امریکہ افغانستان میں پراسرار کھیل کھیل رہا ہے، قوم کی نسلیں قائد اعظم کے کھرے کردار پرسدا ناز کریں گی،آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

افغان پالیسی پرکوئی فیصلہ جلدبازی میں نہ کیا جائے ایک ایک قدم اتفاق رائے سے اٹھایا جائے،قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
امریکہ پراسرار کھیل کھیل رہا ہے استعماریت و صیہونیت گھاٹے کے سودے نہیں کرتے، افغان سرزمین سے بڑا ٹارگٹ پاکستان اور اسکی ایٹمی صلاحیت ہے
افغانستان اور خطے کی سیاست میں امریکہ کی بچھائی بارودی سرنگوں سے محتاط رہا جائے،خارجی و داخلی پالیسیوں کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق ڈھالا جائے
قائد اعظم نے اسلامی نظریاتی ریاست کی تشکیل سے دنیا کا نقشہ ہی نہیں تاریخ کا دھارا بدل دیا، کوئی لیڈر اس کرشماتی کارنامے کی مثال نہیں پیش کرسکتا
قائد کے بعد آنے والے لیڈروں نے وطن کیلئے قربانی دینے کے بجائے قومی مفادات کو قربان کرنا شروع کردیا،حب الوطنی کے بجائے ہوس اور مفادحکمرا ن بن گئے
قوم کی نسلیں قائد اعظم کے کھرے کردار جرات تدبر صداقت اور دوراندیشی پرسدا ناز کریں گی، مجلس شہیدہ زنداں سے خطاب،قائد اعظم کی تاسی میں ملک بھر میں مجالس عزا

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ افغان پالیسی کے حوالے سے کوئی فیصلہ جلدبازی میں نہ کیا جائے ایک ایک قدم اتفاق رائے سے اٹھایا جائے، امریکہ افغانستان میں پراسرار کھیل کھیل رہا ہے استعماریت و صیہونیت گھاٹے کے سودے نہیں کرتے مت بھولا جائے کہ ا فغان سرزمین سے بڑا ٹارگٹ پاکستان اور اسکی ایٹمی صلاحیت ہے، امریکہ نے 20سال میں افغان سرزمین اور خطے کی سیاست میں جو بارودی سرنگیں بچھائی ہیں ان سے محتاط رہنا اشد ضروری ہے،خارجی اور داخلی پالیسیوں کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق ڈھالا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تاسی میں عشرہ شہیدہ زنداں کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسلامی نظریاتی ریاست کی تشکیل سے دنیا کا نقشہ ہی نہیں تاریخ کا دھارا بدل دیا اوراپنے نام کو اپنے کام سے سچ کر دکھا یا ، دنیا کے کسی خطے اور ملک کا کوئی لیڈر قائد اعظم کے کرشماتی کارنامے کی مثال نہیں پیش کرسکتا،قوم کی نسلیں قائد اعظم کے کھرے کردار جرات تدبر صداقت اور دوراندیشی پرسدا ناز کریں گی،کربلا کے معصوموں شہزادہ علی اصغر ؑ و شہزادی سکینہ کی قربانی نے یزیدیت کی شکست میں نمایاں ترین کردار ادا کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑاالمیہ ہے کہ قائد کی رحلت کے بعد یہ پاک وطن ان قوتوں کے ہاتھوں چڑھ گیا جن کا اس ملک کی تشکیل پر کچھ خرچ نہ ہوا تھا قیام پاکستان کے مقاصدسے نابلد اور دولت و طاقت کے پجاریوں نے وطن عزیز کو ان اہداف سے دور کردیا جن کے حصول کیلئے یہ ارض وطن تشکیل دیا گیا تھا جس کی چاہ میں کروڑوں مسلمانوں نے ہجرت مدینہ کی تاسی میں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا درد برداشت کیا لاکھوں جانیں قربان کی گئیں جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

علم حضرت عباس ؑ کے سائے میں بانی پاکستان کا جنازہ

انہوں نے کہا کہ قائد کے بعد آنے والے لیڈروں نے وطن کیلئے قربانی دینے کے بجائے قومی مفادات کو قربان کرنا شروع کردیا عصبیتو ں کو فروغ دیا گیا حب الوطنی کے بجائے ہوس اور مفاد کی حکمرانی قائم ہو گئی جس کے نتیجے میں ازلی دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع مل گیااور قیام پاکستان کے محض25سال بعد ملک دولخت ہوگیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دشمن یہ سمجھا تھا کہ پاکستان دولخت ہونے سے نظریہ پاکستان بھی دولخت ہوگیا لیکن یہ اس کی بھول تھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی نیتاؤں کے اقدامات ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے نظریہ اساسی پر مہر تصدیق ثبت کرتے چلے آرہے ہیں ہندوستان کی سیکولر حکومتیں ہوں یا جنونی انتہا پسندوں کا راج، ہر دور اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے نفرت و تشدد کا نیا عہد ثابت ہو اہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بہت سی اندرونی و بیرونی قوتیں پاکستان کی یکجہتی و سالمیت کے درپے ہیں تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ناکامی ان کا مقدر رہے گاکیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان آج بھی نظریہ اساسی اور وطن عزیز پاکستان کے دشمنوں کیلئے ترجمان حقیقت ہے کہ”جو لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ختم کردیں گے، بڑی سخت بھول میں مبتلاء ہیں، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا شیرازہ بکھیرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی، اِس پاکستان کا جس کی جڑیں مضبوط اور گہرائی کے ساتھ قائم کردی گئی ہیں“۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ وطن عزیز کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ علامہ اقبال ؒاور بانیان پاکستان کے فرمودات کی روشنی میں ڈھال کر ہی قیام پاکستان کیلئے دی گئی قربانیوں کی لاج رکھی جاسکتی ہے۔

درایں اثنا تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی کال پر ملک بھر میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تاسی میں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا جن میں دین و وطن کی سربلندی کیلئے حسینی جذبہ کیساتھ ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.