کربلا میں 7 محرم کو شہزادی سکینہؑ کے ماشکی حضرت عباسؑ کی یاد میں برآمد ہونے والا ماشکیوں کا جلوس عزاء

ولایت نیوز شیئر کریں

کربلائے معلی (ولایت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک) کربلائے معلی کے شعائر عزاداری میں سات محرم کا دن شہنشاہ وفا حضرت عباس علمدار کے ساتھ مختص ہے اور انہی کی یاد میں ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں ۔

اس کی وجہ حضرت عباس(ع) کی بہادری اور امام حسین(ع) سے وہ عظیم وفا ہے جس کی بلندیوں تک نہ کوئی پہنچ سکا ہے اور نہ کوئی پہنچ سکے گا۔ معرکہ کربلا میں حضرت عباس(ع) اکیلے ہی ایک پوری فوج کے برابر تھے جب تک وہ زندہ رہے حرم رسول(ص) نے اپنے آپ کو محفوظ سمجھا۔

حضرت عباس(ع) کی شجاعت کی وجہ سے ہی ابن زياد ملعون کی فوج کے ایک سردار نے کہا تھا امام حسین(ع) کی پوری فوج کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور عباس بن علی(ع) کی تلوار کو دوسرے پلڑے میں تو تب بھی عباس(ع) کا پلڑا بھاری ہی ہو گا اس لیے جب تک عباس(ع) کے بازو سلامت ہیں ہم حسین بن علی(ع) کو شہید نہیں کر سکتے۔

صدام حسین کی بعثی حکومت نے 7 محرم کو کربلا سے نکالے جانے والے موكب عزاء السقّاية (ماشکیوں کا ماتمی جلوس) پر پابندی لگا رکھی تھی تین سال پہلے 50سال کے بعد ّموكب عزاء السقّايةٗ نے دوبارہ اپنا مخصوص جلوس عزاء برآمد کرنا اور روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں حاضری دے کر پرسہ پیش کرنا شروع کیا۔

آج سات محرم کو اس موکب نے اپنے رویتی انداز میں جلوس نکالا جسے دیکھ کر ہر عزادار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے اور ہر ایک کو خیام حسینی میں موجود بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔

موکب عزاء السقّاية کا لفظی معنی ماشکیوں کا جلوس عزاء ہے۔ موكب عزاء السقّاية کے جلوس عزاء میں شامل عزادار لائنوں کی شکل میں آگے بڑھتے ہیں اور ہر عزادار نے پانی کی مشک یا صراحی تھامی ہوتی ہے اور وہ عزاداروں کو پانی پلاتے ہوئے اور ماتم و نوحہ خوانی کرتے ہوئے چلتے رہتے ہیں۔

7محرم کی رات اور دن کے دوران عراق کے دیگر شہروں اور کربلا میں حضرت عباس(ع) کے مصائب پڑھے جاتے ہیں اور موکب عزاءِ سقایۃ کا نام بھی حضرت عباس(ع) کے لقب سے ماخوذ ہے اس لیے ان کا جلوس عزاء بھی حضرت عباس(ع) کے ساتھ مخصوص دن میں برآمد ہوتا ہے۔

کم سن بچے ہاتھوں میں خالی برتن اور بزرگ افراد مشکیزے اٹھائے شہزادی سکینہ بنت الحسین ؑ کے ماشکی حضرت عباس کی وفا کو یاد کرکے گریہ و ماتم کرتے رہے اور پورا کربلا غم و حزن کی کیفیت میں ڈوبا رہا ہر آآنکھ سے اشکوں کے جھڑیاں لگی تھیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.