مقامات مقدسہ کی بحالی کیلئے ڈی چوک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامے مختار آرگنائزیشن کا ماتمی احتجاج ؛ شر پسندوں کی جانب سے جی ایچ کیو اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی مذمت

ولایت نیوز شیئر کریں

مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی کیخلاف مختار آرگنائزیشن کے مختلف شہروں میں ماتمی احتجاجی جلوس، مزاراتِ مقدسہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا مطالبہ
اسلام آباد نیشنل پریس کلب تا ڈی چوک ماتمی احتجاجی ریلی، مختلف مکاتبِ فکر کی شرکت، سُنی شیعہ اتحاد کا فقید المثال عملی مظاہرہ
جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کی مسماری کو سو سال پورے ہو چکے ہیں لیکن آج بھی اسلام کے محسنوں کے مزارات حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں
شہزادہ محمد بن سلمان مزارات کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا اعلان کر کے عالمِ اسلام کے دلوں کو جیت لیں اور اپنی نیک نامی میں لامتناہی اضافے کا سامان کریں
ایران سعودی عرب شام ترکی میں دوستی خوش آئند ہے انتہا پسندی کے عفریت کے قلع قمع اور دوستی کے ان رشتوں کا آغاز جنت البقیع وجنت المعلیٰ کی تعمیر سے کریں
عالمی ادارے مذہبی آثار جو تہذیبی ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں کی مسلسل تباہی پر خاموشی کو توڑیں، اسلامی ورثے کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں
گزشتہ حکومت کے لائے متعصبانہ یکساں نصاب کے خاتمے، پرسنل لاء سے متصادم قانون سازی قابلِ مذمت ہے اور حکومت اہلِ تشیُع کو برابری کی سطح پر مذہبی حقوق دیے جائیں
ازلی دشمن اور دہشتگردوں کے سامنے سینہ سِپر فوج کیساتھ ہر محبِ دین و وطن آپ کی پشت پر ایستادہ ہے، ہم افواجِ پاکستان کے ہر شہید کو سلام پیش کرتے ہیں
سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں کالعدم جماعتوں کو ملنے والی چھوٹ لمحۂ فکریہ ہے، نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کِیا جائے، شر پسندوں کی جانب سے جی ایچ کیو اور فوجی تنصیبات پر حملے قابلِ مذمت ہیں
او آئی سی مسلمانوں میں سائنسی علوم کے فروغ اور ترقی کیلئے بین الاقوامی امام جعفر صادقؑ یونیورسٹی کا قیامِ عمل میں لائے۔ حسن کاظمی
عوامی و شہری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کی جائے، مکتبِ تشیُع کو برابری کی سطح پر حقوق دیے جائیں۔ ایم او کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ملک ابو زمار کی پیش کردہ، قراردادیں

اسلام آباد ( ولایت نیوز) انسانیت کے عظیم محسن سرچشمۂ علم و عرفان فرزندِ رسولؐ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے پیشوائے روحانی قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کے قائم کردہ عالمگیر عشرۂ صادقِ آلِؑ محمدؐ سربراہ تحریکِ نفاذِ فقۂ جعفریہ علامہ حسین مقدسی کی خصوصی ہدایت پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسلامی آثار کی بحالی، نفرت و تشدد کے خاتمے اور عالمِ اسلام کی سائنسی و علمی ترقی و یکجہتی کے عزم کی تجدید کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

اسی مناسبت سے مختار آرگنائزیشن (ایم او) کے زیرِ اہتمام ماتمی احتجاجی ریلی کے شرکاء نے سانحۂ پارا چنار سمیت ملک میں جاری دہشت گردی، قتل و غارت گری، بد امنی، انتہا پسندی کے خاتمے اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کی بیحرمتی و تباہی، جنت البقیع میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام و دیگر آئمہ ہدیٰؑ، صحابہ کبارؓ، امہات المومیننؓ کے مزارات کی مسماری، عراق و شام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں انبیائے کرامؑ و پاکیزہ صحابہ کبارؓ و مشاہیرِ اسلام کی قبور ہائے مطہرات کی تباہی اور پاکستان میں اولیائے کرامؒ کے مزارات پر حملوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ریلی کی قیادت علمائے کرام، مختار آرگنائزیشن کے مرکزی و ضلعی عہدیداران اور دیگر مذہبی رہنما، ماتمی سالار کر رہے تھے۔ اس موقع پر عساکرِ پاکستان سے بھرپور اظہارِ یکجہتی بھی کِیا گیا۔

