سردارِ شہداء حضرت حمزہ بن عبد المطلبؑ: جن پر گریہ سنت رسولؐ اور زواری سنت زہراؑ ہے

ولایت نیوز شیئر کریں

پندرہ شوال تین ہجری کو مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان ایک خون ریز جنگ ہوئی جسے تاریخ میں جنگ احد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسی جنگ کے بارے میں قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی : (وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ) آل عمران:166.

ترجمہ:اورجو کچھ بھی اسلام و کفر کے لشکر کے مقابلہ کے دن تم لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے وہ خدا کے علم میں ہے اور اسی لئے کہ وہ مومنین کو جاننا چاہتا تھا.
جنگ احد کی المناک یادوں میں سے ایک اس جنگ میں رسول اکرم(ص) کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب (ع) کی شھادت بھی ہے۔

حمزہ کے معنی شیر یا تیز فہم کے ہیں۔حمزہ بن عبد المطلب، رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور شہدائے احد میں سے ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عُمارہ و ابو یعْلی ہے۔

انہیں "اسد اللہ” اور "اسدُ رسولِ اللہ” جیسے القاب دیئے گئے ہیں۔ یہ القاب انہیں غزوہ احد میں دردناک شہادت کے بعد حضرت جبرئیل نے رسول خدا کے ذریعہ لقب عطا کئے۔

ان کے القاب میں سے ایک سید الشہداء ہے۔ملا صالح مازندرانی فرماتے ہیں کہ کہ یہ لقب عاشورا سے پہلے تک حمزہ کے لئے مخصوص تھا لیکن عاشورا کے بعد یہ امام حسین (ع) کا لقب بن گیا۔ حمزہ اپنے زمانہ کے سید الشہداء ہیں لیکن امام حسین (ع) ہر زمانے کے سید الشہداء ہیں۔ جس طرح سے حضرت مریم اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں لیکن حضرت فاطمہ زہرا (س) تمام زمانوں کی خواتین کی سردار ہیں۔ (شرح اصول کافی )

حضرت حمزہ(ع) رسول خدا(ص) کے نزدیک بہت ہی بلند اور مقرب ترین منزلت رکھتے تھے روایات میں مذکور ہے کہ رسول خدا(ص) نے سب سے پہلا علَم حضرت حمزہ کو عطا کیا اور ان کی بہادری اور ایمانی بلندی کی بنا پہ انہیں اسلامی لشکر کا سب سے پہلا علمدار مقرر کیا۔

ابو جہل کی قیادت میں تین سو سواروں کے قافلہ کی نگرانی کرنے کے لیے رسول خدا (ص) نے حضرت حمزہ(ع) کو تیس سواروں کا سالار بنا کر بھیجا اور اس موقع پہ انہیں اسلام کا پہلا علم عطا کیا۔ حضرت حمزہ (ع) نے نبی کریم (ص) کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس قافلہ کی ہر طرح کی نقل و حرکت پہ نظر رکھی۔ اس واقعہ میں دونوں اطراف کے درمیان کوئی جنگی جھڑپ نہ ہوئی اور قافلہ کے گزر جانے کے بعد جناب حمزہ اپنے مختصر لشکر کے ہمراہ واپس مدینہ آ گئے۔
حضرت حمزہ(ع) نے غزوة بواط، ابواء اور بني قينقاع میں بھی علمداری کے فرائض سر انجام دئیے۔

غزوہ بدر میں جناب حمزہ نے بڑھ چڑھ کر اسلامی لشکر کی مدد کی اور اپنی بہادری اور اسلام سے پُر خلوص عقیدت کو سنہری الفاظ میں تاریخ کی پیشانی پہ ثبت کیا۔

غزوہ احد میں حضرت حمزہ کی شجاعت، بہادری اور اسلام کے دفاع کے لیے ادا کیے جانے والے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حضرت حمزہ(ع) نے جنگ بدر میں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو جہنم واصل کیا تھا جس کی وجہ سے مشرکین مکہ نے جنگ احد میں انتقام کی آگ بجھانے کے لیے حضرت حمزہ (ع) کو اپنا اولین ہدف قرار دیا۔ حضرت حمزہ(ع) کے ہاتھوں جنگ بدر میں قتل ہونے والوں میں ہند بنت عتبہ کے قریب ترین عزیز و اقارب بھی شامل تھے۔ ہند نے اپنے جہنم واصل ہونے والے باپ اور بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے وحشی بن حرب کو انعام و اکرام کی لالچ دے کر حضرت حمزہ(ع) کے قتل پہ مامور کیا۔ ہند کی طرف سے وحشی نامی اس حبشی غلام کو اس کام پہ مامور کرنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت حمزہ(ع) کے مقابلے میں جو بھی آتا وہ ہر صورت میں قتل ہوتا اور آمنے سامنے ہونے والے مقابلے میں کسی کے لیے بھی حضرت حمزہ(ع) پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ جبکہ وحشی نامی حبشی غلام ایک چھوