جہاں ذکر حسینؑ پر پابندیاں ہوں وہ ریاست مدینہ نہیں ہو سکتی!!سیدہ زینب ؑکا اعجاز ہے کہ آج شام پرحسینیت ؑ کا پرچم لہراتا ہے، آغا حامد موسوی ؛ اربعین حسینی ؑ پرشہر شہر مجلس و ماتم

ولایت نیوز شیئر کریں

چہلم شہدائے کربلا اربعین حسینی ؑ:شہر شہر جلوسوں و مجالس عزا کا انعقاد، عزاداروں کا ماتم زنجیر و قمہ زنی؛ شیعہ سنی یکجہتی کا عملی مظاہرہ
حسینؑ بنائے لالہ‘ حسین ؑ دین پناہ ہیں دشمن کو ناکام اور ’ڈومور‘ ختم کرنا ہے تو حسینی انکا ر کی طرح استعمار کے سامنے ڈٹ جانا ہوگا، آغا حامد موسوی
ذکر حسین ؑدراصل ذکر رسول ؐ ہے جہاں رسول ؐ کے نواسے حسین ؑکے جلوسوں اور مجالس کو گھروں میں بھی روکا جائے وہ ریاست مدینہ نہیں ہو سکتی!
گھروں میں عریانی فحاشی ڈھول ڈھمکا ہو سکتا ہے فرزند رسول ؐ کی مجلس نہیں کی جا سکتی؟، عاشقان اہلبیتؑ کو انسانی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے
ریاست مدینہ وہی ہو گی جس میں میثاق مدینہ ہوگاجو تمام مسالک قبائل اور مذاہب کے حقوق کی ضمانت تھا،پابندیوں سے ذکر حسین ؑ کو دبانے کی خواہش خام خیالی ہے
حسینی فکر کے بجائے یزیدی فکر کا عام کیا جانا تشویشناک ہے،قائد اعظم کو سر عام گالی دی جارہی ہے،نتظامات اقدامات وہی ہونا چاہئیں جو حسین کے نانا محمد مصطفی ؐ کوپسند ہیں
افغان پالیسی سوچ سمجھ کر بنائی جائے جلدبازی نہ کی جائے،متشدد جماعتوں کے صرف نام نہیں کام پربھی پابندی لگائی جائے، تکفیری نعرے بند کرائے جائیں
اربعین حسینی صحابہ کرام کی سنت ہے، ظالمین حسینیت کو مٹادینا چاہتے تھے اسیران کربلا نے تاابد زندہ و جاوید کردیا،سیدہ زینب ؑکا اعجاز ہے کہ آج شام پر یزیدیت کے بجائے حسینیت ؑ کا پرچم لہراتا ہے
قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی کا کمیٹی چوک میں عزاداروں و میڈیا سے خطاب فوراہ چوک میں علامہ قمر زیدی، حسن کاظمی چوہدری مشتاق ابو نسم بخاری کا خطاب
قراردادوں میں یکساں نصاب اورفیملی لاز سمیت عقائد کے منافی قانون مسترد،، کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر تشویش‘ ایکشن پلان پر عمل اور، ۸ ربیع الاول تک جلوسوں کے تحفظ کا مطالبہ
جلوسوں میں ابراہیم سکاؤٹس مختارفورس والنٹیرز کے ہزاروں رضا کاروں کا حفاظتی انتظامات میں تعاون، ایم او مختار سٹوڈنٹس نے عزاداری کیمپ لگائے، اہلسنت کی جانب سے سبیلیں

