۱۹صفر اسلام آباد میں چہلم شہدائے کربلا کا مرکزی جلوس : زائرین کیلئے بارڈر بندشوں اور ویزا مسائل کا مستقل حل نکالا جائے ، علامہ بشارت امامی کا میڈیا و عزاداروں سے خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

اسلام آباد میں چہلم شہدائے کربلا کا مرکزی جلوس علم و ذوالجناح مرکزی امام بارگاہ جی سکس ٹو سے برآمدہوا
امام عالی مقام حسینؑ نے کربلا میں جو قربانی پیش کی صبح قیامت تک اس نے حق و باطل میں حد فاصل طے کردی، علامہ بشارت امامی
اہل وطن سیلاب کی آزمائش میں گذر رہے ہیں،لوگ بے گھر اور بے سروسامان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
عراق کے لئے پاکستانی زائرین کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، عراقی حکومت سے درخواست ہے زائرین کے لئے سہولیات مہیا کریں
پرامن شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ہے اور کالعدم دہشت گرد آزادانہ کھوم رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں پھر سے شورش اٹھ رہی ہے
زائرین کے لئے بارڈر کی بندش اور سہولیات کے فقدان سے بہت مسائل ہوئے ہیں،زائرین کی پالیسی وضع کی جانی چاہئے
انتظامیہ کے تعاون پر شکر گزار ہیں،عزاداری سیل 8 ربیع الاول تک جاری رکھے جائے۔ ٹی این ایف جے کے مرکزی رہنماکادوران جلوس میڈیاسے خطاب
ون ٹو چوک پر مجلس عزا، ماتمی تنظیموں کی سینہ زنی و نوحہ خوانی، لال کوارٹر میں زنجیر زنی،جلوس میں علم عباسؑ، ذولجناح و دیگر تبرکات شامل

اسلام آباد ( ولایت نیوز) نواسہ رسول ؐ سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ ابن علی علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کا چہلم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ19صفر کو منایا گیا۔اس موقع پر مرکزی جلوس ذوالجناح و علم امامبارگاہ جی سکس ٹو لال کوارٹر سے برآمدہوا۔

جلوس کے آغاز میں میڈیا اور بعدازاں ون ٹو چوک میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی رہنما علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے کہاہے آج چہلم امام حسین ایسے حالات میں منا رہے ہیں کہ اہل وطن سیلاب کی آزمائش میں گذر رہے ہیں،لوگ بے گھر اور بے سروسامان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہاکہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لئے مساجد و امام بارگاہ کھول د دیئے گئے ہیں،جعفریہ فلڈ ریلیف بھی متاثرین کی امداد میں مصروف ہے،سیاست دان کھیل کھیل رہے ہیں جبکہ ہمارے بھائی بہن کھلے آسان تلے بیٹھے ہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اداروں اور سیاست دانوں کے اتحاد سے ممکن ہے۔

????????????????????????????????????

علامہ امامی نے باورکرایاکہ کالعدم جماعتوں کے نام پر تو پابندی ہے کام پر کوئی پابندی نہیں،کالعدم رہنما حزب اقتدار میں بھی شامل ہیں اور حزب اختلاف میں بھی شامل ہیں،انہوں نے کہاکہ قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی نے کہا تھا کہ کالعدم جماعتوں کو پابند کیا جائے،پرامن شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ہے اور کالعدم دہشت گرد آزادانہ کھوم رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پھر سے شورش اٹھ رہی ہے،آقائے موسوی کا فرمان ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت شیعہ سنی میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔

علامہ امامی نے محرم الحرام میں انتظامیہ کے بھرپور تعاون پر شکر یہ اداکرتے ہوئے واضح کیاکہ عزاداری سیل 8 ربیع الاول تک جاری رکھے جائے،روایتی جلوسوں اور مجالس پر قائم مقدمات ختم کئے جائیں،انہوں نے افسوس کااظہارکیاکہ عراق کے لئے پاکستانی زائرین کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، عراقی حکومت سے درخواست ہے زائرین کے لئے سہولیات مہیا کریں،زائرین کے لئے بارڈر کی بندش اور سہولیات کے فقدان سے بہت مسائل ہوئے ہیں،،زائرین کی پالیسی وضع کی جانی چاہئے۔ علامہ امامی نے کہاکہ ٹی این ایف جے کے مطالبے پر پاکستان کے وزیر داخلہ نے عراقی حکومت سے زائرین کے مسئلے پر بات کی،بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتا،ٹی این ایف جے اپنے قائد آقائے موسوی کے رہنما اصولوں پر کاربند ہے،،عزاداری پر کوئی پابندی قبول نہیں کریں گے،،زائرین کے حوالے سے اپنی تجاویز تحریری طور پر حکومت پاکستان اور عراقی سفیر کو دے چکے ہیں،زائرین کے حوالے سے پالیسی کا مسودہ تیار ہے اس پر مرکز مکتب تشیع سے مشاورت کرکے حتمی شکل دی جائے،داعش کے دور میں عراقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بارڈر کھلے ہیں زائرین آئیں،تو اب ایسا کیا ہوا کہ سرحد بند کردی گئی،عراقی حکومت کی جانب سے ویزہ پابندی کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

علامہ بشارت امامی نے کہاکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے حسین مجھ سے ہیں میں حسین سے ہوں، امام حسین نے کربلا میں جو قربانی پیش کی صبح قیامت تک اس نے حق و باطل میں حد فاصل طے کردی،کربلا ظلم کے مقابلے کا مظلومیت سے مقابلے کا درس دیتا ہے،واقعی کربلا کے بعد پیغام حسین کو حضرت زینب نے اس کی بقا کا انتظام کیا،یزید نے واقعی کربلا کے بعد اعلان کیا کہ باغی مارے گئے،علی کی بیٹی حضرت زینب نے دربار یزید میں ایسا خطبہ دیا کہ یزیدیت جو بے نقاب کردیا۔۔

جلوس عزا میں علماء کرام، ذاکرین اور عزادارن کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر لال کوارٹر میں زنجیر زنی اور ون ٹو چوک پر مجلس عزا بپا کی گئی۔

زنجیرزنوں کی سہولت کیلئے ابراہیم سکاؤٹس کی جانب سے فرسٹ ایڈ میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا تھاجلوس میں علم عباسؑ، ذولجناح و دیگر تبرکات شامل جبکہ راستہ پر جگہ جگہ سبیل و لنگر کے کیمپ لگائے گئے تھے۔

جلوس کے مرکز میں مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے راجہ انوار شہید ٹرسٹ کے تعاون سے وسیع و عریض عزاداری کیمپ لگایا گیا تھا جس میں ہزاروں عزاداروں کیلئے لنگر، سبیل کا انتظام کیا گیا تھا ۔عزاداری کیمپ میں عزاداروں کو درپیش مسائل حل کیلئے سنٹرل ڈیسک بھی سید ارشاد علی نقوی ، ذوالفقار علی راجہ و علامہ فخر عباس عابدی کی سرکردگی میں مسلسل کام کرتا رہا۔

جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ اثنا عشری میں اختتام پزیر ہوگیا۔اس موقع پر سیکیورٹی فورسز نے سخت حفاظتی انتظامات کررکھے تھے مختار ایس او، مختار فورس والنٹئیرز، ابراہیم سکاؤٹس، ام البنین ڈبلیو ایف سمیت دیگر تنظیموں نے بھی سیکیورٹی چیکنگ میں معاونت کے فرائض انجام دیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.