صغیر کربلاؑ کی قربانی داستان شہادت کا عظیم باب ہے ، علامہ قمر زیدی; سبزواری ہاؤس سے گہوارہ علی اصغر ؑ کی برآمدگی
کمسن شہزاد علی اصغر کی قربانی داستان شہادت کا عظیم باب ہے ، علامہ قمر زیدی
امام حسین علم و حکمت صبر و شکر و زہد و تقوی کا عظیم مینارہ ہیں، سیدہ بنت علی موسوی
حضرت امام حسین کی قربانی دین اسلام کا قیمتی اثاثہ ہے۔ سبزواری ہاؤس میں گہوارہ علی اصغر کی برآمدگی
راولپنڈی (ولایت نیوز ) سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی کی یادگار منانے کے لیے عشرہ محرم کی مجالس اور ماتمی جلوسوں کا سلسلہ جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں تیسرے روز بھی جاری رہا۔سینیئر قانون دان سید اصغر حسین سبزواری ایڈوکیٹ اور بیرسٹر سید قمر حسین سبزواری کے زیر اہتمام سبزواری ہاؤس اصغر مال سکیم سید پور روڈ سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں قدیمی جلوس گہوارہ شہزادہ علی اصغر کی مجلس عزا سے خطیب فاتح فرات علامہ سید قمر حیدر زیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کی سرفرازی کے لیے حضرت امام حسین نے اپنا بھرا کنبہ لٹا کر قربانی و ایثار کی وہ عظیم مثال پیش کی تاریخ انسانی جس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
علامہ قمر زیدی نے کہا کہ فرزند رسول حضرت امام حسین عزم و ثبات کے کوہ گراں تھے جنہیں ظلم و جبر و شیطانیت کے تمام تر ہتھکنڈے راہ صداقت سے نہ ہٹا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کمسن شہزادہ علی اصغر کی قربانی داستان شہادت کا وہ عظیم باب ہے جس نے پروپیگنڈے کے زور پر شہادت حسین کو چھپانے کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا۔علامہ قمر زیدی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قائد ملت جعفریہ آغا حامد علی موسوی کی تاسی میں سربراہ ٹی این ایف جے علامہ سید حسین مقدسی کے جاری کردہ ضابطہ عزاداری پر عمل پیرا ہو کر عزاداران حسین پورے ملک میں عزائے حسینی میں مصروف عمل ہیں جو امن کی بہترین ضمانت ہے۔
اس موقع پر گہوارہ شہزادہ علی اصغر برآمد ہوا اور ماتم داروں نے بارگاہ عصمت میں کربلا کے کمسن شہید کا پرسہ پیش کیا. در ایں اثناء امام بارگاہ قصر زینب میں سیدہ بنت علی موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین کسی خاص فرقے کی میراث نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کے لوگ امام حسین کو امام برحق مانتے ہیں۔ امام حسین علم و حکمت صبر و شکر و زہد و تقوی کا عظیم مینارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہادئ برحق فخر موجودات خاتم المرسلین اور ان کے اہل بیت نے تعلیمات اسلام سے انسانیت کا رخ بدل دیا اور کرہ ارض پر حریت ،مساوات و اخوت کا نیا سورج طلوع کیا لوگوں کو وحدت کی رشتوں سے منسلک کیا۔