اسلام آباد/راولپنڈی ( ولایت نیوز)دنیا بھر کی طرح پاکستان بھر میں منگل 20صفر کو دین مصطفوی ؐکی بقاو تحفظ اور حرمت انسانیت کی سربلندی کیلئے کربلا میں بے مثال قربانی دینے والے نواسہ رسول الثقلینؐ حضرت امام حسین علیہ السلام اور اُنکے72جانثاروں کا چہلم (اربعین حسینی) مذہبی و قومی جذبے اورعقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ تمام شہروں قصبوں دیہات میں میں ماتمی جلوسوں کا انعقاد کیا گیا اور مجالس اربعین منعقد کی گئیں جن میں بلاتفریق مذہب مسلک عاشقان رسالت ؐو حسینیت نے شرکت کرکے نواسہ رسول ؐ امام حسین ؑ کی لازوال قربانی کو خراج تحسین پیش کیاجلوسوں سبیلوں و لنگر کے انتظامات میں شیعہ سنی یکجہتی کا بے نظیر مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کامرکزی جلوس چہلم قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ،ا مام بارگاہ کرنل مقبول حسین، امام بارگاہ حفاظت علی شاہ سے حسب روایت بر آمد ہوئے جن میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی جلوس کی۔ مرکزی جلوس چہلم کے دوران عزاداروں اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ حسینؑ بنائے لالہ ہیں حسین ؑ دین پناہ ہیں اگر دشمن کو ناکام کرنا ہے تو حسینی انکا ر کی طرح استعمار کے سامنے ڈٹ جانا ہوگا اسلام اور کفر کی پالیسیاں ساتھ نہیں چل سکتیں،جب تک پاکستان کے نظریے کو ترجیح نہیں دی جائے گی پاکستان سے ڈومور ہوتا رہے گااور اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہے گانظریہ پاکستان الاسلام ملۃ واحدہ اور الکفر ملۃ واحدہ ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی ے کہا کہ ذکر حسین ؑدراصل ذکر رسول ؐ ہے جہاں رسول ؐ کے نواسے حسین ؑکے جلوسوں اور مجالس کو گھروں میں بھی روکا جائے وہ ریاست مدینہ نہیں ہو سکتی! ریاست مدینہ وہی ہو گی جس میں میثاق مدینہ ہوگاجو تمام مسالک قبائل ہی نہیں تمام مذاہب کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت تھا، یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جہاں گھروں میں عریانی فحاشی ڈھول ڈھمکا ہو سکتا ہے فرزند رسول ؐ کی مجلس نہیں کی جا سکتی عاشقان اہلبیتؑ کو انسانی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے،پابندیوں سے ذکر حسین ؑ کو دبانے کی خواہش خام خیالی ہے ،حسینی فکر کے بجائے یزیدی فکر کا عام کیا جانا تشویشناک ہے پاکستان کے موسس قائد اعظم کو سر عام گالی دی جارہی ہے،ریاست مدینہ بنانے کیلئے تمام انتظامات اقدامات وہی ہونا چاہئیں جو حسین کے نانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند ہیں۔

افغانستان پالیسی سوچ سمجھ کر بنائی جائے جلدبازی نہ کی جائے ورنہ مسائل مصائب بڑھیں گے۔

مختار فورس کے والنٹیئرز تبرکات کی حفاظت پر ایستادہ

چہلم سید الشہداء اور امن کیلئے انتظامات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چہلم شہدائے کربلاکے اچھے انتظامات اسی صورت موثر ہوں گے جب تکفیری نعرے بند کرائے جائیں جب عزاداری پر پابندی کا خاتمہ ہو گا متشدد انتہا پسند جماعتوں کے صرف نام نہیں کام پر پابندی لگائی جائے آذاد کشمیر گلگت کنٹومنٹ تمام انتخابات میں کالعدم جماعتوں نے حصہ لیا صرف ناموں پر پابندی فضول ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ داستان عشق کے دوباب کربلا و دمشق ہیں ایک حسین ابن علی ؑ اور دوسرا نواسی رسول سیدہ زینب ؑ نے رقم کیا، امام حسین ؑ نے دین و شریعت کے تحفظ اور انسانی اقدار کی پاسبانی کیلئے انمول قربانی دی جس کا تحفظ اسیران کربلا نے کیا، یزیدی فوج نے شہدائے کربلا کی لاشوں کو پامال کیا یزیدی فوج کے لاشوں کو دفن کردیا گیا لیکن رسول کی اولاد کو دفن کرنے والا کوئی نہ تھا پھر لشکر یزید شہدائے کربلا کے ر سرو ں کو نیزے پر بلند کرانعامات کیلئے زیاد ویزید درباروں میں لے گئے تاریخ اسلام میں نیزوں پر بلند ہونے والا پہلا سر نواسہ رسول امام حسین ؑکا تھا،نبی کریمؐ کی بیٹیوں کے بے مکنہ و چادر قیدی بنا کر کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایا جاتا رہا، لیکن یہ اسیران کربلا اور نواسی رسول ؐ سیدہ زینبؑ ؑکا اعجاز ہے کہ آج شام پر یزیدیت کے بجائے حسینیت ؑ کا پرچم لہراتا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ کربلا میں اربعین حسینی کرہ ارض کا سب سے بڑا اجتماع بن چکا ہے جو جابر بن عبداللہ انصاری ؓ جیسے پاکیزہ صحابہ کرام ؓکی سنت و یادگار بھی ہے دنیا کا ہر مظلوم کربلا کے شہداء اور اسیران کربلا کو خراج پیش کرتا نظر آٹا ہے جنہوں نے نہ صرف اسلام بلکہ انسانیت پر احسان عظیم کیا جنہوں نے بے سروسامانی کے باوجود کلمہ حق کے ذریعے جابر ترین حکمران کے جاہ وجلا ل کو خاک میں ملا دیا، مظلوموں کو حوصلہ عطا کیا، صداقت پر ڈٹ جانے کا عملی درس دیا،، طاقتوروں کو پرامن جدوجہد کے ذریعے جھکانے کا راستہ دکھا دیا۔کربلا کی آواز جسے ظالم دبا اور مٹادینا چاہتے تھے اسے اسیران کربلا نے تاابد زندہ و جاوید کردیا،یہ اسیران کربلا کی قربانیوں کا صدقہ ہے کہ آج امام حسین ؑ کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں ظالموں کیلئے درس فنا بن کر گونج رہا ہے،کربلائے غزہ ہو یا آ ٹھ لاکھ بھارتی کے محاصرے میں دنیا کا سب سے بڑا قیدخانہ کشمیر، ہر مظلوم لبیک یا حسین ؑ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ظالموں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ جب تک نواسہ رسول ؐ کا درس حریت باقی ہے کوئی ظلم جبر کا ہتھکنڈا مظلوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتا۔