مختار آرگنائزیشن پاکستان (ایم او) کی جانب سے ڈی چوک میں شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مختار آرگنائزیشن کے شریک چیئرمین سید حسن کاظمی نے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ انسانیت کی فلاح اور کامیابی چاہتے ہیں تو اپنی تمام تر توانائیاں جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کے مزاراتِ مقدسہ کی از سرِ نو تعمیر اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کی طرف صرف کریں اسی میں تمام انسانیت کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اس موقع پر مختار آرگنائزیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ملک ابو زمار کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور منظور کی گئی جس میں اس امر پر افسوس کا اظہار کِیا گیا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سر زمینِ حجاز میں برطانوی سامراج کی سازش کے تحت مسلمانوں کے مقدس مقامات جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کی مسماری کو سو سال پورے ہو چکے ہیں لیکن آج بھی اسلام کے محسنوں۔۔! اہلِ بیتِ اطہارؑ، پاکیزہ صحابہ کبارؓ، امہات المومنینؓ اور نبیؐ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزارات حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس ناقدری کا نشانہ امام صادق علیہ السلام کا مزار بھی ہے جنہیں ساری دنیا سائنسی و علمی انقلاب کا سرچشمہ تسلیم کر چکی ہے اسی لئے آج ملتِ جعفریہ کے جوانوں کی نمائندہ تنظیم مختار آرگنائزیشن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماتمی احتجاج کر رہی ہے۔ قرارداد میں باور کرایا گیا کہ آج ساری دنیا حتیٰ کہ سعودی ولی عہد بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ مغرب کے مکروہ منصوبوں کے تحت تخلیق کی گئی شدت پسندی نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے لہٰذا یہ اجتماع قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی زندگی کے آخری مکتوب (بنام سعودی وزیرِ اعظم و ولی عہد) کے الفاظ کو دہراتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان سے مطالبہ کِیا گیا کہ اپنے وژن 2030ء مطابق شدت پسندی پر ایک اور کاری ضرب لگاتے ہوئے جنت البقیع و جنت المعلیٰ میں بنتِ نبیؐ حضرت فاطمہ زہراؑ، سردارِ جنت امام حسنؑ فقۂ جعفریہ کے بانی امام جعفر صادقؑ سمیت 4 آئمہ اہلبیتؑ، حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ، حضرت عائشہؓ و حفصہؓ سمیت 9 امہات المومنینؓ، پاکیزہ صحابہ کبارؓ کے مزارات کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا اعلان کر کے عالمِ اسلام کے دلوں کو جیت لیں اور اپنی نیک نامی میں لامتناہی اضافے کا سامان کریں۔

قرارداد میں سعودی ولی عہد کی جانب سے انتہا پسندی کے خاتمے کے عزم کو امتِ مسلمہ کیلئے نیک شگون قرار دیتے ہوئے ایران سعودی عرب شام ترکی میں دوستی کے روابط کو خوش آئند قرار دیا اور تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کِیا گیا کہ انتہا پسندی کے عفریت کے قلع قمع اور دوستی کے ان رشتوں کا آغاز جنت البقیع وجنت المعلیٰ کی تعمیر سے کریں تا کہ ان مزارات کی تعمیر کی برکت سے القدس کی آزادی کی راہ بھی ہموار ہو اور مسلم ممالک کے تمام مسائل کا بھی خاتمہ ہو۔ قرارداد میں عالمی امن کے ضامن اداروں، مغربی حکومتوں اور تحفظِ آثار کے اداروں پر یہ زور دیا گیا کہ مسلمانوں کے مذہبی آثار جو پوری انسانیت کے تہذیبی ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں کی مسلسل تباہی پر اپنی خاموشی کو توڑیں اور اسلامی و انسانی ورثے کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

قرارداد میں 21 جنوری 2021ء کو اقوامِ متحدہ کے 75ویں سیشن میں منظور کردہ قرارداد ’مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے امن و برداشت کے کلچر کا فروغ‘ کی قرار داد پر عمل کروائیں جو خود سعودی عرب نے عالمی ادارے میں پیش کی، اور مطالبہ کِیا گیا کہ اسی قرارداد کے تحت عالمی ادارہ جنت المعلیٰ و جنت البقیع کے مزارات کی تعمیرِ نو کیلئے عملی اقدامات کرے۔ قرارداد میں مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کی متواتر بے حرمتی کرنے والے صیہونی شدت پسندوں کی کاروائیوں اور مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں میں اسلامی شعائر کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کِیا گیا۔ قرارداد میں ہالینڈ میں نبیِ کریمؐ کی شان میں گستاخی، سوئیڈن میں قرآن کی توہین سمیت مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کی لہر کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیا۔ قرارداد کشمیر و فلسطین مشرقی سعودی عرب، بحرین نائجیریا کے مظلومین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عالمی اداروں سے کشمیر میں ڈیمو گرافک تبدیلیوں کی بھارتی سازش کے تدارک کا مطالبہ کِیا گیا۔

