاری ہے۔ ان متنازعہ و غیر آئینی قواعد و ضوابط کے ذریعے عزاداری کے نئے پروگراموں پر پابندی لگائی گئی، ایسی روایتی مجالس پر بھی پابندی لگائی گئی جنہیں حکومتی انتظامیہ نے اپنے شیڈول میں شامل نہیں کیا، یہاں تک کہ چاردیواری کیاندر منعقد ہونے والی مجالسِ عزا کو بھی بزورِ قوت روکا جاتا ہے اور ان کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں جو بنیادی مذہبی و انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں حکمران کو باور کرایا گیا کہ ترویجِ حسینیتؑ وعدۂ خداوندی ہے جس کی مخالفت کرنے والوں کی قسمت میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عزاداری پر ناروا پابندیوں کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اربابِ حکومت کو باور گیا کہ ذکرِ اہلبیتؑ ہمارا مذہبی و آئینی حق ہے جس پر کبھی کوئی پابندی نہ ہمارے آباؤ اجداد نے قبول کیا ورنہ ہی ہم قبول کرینگے۔ ایک قرارداد میں ملکی سالمیت کیلئے فتنہ الہندوستان اور فتنہ خوارج کو کچلنے میں مصروف پاک افواج و سیکیورٹی اداروں کی بھرپور تائید کا اظہار کیا گیا اور دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد اور نئے و پرانے ناموں سے سرگرم کالعدم دہشتگرد گروپوں پر موثر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر و فلسطین سمیت تمام مظلومینِ عالم کی بھرپور حمایت اور اسرائیل و بھارت کی بربریت کی پُرزور مذمت کی اور تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ استعماری سرغنہ امریکہ کی سازشوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو ایک کے بعد دوسرے مسلم ملک کو تاراج کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اب ایران کو نشانہ بنا رہا ہے لہٰذا تمام عالمِ اسلام کی بدقسمتی ہے کہ آج مسلم ممالک میں دوریاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں جس کا فائدہ اسلام دشمن قوتیں اٹھا رہی ہیں مسلمانوں کے تمام تر وسائل ایک دوسرے کی ترقی کے بجائے استعماری مفادات پر صَرف ہو رہے ہیں، عالمِ اسلام میں دوریاں مٹانے کیلئے مسلم ممالک کو امام موسیٰ کاظمؑ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا۔ خانوادۂ قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے زیرِ اہتمام علیؑ مسجد میں مجلسِ شہادتِ باب الحوائج سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید قمر حیدر زیدی نے کہا کہ دنیائے انسانیت کو ابلیسی قوتوں سے چھٹکارے کیلیے سیرتِ امام موسیٰ کاظمؑ پر کاربند ہونا ہو گا جو باطل پر حق کی فتح و ظفر اور حرمتِ توحید و رسالتؐ و ولایت کی راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی دشمنانِ اسلام حقیقی ہادیانِ دین سے خوفزدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کے آفاقی پیغام کو دبانے اور روکنے کیلئے ہر قسم کے حربے و ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل و مصائب کے خاتمہ کیلئے اسوۂ امام موسیٰ کاظمؑ کی عملی پیروی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سردار طارق احمد جعفری کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں باور کرایا گیا کہ عزاداری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ قرارداد میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملتِ جعفریہ کے خالصتاً دینی حقوق کے حصول کے لیے جب بھی سربراہ ٹی این ایف جے علامہ سید حسین مقدسی نے کال دی پوری قوم میدانِ عمل میں آ جائے گی۔ مجلس سے علامہ سید وقار حسین نقوی، مولانا ملک اجلال حیدر الحیدری، ذاکر مطیع الحسنین کاظمی سید شجاع گردیزی، زیاف حیدر موسوی اور اواب حیدر موسوی نے خطاب کیا۔ مجلس کے اختتام پر تابوتِ اسیرِ بغداد برآمد ہوا جس میں مرکزی ماتمی حیدری دائرہ پاکستان، ماتمی دستہ ابوالفضل العباسؑ نے نوحہ خوانی و پرسہ داری کی۔ اس موقع پر جلوسِ تابوت بابُ الحوائج بھی برآمد ہوا۔ قصرِ ابوطالبؑ میں مجلسِ شہادتِ امام موسیٰ کاظمؑ سے مختلف علماء و ذاکرین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایم ایچ جعفری کی رہائشگاہ سے جلوسِ تابوت برآمد ہوا جو قصرِ ابوطالبؑ میں اختتام پذیر ہوا۔سید واجد حسین شاہ کے زیرِ اہتمام مغل آباد میں مجلسِ عزا ہوئی جس سے مختلف علماء و ذاکرین نے خطاب کیا۔ قصرِ خدیجہ الکبریٰؑ اسلام آباد، مرکزی امامبارگاہ G-6/2، مسجدِ جعفریہ آئی نائن، امامبارگاہ زین العابدینؑ سیٹلائٹ ٹاؤن میں انجمن فیضِ پنجتنؑ شعبہ خواتین کے زیرِ اہتمام مجالسِ شہادتِ باب الحوائج منعقد ہوئیں جن کے اختتام پر تابوت برآمد ہوئے اور ماتمداری کی گئی۔ سید کسراں میں تاریخی جلوسِ شہادتِ امام موسیٰ کاظمؑ برآمد ہو کر دربارِ عالیہ شاہ نذر دیوانؒ پر اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.