زینبؑ بی بی کربل آئی ہیں ؛ کربلائے معلی میں روئے زمین کا سب سے بڑا اجتماع

ولایت نیوز شیئر کریں

کربلائے معلی (ولایت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک ) کربلا کے اجڑے ہوئے قافلے کی سالار سیدہ زینب بنت علی ؑ اور امام سجاد علیہ السلام اس انداز میں سر شہادت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے 20 صفر کو کربلا پہنچے کہ آج ان کی سنت ادا کرنے کیلئے پوری دنیا سے کروڑوں زائرین اربعین کے موقع پر کربلا والوں کو خراج تحسین اور حضرت زینب بنت علی ؑ کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے کربلا پہنچتے ہیں ۔

کورونا کی پابندیوں ، فلائٹوں کی عدم دستیابی سرحدوں کی بندش کے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق دو کروڑ عزاداروں نے 1443 کے اربعین میں شرکت کی جس میں تمام مسالک ہی نہیں تمام مذاہب کے افراد شامل تھے ۔ ان مناظر کی ترجمانی شہید محسن نقوی کے یہ الفاظ کررہے ہیں کہ

نہ کوئی لشکر، نہ سر پہ چادر، مگر نجانے ہوا میں کیونکر
غرورِ ظلم و ستم کے پُرزے اڑا گئی ہے علی ؑ کی بیٹی

پہن کے خاکِ شفا کا احرام، سر برہنہ طواف کر کے
حسین ! تیری لحد کو کعبہ بنا گئی ہے علیؑکی بیٹی

کئی خزانے سفر کے دوران کر گئی خاک کے حوالے
کہ پتھروں کی جڑوں میں ہیرے چھپا گئی ہے علی ؑ کی بیٹی

یقیں نہ آئے تو کوفہ و شام کی فضاؤں سے پوچھ لینا
یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی ہے علی ؑکی بیٹی

خانہ کعبہ کی حرمت بچانے والے امام حسین ؑ کے مرقد کو بطلہ کربلا سیدہ زینب بنت علی کی قربانی و استقلال سے محروموں مظلوموں بے نواؤں کا کعبہ بن جانے کا اعتراف ہر سال اربعین کے موقع پر کربلا میں ہونے والا اجتماع کرتا ہے ۔ روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی جانب سے جارہ کردہ پریس ریلیز کے مطابق (20 صفر الخیر 1443 ھ) بمطابق (28 ستمبر 2021 ) کو دو پہر کے وقت تک (16327542) ایک کروڑ تریسٹھ لاکھ ستائیس ہزار پانچ سو بیالیس زائرین اربعین میں شرکت کے لیے کربلا میں داخل ہوئے اورنواسہ رسول الثقلین حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہنشاہ اقلیم وفا حضرت عباس علمدار کے روضہ مبارک پر حاضری دیکر سنت سیدہ زینب ؑ ادا کی ۔

یہ اعداد و شمار کربلا میں داخلے کے مرکزی راستوں (بغداد – کربلا روڈ) ، (نجف – کربلا روڈ) ، (بابل – کربلا روڈ) ، (حسینیہ – کربلا روڈ) کی ابتدا میں نصب الیکٹرانک گنتی کے نظام سے حاصل کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کربلا میں داخلے کے ذیلی راستوں سے آنے والے زائرین کی تعداد مذکورہ بالا اعداد وشمار میں شامل نہیں ہے کہ جو کئی ملینز پر مشتمل ہے۔ اسی طرح دوپہر کے بعد سے بھی زائرین کی بڑی تعداد جوق در جوق کربلا میں داخل ہوتی رہی دوپہر کے بعد آنے والے زائرین مذکورہ بالا اعداد و شمار کا حصہ نہیں ہیں۔

روضہ مبارک امام حسینؑ اور روضہ مبارک حضرت عباسؑ میں قائم ’’عراق اور اسلامی دنیا میں شعائر و حسینی مواکب کے سیکشن‘‘ کے سربراہ الحاج ریاض نعمہ السلمان کے مطابق اس اربعین امام حسینؑ 1443ھ میں کربلا گورنریٹ کی حدود میں اربعین امام حسینؑ میں (12،400) رجسٹرڈ مواکب نے شرکت کی چہلم میں شریک وہ خدماتی وعزائی مواکب جو رجسٹرڈ نہیں وہ مذکورہ بالا اعداد وشمار میں شامل نہیں ہیں اور ان کی تعداد بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہے۔

انھوں نے مزید بتایا: اربعین میں شامل مذکورہ بالا مواکب تین اقسام پر مشتمل ہیں:
1:- خدماتی مواکب کہ جنہوں نے کربلا گورنریٹ کی حدود میں زائرین کے لیے کھانے، پینے، رہائش اور دیگر ضروری سروسز کے انتظامات کیے۔
2:- عزائی مواکب کہ جنہوں نے مراسم عزاء میں شرکت کی اور ماتم اور زنجیر زنی کے جلوس برآمد کیے۔
3:- بہت سے مواکب ایسے بھی ہیں کہ جنھوں نے ناصرف زائرین کو خدمات فراہم کیں بلکہ مراسم عزاء میں بھی شرکت کی۔

ریاض نعمہ السلمان کے مطابق اربعین میں 63 غیر ملکی مواکب نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے مزید کہا: "ان مواکب کا تعلق کویت ، عمان ، سعودی عرب ، لبنان، بحرین، ایران، برطانیہ، پاکستان، سویڈن، بھارت،افغانستان، ترکی، تنزانیہ، نائیجیریا اورکینیا سے تھا اور یہ سب مواکب حکومت عراق کی منظوری کے بعد ملک میں داخل ہوئے اور وزارت صحت اور کرائسز سیل کی سفارشات کی مکمل پابندی کرتے ہوئے مراسم اربعین میں شریک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.