قرارداد میں گذشتہ حکومت کے لائے متعصبانہ یکساں نصاب کے خاتمے، پرسنل لاء سے متصادم قانون سازی اور عزاداری سید الشہداء امام حسینؑ پر پابندیوں اور عزاداروں کے خلاف ناجائز مقدمات کی پُر زور مذمت کی گئی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کِیا گیا کہ پاکستان کے اہلِ تشیع کو برابری کی سطح پر مذہبی حقوق دیے جائیں۔قراداد میں بلوچستان وزیرستان سمیت ملک بھر میں جاری دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز اور عوام پر دہشت گردوں کے حملوں کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے سانحۂ پاراچنار سمیت دہشت گردی کے تمام سانحات کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کِیا گیا سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں کالعدم جماعتوں کو ملنے والی چھوٹ کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر غیر مشروط عملدرآمد کا مطالبہ کِیا گیا۔

قرارداد میں حالیہ دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے سیاستدانوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے کارکنان کو تشدد سے دور رکھنے کی تربیت دیں، اسی طرح عوامی و شہری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کی جائے۔ قرارداد میں شر پسندوں کی جانب سے جی ایچ کیو اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کِیا گیا، قرارداد میں ازلی دشمن اور دہشت گردوں کے سامنے سینہ سِپر فوج کو یقین دلایا گیا کہ ہر محبِ دین و وطن آپ کی پشت پر ایستادہ ہے ہم افواجِ پاکستان کے ہر شہید کو سلام پیش کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور دشمن کو بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی سازش میں وہ پوری قوم کو پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ قربانی کیلئے تیار پائے گا۔ قرارداد میں او آئی سی سے مطالبہ کِیا گیا کہ مسلمانوں میں سائنسی علوم کے فروغ اور ترقی کیلئے بین الاقوامی امام جعفر صادقؑ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لائے، مسلمان سائنسدانوں کو ریسرچ اور اعلیٰ تعلیم کیلئے امام جعفر صادقؑ سکالر شپ دیے جائیں، امام جعفر صادقؑ کے نام پر تحقیقی ادارے قائم کئے جائیں تا کہ امتِ مسلمہ دوبارہ اس عروج کو پالے جو انتہا پسندوں اور جہالت کے پروردگان کی سازشوں کے سبب عالمِ اسلام سے چِھن چکا ہے۔

قرارداد میں مسلمانوں کے ورثے اور عزت و آبرو کی نشانیوں کی پامالی و بے حرمتی کے خلاف امتِ مسلمہ کے عظیم روحانی پیشوا بصیرت افروز لیڈر آغا سید حامد علی شاہ موسویؒ کی پیہم جد و جہد کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اور اس عزم کو دہرایا گیا کہ جب تک اسلام کے محسنوں کے مزارات کی عظمتِ رفتہ بحال نہیں ہو جاتی ہم پُر امن آوازِ احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس پُر امن جد و جہد کے ذریعے وہ وقت ضرور آئے گا جب بقیع کی روشنیاں بحال ہوں گی اور عالمِ اسلام میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔علامہ سید شبیہ الحسن کاظمی، جمیل قریشی نے بھی ریلی سے خطاب کِیا۔

بعد ازاں مظاہرین نوحہ خوانی و ماتمداری اور پرسہ پیش کِیا اور ڈی چوک میں پُر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری، انتظامیہ کے افسران، مختارفورس کے رضا کار، مختار ایس او اور ابراہیم اسکاؤٹس (اوپن گروپ) انتظام و انصرام کیلئے ریلی کے آغاز سے اختتام تک موجود تھے۔ در ایں اثناء پشاور، فیصل آباد، لاڑکانہ، کراچی، لاہور، جھنگ، خیرپور، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفر آباد، گلگت، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھی مختار آرگنائزیشن کی جانب سے ماتمی ریلیاں نکالی گئیں اور پُر امن مظاہرے ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.