یومِ شہدائے حسینیؑ محاذ : شہید اشرف علی رضویؒ اور صفدر علی نقویؒ کو زبردست خراج تحسین

ولایت نیوز شیئر کریں

شیعہ مطالبات کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ملت کے عظیم سپوت تھے۔ علامہ آغا سید حسین مقدسی
یومِ شہدائے حسینیؑ محاذ منایا گیا، مجالس و تعزیتی اجتماعات 21 مئی 1985ء کے جونیجو موسویؒ معاہدہ پر عملدرآمد کا مطالبہ
شہید اشرف علی رضویؒ اور صفدر علی نقویؒ کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ علامہ محسن ہمدانی، چوہدری مشتاق حسین کا شہید کی قبر پر شرکاء سے خطاب

راولپنڈی(ولایت نیوز ) شیعہ مطالبات کیلئے 1985ء میں ایجی ٹیشن کے دوران جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہدائے حسینیؑ محاذ سید اشرف علی رضوی اور سید صفدر علی نقوی سمیت مقدس لہو سے مادرِ وطن کو گلزار کرنے والے عساکرِ پاکستان کے سپوتوں اور بِلا تفریقِ مسلک و ملک مرحومین و شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے جمعہ کو تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ پاکستان کے اعلان کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، تمام صوبوں اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں ”یومِ شہدائے حسینیؑ محاذ“ قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔

اس موقع پر راولپنڈی، اسلام آباد اور گرد و نواح کی مساجد و امام بارگاہوں میں قرآن خوانی اور مجالس و ماتمداری کے پروگرام منعقد ہوئے اور جمعہ کے مرکزی اجتماعات میں خطباء حضرات نے شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کِیا اور اُن کے درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ جامع مسجد اہلِ بیتؑ واہ کینٹ میں جمعہ کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹی این ایف جے کے سربراہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے شہدائے حسینیؑ محاذ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی موت قوم کی حیات ہے اور شیعہ مطالبات کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ملت کے عظیم سپوت تھے جن کی قربانیوں کے نتیجہ میں فقۂ جعفریہ کے حقوق اور ہماری شہ رگ عزاداریِ امامِؑ مظلوم کے تحفظ کیلئے حکومتِ وقت کے ساتھ 21 مئی 1985ء کو جونیجو موسویؒ معاہدہ عمل میں آیا۔ علامہ مقدسی نے اس عہد کا اعادہ کِیا کہ عالمِ اسلام، وطنِ عزیز پاکستان کے تحفظ و استحکام اور بقا و سلامتی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور کسی مائی کے لال کو نظریہ اور حقوق کے بارے میں ہرگز سودا بازی نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بخشش کا واحد ذریعہ عزاداری ہے جس کے سوا ہمیں کسی عبادت پر ناز نہیں اور عزائے مظلومِؑ کربلا کا سلسلہ حشر تک جاری رہے گا جسے دنیا کی کوئی طاقت بند نہیں کر سکتی۔ انہوں نے ملک میں جاری دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے باور کرایا کہ دہشت گردی واقعات نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے اور کالعدم تنظیموں کو ملی کھلی چھٹی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم و ملک کی بدقسمتی ہے کہ کالعدم تنظیمیں نظریاتی کونسل تک پہنچ چکی ہیں حکومت اپوزیشن کے دائیں بائیں بیٹھتی ہیں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ خدارا ضربِ عضب اور ردالفساد میں دی جانے والی قربانیوں کو ضائع نہ کِیا جائے، ایکشن پلان کی تمام شِقوں پر عمل کِیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو منافرت تفرقے صوبائی جھگڑوں اور داخلی انتشار کا شکار کر کے عدم استحکام سے دوچار کرنا عالمی ایجنڈا ہے۔بانہوں نے قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کا فرمان دہراتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز میں کوئی شیعہ سُنی لڑائی نہیں پاکستان کی تمام دشمن قوتین جان لیں کہ قتل و غارت گری کے مکروہ ہتھیار کو ہم نے پہلے بھی ناکام بنایا تھا آئندہ بھی وحدت و اخوت کے ساتھ دین اسلام کا چہرہ بگاڑنے اور وطنِ عزیز کو خانہ جنگی کا شکار کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف دہشت گردوں کو ناکام بنا دیں گے۔

راولپنڈی میں علامہ سید محسن علی ہمدانی، علامہ سید شبیہ الحسن کاظمی، علامہ حافظ کرار حسین کاظمی، علامہ حسنین کاظمی، علامہ سید تحسین حیدر، مرکزی کنوینیئر شوکت عباس جعفری ٹی این ایف جے کے مرکزی نائب صدر باوا سید فرزند علی شاہ کاظمی، مرکزی سیکرٹری تنظیم سید ارشاد علی نقوی، مختار فورس رضاکار کے چئیرمین چوہدری مشتاق حسین، سپریم کمانڈر سردار علی اجود نقوی، ایم او کے مرکزی صدر سید ثمر الحسن نقوی، مختار ایس او کے چیئرمین سید محمد عباس کاظمی، ابراہیم اسکاؤٹس کے چیف سید کاشف کاظمی، ٹی این ایف جے ضلع راولپنڈی کے صدر علی ابو ذر چوہان، سید مہدی الحسینی، راجہ خلیل عباس، قاضی وفا عباس، حسن رضا کیانی، باوا سید قاسم علی شاہ کاظمی، سید اقدس شاہ کاظمی، ابو ذیشان نقوی، غلام علی حیدری، شفقت ترابی، عاصم جعفری، باوا اقدس کاظمی، چن پیر کاظمی، ریاض کاظمی، ارج کاظمی، شکیل بھٹی، امجد بھٹی، شعیب بھٹی، وقاص بھٹی، ملک مظہر، امتیاز کاظمی، امجد علی، سید نوید حسین نقوی، سید مسیب شاہ کے علاوہ شہید صفدر نقویؒ کے خانوادہ کی شخصیات، ماتمی سالاروں، نوحہ خواں حضرات نے قبرستان شاہؒ دی ٹاہلیاں نزد کمیٹی چوک میں واقع شہید صفدر علی نقویؒ کے مزارا پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چوہدری مشتاق حسین نے کہا کہ حسینیؑ محاذ سے شیعہ مطالبات کیلئے کِیا گیا ٹی این ایف جے کا واحد ایجی ٹیشن تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا اور آٹھ ماہ تک بِلاناغہ گرفتاریاں پیش کی گئیں جس کے نتیجہ میں ڈکٹیٹر کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایجی ٹیشن کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہم نے مظلومیت کو شعار بنایا اور اسی پالیسی کو اب بھی جاری رکھا ہوا ہے اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی این ایف جے کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو فرقہ وارانہ اسٹیٹ نہیں بننے دیا اور آئندہ بھی ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی بصیرت افروز قیادت کے بعد ٹی این ایف جے کے سربراہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے مکتبِ تشیُع کے حقوق اور عقائدِ حقہ کی ترویج کیلئے ہماری عملی جدوجہد جاری رہے گی اور اس راہ میں کوئی بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے بھی ہرگز دریغ نہیں کِیا جائیگا۔ علامہ سید محسن علی ہمدانی نے کہا کہ مکتبِ تشیُع کے حقوق اور تحفظِ عزاداری کیلئے حسینیؑ محاذ پر جامِ شہادت نوش کرنے والے شہداء اشرف علی رضوی اور صفدر علی نقوی بہت خوش نصیب تھے جو پاکیزہ مقاصد کی جدوجہد میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر گئے۔

شرکائے اجتماع نے اہدافِ ولاء و عزاء کیلئے ٹی این ایف جے کے ہر لائحہ عمل پر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے عہد کا اظہار کِیا۔ اس موقع پر قاری پارٹی نے نوحہ خوانی کی اور علامہ سید شبیہ الحسن کاظمی نے اجتماعی دعا کی۔ درایں اثناء جمعہ کو یومِ شہدائے حسینیؑ محاذ کے موقع پر حسین آباد میلسی ضلع وہاڑی میں ٹی این ایف جے کے وفد نے شہید اشرف علی رضوی کے مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خو انی کی۔ لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، مظفر آباد، باغ سمیت ملک بھر کی جامع مساجد میں علمائے کرام نے اس عہد کا اظہار کِیا کہ جن مقدس و پاکیزہ مقاصد کیلئے شہداء نے اپنا نذرانۂ جاں پیش کِیا تھا اُن کیلئے حصول کیلئے ہم اپنی عملی کوششیں جاری رکھیں گے اور مشنِ ولاء و عزاء پر ہرگز کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ بھی کِیا کہ شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں دیا جائیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.