سیکیورٹی کے بہانے بنیادی مذہبی حقوق کی پامالی قبول نہیں کریں گے۔ علامہ سید باقر علی نقوی
حکمران حقیقی دوستوں سے دور اور ”سب اچھا” کی گردان سنانے والوں کے حصار میں مقید ہیں
حکومت کے چاپلوس دوست اسے حسینیتؑ کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں
پنجاب میں عزاداری پر عائد غیر آئینی پابندیوں کو چند سبیلوں کے پیچھے چھپانا ممکن نہیں
چار دیواری کے اندر بھی ذکرِ حسینؑ کے خلاف درج ایف آئی آرز حبُِ اہلبیتؑ کے دعوؤں کی نفی ہیں
کالعدم جماعتوں کے ساتھ دوستیاں نبھانا شہدائے وطن کے لہو سے خیانت ہے
کالعدم گروپوں کو ساتھ بٹھا کر امن کی تلاش کرنیوالے سراب کے پیچھے سرگرداں ہیں
جن کالعدم گروپوں کو کھالیں اور چندہ دینا جرم ہے انہیں پروٹوکول دینا کیسی وطن دوستی ہے؟
نانا محمدؐ و نواسے حسینؑ کی محافل و مجالس کو دوام ہے، انہیں روکنے والے اپنی فکر کریں
اربعین کے موقع پر عزادار طرزِ اسلاف کے مطابق فقط مجالس و جلوسہائے عزا کو ترجیح دیں
حکومت موسویؒ جونیجو معاہدے کے مطابق لائسنسی و روایتی جلوسوں کا تحفظ یقینی بنائے
میلادالنبیؐ و عزاداریِ حسینؑ کے جلوس شوکتِ اسلام و سُنی شیعہ وحدت کے عظیم مظاہر ہیں
مادرِ وطن میں کوئی مسلکی تنازعہ نہیں، تمام مکاتب شِیر و شکر ہیں، بیرونی تنخواہ داروں کی باہمی ’تو تڑاخ‘ کو فرقہ واریت قرار نہیں دیا جا سکتا
خارجیت سمیت ہر فتنے کا انسدادِ حسینیتؑ کو عام کرنے میں مضمر ہے
ہمارا کوئی سیاسی یا انتشاری ایجنڈا نہیں، اپنے حقوق اور ملک کی نظریاتی اساس کو بچانا چاہتے ہیں۔ عشرۂ اسیرانِؑ کربلا کے اختتامی روز مجلسِ شہادت سے خطاب
لاہور ( ولایت نیوز) تحریکِ نفاذِ فقہِ جعفریہ پنجاب کے صوبائی صدر علامہ سید باقر علی نقوی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی کے بہانے بنیادی مذہبی حقوق کی پامالی قبول نہیں کریں گے، حکمران حقیقی دوستوں سے دور اور ”سب اچھا” کی گردان سنانے والوں کے حصار میں مقید ہیں، حکومت کے چاپلوس دوست اسے حسینیتؑ کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں، پنجاب میں عزاداری پر عائد غیر آئینی پابندیوں کو چند سبیلوں کے پیچھے چھپانا ممکن نہیں، چار دیواری کے اندر بھی ذکرِ حسینؑ کے خلاف درج ایف آئی آرز حبُِ اہلبیتؑ کے دعوؤں کی نفی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشرۂ اسیرانِؑ کربلا کے اختتامی روز مجلسِ شہادتِ حضرت امام ضامن علی ابن موسیٰ الرضاؑ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ باقر نقوی نے باور کرایا کہ کالعدم جماعتوں کے ساتھ دوستیاں نبھانا شہدائے وطن کے لہو سے خیانت ہے، کالعدم گروپوں کو ساتھ بٹھا کر امن کی تلاش کرنیوالے سراب کے پیچھے سرگرداں ہیں، جن کالعدم گروپوں کو کھالیں اور چندہ دینا جرم ہے انہیں پروٹوکول دینا کیسی وطن دوستی ہے؟ نانا محمدؐ و نواسے حسینؑ کی محافل و مجالس کو دوام حاصل ہے، انہیں روکنے والے اپنی فکر کریں، اربعین کے موقع پر عزادار طرزِ اسلاف کے مطابق فقط مجالس و جلوسہائے عزا کو ترجیح دیں، حکومت موسویؒ جونیجو معاہدے کے مطابق لائسنسی و روایتی جلوسوں کا تحفظ یقینی بنائے، میلادالنبیؐ و عزاداریِ حسینؑ کے جلوس شوکتِ اسلام و سنی شیعہ وحدت کے عظیم مظاہر ہیں، مادرِ وطن میں کوئی مسلکی تنازعہ نہیں، تمام مکاتب شِیر و شکر ہیں، بیرونی تنخواہ داروں کی باہمی ’تو تڑاخ‘ کو فرقہ واریت قرار نہیں دیا جا سکتا، خارجیت سمیت ہر فتنے کا انسدادِ حسینیتؑ کو عام کرنے میں مضمر ہے، ہمارا کوئی سیاسی یا انتشاری ایجنڈا نہیں، اپنے حقوق اور ملک کی نظریاتی اساس کو بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینِ مصطفویؐ کے دفاع کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والے امام علی رضاؑ کی عظمت کا سکہ اسلامیانِ عالم کے دلوں پر نقش ہے اور مشہد میں ان کا مزارِ اقدس بابِ حاجات و مرجعِ خلائق ہے۔
