چہلم شہدائے کربلا اربعین حسینی؛ اسیران کربلا کی فتح کی یادگار دنیا بھر میں عقیدت و احترام سے منائی گئی
شہر شہر قصبہ قصبہ ماتمی جلوسوں و مجالس عزا کا انعقاد، عزاداروں کا ماتم زنجیر و قمہ زنی
شورشوں اور سازشوں کو مٹانے کیلئے راہِ حسینیتؑ اختیار کرنا ہو گی،علامہ آغاسیدحسین مقدسی
عزاداری صدائے زینب ؑو زین العابدین دنیائے مظلومیت کا ملجا و ماویٰ ہے،مشن حسینیت ؑکیلئے آخری سانسوں تک عملی جدوجہد جاری رکھیں گے
سسٹم کی ناکامی کے اسباب و کرداروں کا بھی تعین کیا جائے، سربراہ ٹی این ایف جے علامہ آغا حسین مقدسی کا میڈیا سے خطاب۔
چہلم کے جلوسوں میں شیعہ سنی یکجہتی کابے نظیر مظاہرہ، مختار فورس والنٹیرز کی خدمات اور ایم او مختار آرگنائزیشن نے عزاداری کیمپ لگائے۔
راولپنڈی (ولایت نیوز ) نواسہ رسول حضرت امام حسین اور آپ کے اولاد و انصار وشہدائے کربلا کا چہلم عقیدت و احترام اور قومی و ملی جذبے کیساتھ منایا گیا۔چہلم شہدائےؑ کربلا اربعینِ حسینیؑ پر عشقِ رسالتؐ و اہلبیتؑ کے لازوال مناظر، شہر شہر قصبہ قصبہ ماتمی جلوسوں و مجالسِ عزا کا انعقاد، عزاداروں کا ماتم زنجیر و قمع زنی، جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے مرکزی جلوس چہلم امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ، امام بارگاہ حفاظت علی شاہ،ا مام بارگاہ کرنل مقبول حسین سے حسب روایت بر آمد ہوئے جن میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی جلوس کی قیادت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ آغاسیدحسین مقدسی نے کی۔

جلوس چہلم کے دوران میڈیا کے نمائندوں اور عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے تحریک نفاذفقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ آغاسید حسین مقدسی نے کہا کہ اربعین حسینی اس دلدوز واقعہ کی یاد دلاتا ہے جب شام کے زندان میں ایک سال قید سے رہائی کے بعد اہل بیت ؑ اطہار کا لٹا ہوا کارواں جس کے سالا ر حضرت زینب ؑو زین العابدین ؑ تھے اپنا سفر طے کرتا ہوا 20صفر کوکربلا پہنچا۔ جہاں صحابی رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓجنہیں قبر حسین ؑ کا پہلا مجاور و زائر ہونے کا شرف حاصل ہے موجود تھے اسیران شام کربلا میں داخل ہوتے ہی نالہ و فریا د اور گریہ و بکا کی صدائیں بلند ہوئیں مخدرات عصمت نے ایسے بین کئے کہ قرب و جوار کے دیہاتوں کی خواتین بھی امڈ آئیں زینبؑ و کلثومؑ نے وامحمدا وا جدۃ کہہ کر گریہ و بکا کیا مصائب آل محمد بیان کئے کہ ظالموں نے کس طرح اہلبیت کو شہید کیا اور مظالم ڈھائے،حضرت زینب کے درد بھرے نالوں نے زمین و آسمان کو رلا دیا۔

انہوں نے کہاکہ سسٹم کی ناکامی کا اعلان کرنے والے اس سسٹم کی ناکامی کے اسباب بھی بتائیں، شورشوں اور سازشوں کو مٹانے کیلئے راہِ حسینیتؑ اختیار کرنا ہو گی، کالعدم جماعتیں پاکستان دشمنوں کی مقامی سہولت کار ہیں، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب ایس او پیز آئین سے متصادم ہیں عزاداری پر پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ علامہ مقدسی نے ایران پر امریکی جارحیت کی مذمت کی اور مسلم ممالک سے جرات مندانہ موقف اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ آقائے موسوی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے تحفظ عزاداری کے مشن کو جاری رکھیں گے اور اپنے عمل سے عزاداری کر کے حرمت وعزت عزاء کا درس جاری رکھیں گے،جلوس چہلم میں شبیہ ذوالجناح،علم مبارک،جھولا شہزادہ علی اصغر،تابوت مبارک اور دیگر تبرکات شامل تھے۔جلوس چہلم ٹرنک بازار،حبیب بینک چوک سے ہوتا ہوا فوارہ چوک پہنچ کر عظیم الشان جلسہ میں بدل گیا جہاں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ سید قمر حیدر زیدی،حاجی چوہدری مشتاق حسین نے خطاب کرتے ہوئے پیغام اربعینِ حسینی پہنچایا۔۔ فوارہ چوک میں خطاب کرتے ہوئے علامہ قمر حیدر زیدی نے کہا کہ چہلم سید الشہداء حضرت زینب و زین العابدین کی عظیم مقدس یادگار ہے۔
انہوں نے کہا کہ علامہ مقدسی نے زنجیر وقمعہ زنی کر کے تحفظ عزاء کے نام نہاد کرداروں کو بے نقاب کر دیا۔ قرارداد میں ڈاکٹر عون عباس کاظمی نے کہا پاکیزہ مشن عزاداری کے لیے آقائے موسوی کی وصیت پر چلتے ہوئے رہنما اصولوں کو مشعل راہ بنایں گے جبکہ ڈاکٹر ٹی این ایف راولپنڈی ریجن کے جنرل سیکرٹری عون عباس کاظمی نے قرارداد پیش کی اور شان علی جعفری نائب صدر راولپنڈی نے سلام ونوحہ پیش کیا۔
فوارہ چوک میں مجلس عزاء کے بعد جلوس مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا پرانا قلعہ پہنچا جہاں امام بارگاہ شہیدان کربلا ٹایر بازار اور دربار شاہ چن چراغ کا جلوس بھی شامل ہوا جو جامع مسجد روڈ سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ قدیم حسینی محاذ پر اختتام پذیر ہوگیا۔ جلوس چہلم میں مختارسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے فوارہ چوک اور مختار آرگنائزیشن (ایم او)کی جانب سے جامع مسجد روڈ پر عزاداری کیمپ لگائے گیے۔مختلف مذہبی،سماجی اورفلاحی تنظیموں نے جلوس چہلم کے دوران لنگرِ حسینی اور سبیلوں کا اہتمام کیا،ابراہیم سکاؤٹس، مختار فورس کے رضاکاروں اورٹی این ایف جے کی اربعین کمیٹی کے اراکین جلوس کے ہمراہ رہے۔ ہوں گے۔راولپنڈی میں برآمد ہونے والے چہلم شہدائے کربلا کے تمام جلوس قدیمی امامبارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوں گے۔
