دفاعی معاہدے میں تمام مسلم ممالک کو شامل کیا جائے، ترکیہ کی شمولیت احسن اقدام،علامہ آغا سید حسین مقدسی
دفاع کو مشترکہ ذمہ داری سمجھنے کی طرح ایک دوسرے کے مسائل کو بھی اپنا سمجھا جائے
تمام مسلم ممالک آپسی تنازعات ختم کر کے پاکستان کی قیادت میں متحد ہو جائیں
ایران پر امریکہ و اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں پاکستان کی موثر ثالثی لائق تحسین ہے
عرب و عجم کی تخصیص و تعصب رسولِؐ اکرم کے خطبہِ حُجّتہ الوداع سے انحراف ہے۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ آغا سید حسین مقدسی کا بیان
اسلام آباد (ولایت نیوز) سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت احسن اقدام،معاہدے میں تمام مسلم ممالک کو شامل کیا جائے۔ دفاع کو مشترکہ ذمہ داری سمجھنے کی طرح ایک دوسرے کے مسائل کو بھی اپنا سمجھا جائے۔ عرب و عجم کی تخصیص و تعصب رسولِؐ اکرم کے خطبہِ حُجّتہ الوداع سے انحراف ہے۔ تمام مسلم ممالک آپسی تنازعات ختم کر کے پاکستان کی قیادت میں متحد ہو جائیں۔ایران پر امریکہ و اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں پاکستان کی موثر ثالثی لائق تحسین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیڈکوارٹر مکتبِ تشیع سے جاری بیان میں کیا۔سربراہ ٹی این ایف جے آغا حسین مقدسی نے باور کروایا کہ اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر تماشہ دیکھنا چاہتی ہیں جبکہ مسلمانوں کا اتحاد صیہونی و ہندتوائی قوتوں کیلئے ڈراونا خواب ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے بعد وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی واحد ریاست ہے جو اپنے نظریہ اساسی کی بدولت اسلامی اخوت کی بہترین مثال ہے جس میں تمام مسلمہ مکاتب و مسالک باہم شیر و شکر ہیں اور اسلامی مساوات کے اصولوں کے مطابق یکساں حقوق کے حامل ہیں، جبکہ اپنے اسی نظریہ اساسی کے بدولت پاکستان کو اسلام کے قلعہ کی منفرد حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی افق پر ایک طاقت کے طور پر تیزی سے ابھرتا ہوا پاکستان ہمارے استعماری ایجنٹوں بشمول ازلی دشمن بھارت کیلئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں لہٰذا وہ پاکستان کو زیر کرنے کیلئے دہشتگردی سمیت ہر طرح کے حربے آزما رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کیلئے عساکر پاکستان کی قربانیاں اور مسلسل آپریشن لائق صد تحسین ہیں تاہم نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عملدرآمد کر کے ان قربانیوں کے ثمرات کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ اس وقت دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں لہٰذا ملکی وقار اور مثبت تاثر کو قائم رکھنے کیلئے اندرونی مسائل حل کیے جائیں اور ملک میں بسنے والوں کے آئینی حقوق کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