مرکزی جلوس چہلم نے فوارہ چوک میں پہنچ کر مجلس کی شکل اختیار کرلی، اس موقع پرابو نسم بخاری نے قراردادیں پیش کیں جنہہیں شرکاء نے زبردست نعروں کی گونج میں منظور کیا قراردادوں میں متعصبانہ یکساں نصاب کو نظریہ اساسی سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے سے اجتناب کیا جائے،فیملی لاز سمیت مسالک و مذاہب کے عقائد کے منافی کوئی قانون سازی نہ کی جائے، کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متشدد گروہوں کی بیخ کنی کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے کہ 8ربیع الاول تک عزاداری کے جلوس جاری رہیں گے جنہیں موسوی جونیجو معاہدے کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے، میلا دمصطفی ؐوحدت و اخوت کے جذبے کے تحت منائیں گے

اس موقع پر عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے ٹی این ایف جے کے سیکرٹری اطلا عات علامہ قمر زیدی نے کہا کہ عزاداری سید الشہداء امام حسین ؑ سیدہ زینب و سید سجاد کی سنت ہے جس سے ہر دور کے آمر خوفزدہ ہیں حسینیت کا پرچم کشمیرو فلسطین کے مظلوموں کے حوصلے اور ولولے کو تقویت بخش رہا ہے بھارتی بندوقوں سے برستے آتش و آہن کے سامنے حسینی پرچم اٹھائے سینہ سپر حریت پسندوں کا جذبہ کربلا کا مرہون منت ہے۔

علامہ سیدقمرحیدرزیدی نے امام عالی مقام کی انمول قربانی پرروشنی ڈالی اورشام سے رہائی کے بعدخاندان رسالت کی خواتین کی کربلا و مدینہ واپسی کے مصائب بیان کئے جسکے بعد فوارہ چوک میں زنجیرزنی اور ماتم داری کی گئی اس مو قع پر معروف سکالر چوہدری ابو بیدار علی،ڈاکٹر این ایچ نقوی اور حسن کاظمی نے بھی خطاب کیا۔

امام بارگاہ شہیدان کربلاٹائر بازار اورمحلہ دربار سخی شاہ چن چراغ سے سے برآمد ہونے والے ذوالجناح کے جلوس بھی مرکزی جلوس چہلم میں شامل ہوگئے۔مرکزی جلوس قدیمی امامبارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔علمائے کرام اورتحریک کے سینئرعہدیداران اختتام تک جلوس میں شریک رہے۔مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن،مختار جنریشن کی جانب سے فوارہ چوک میں مرکزی عزاداری کیمپ لگا یا گیا تھا ابراہیم سکاؤٹس کے چاق وچوبنددستے نے تمام راستے جلوس کی قیادت کی جبکہ حبیب بینک چوک میں میڈیکل کیمپ لگایا گیاجہاں ماتمیوں کیلئے ابتدائی طبی امداد کا بندوبست کیا گیا تھا،عزاداروں کی سہولت کیلئے جامع مسجد روڈ پر مختار آرگنائزیشن نے عزاداری کیمپ لگایا۔

علمائے کرام، مختار فورس کے جوان،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی جعفریہ ایکشن کمیٹی اور محرم کمیٹی عزاداری سیل کے رہنما اورمقامی انتظامیہ کے افسران پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ تمام راستے جلوس کے ساتھ تھے۔

درایں اثنا ہیڈ کوارٹر مکتب تشیع میں آمدہ اطلاعات کے مطابق کراچی لاہور پشاور کوئٹہ ملتان فیصل آبادگوجرانوالہ گجرات ڈیرہ غازی خان سکھر خیر پور حیدر آباد ڈیرہ اسماعیل خان جھنگ سرگودھا لیہ خوشاب چکوال جہلم گجرات ڈیرہ مراد جمالی جیکب آباد سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں قصبوں سے اربعین حسینی چہلم شہدائے کربلا کے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.