یومِ دفاع آزادی کی حفاظت کی یادگار ہے۔ آغا حسین مقدسی
ستمبر کی جنگ نے پاکستانی قوم میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کیا جسے بھلایا نہیں جا سکتا
دفاعِ دین و وطن کے ایمانی فریضے کی ادائیگی کے لیے پوری قوم ایک ہے
نگہبانِ رسالتؐ حضرت ابوطالبؑ نے دینِ اسلام کو ناقابلِ تسخیر دفاعی حصار فراہم کیا۔ سربراہ ٹی این ایف جے کا یومِ دفاع پر خطاب
راولپنڈی ( ) سربراہ تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا یومِ دفاع ہمیں اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے 6 ستمبر کو دی جانے والی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے لہٰذا بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مصورِ پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر کے لیے تمام قومی اداروں کو مل جل کر ملک کے معاشی وسائل کے حل کے لیے غیر ملکی معاہدوں کے حوالے سے کسی دباؤ میں آئے بغیر ایک مثبت پالیسی وضع کر کے عالمی استعمار اور اس کے اتحادیوں کو اپنے مسائل اور عوامی مشکلات کے بارے میں دوٹوک انداز میں آگاہ کرنا ہو گا اور یہ واضح کرنا ہو گا کہ ہمیں وطن کی سلامتی، استحکام اور ناقابلِ تسخیر دفاع دنیا کی ہر شے سے زیادہ عزیز ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے اتوار 6 ستمبر کو یومِ دفاع اور عالمگیر ایام الحزن کے دوسرے دن ہیڈکوارٹر مکتبِ تشیُع علیؑ مسجد میں میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آغا مقدسی کہا کہ نگہبانِ رسالتؐ حضرت ابوطالبؑ نے دینِ اسلام کو ناقابلِ تسخیر دفاعی حصار فراہم کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ ستمبر کی جنگ نے پاکستانی قوم میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کیا جسے کوئی پاکستانی نہیں بھول سکتا، جب ازلی دشمن نے پاک سر زمین پر اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ بھرپور حملہ کیا تو وہ لاہور اور سیالکوٹ کی سرحدوں میں داخل ہو کر پورے ملک پر قابض ہونے کا خواب پورا کرنا چاہتا تھا مگر اسے منہ کی کھانی پڑی کیونکہ کلمۂ توحید نعرۂ رسالتؐ اور نعرۂ حیدری کی صداؤں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور ہر شہر، بستی اور گاؤں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن گیا، جوانوں نے مادر وطن کی حرمت کو بچانے کے لیے سینوں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنی جانیں نچھاور کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور دشمن کے ٹینک ریزہ ریزہ ہو گئے سربراہ ٹی این ایف جے علامہ حسین مقدسی نے کہا کہ پاکستان کے سپوتوں نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے تھے کیونکہ قوم میں حبُ الوطنی کا جذبہ جوش مار رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر ہمیں مشترکہ دشمن پر یہ واضح کرنا ہو گا کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک اور ہمارے غم و خوشیاں سانجھی ہیں لہٰذا دفاعِ وطن کے لیے قائدِ ملتِ جعفریہ اغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے بقول دفاعِ دین و وطن کے ایمانی فریضے کی ادائیگی کے لیے پوری قوم ایک ہے اور دھرتی ماں کے دفاع کے لیے پیش کیا گیا شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا کیونکہ یہ خون آزادی کے پروانے کی سرخی ہے۔ دریں اثناء ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کے وصال کی مناسبت سے قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے قائم کردہ عالمگیر ایام الحزن کی مجالس کا سلسلہ جاری رہا جس سے واعظین و ذاکرین نے خطاب کیا اس موقع پر دین وطن کی استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
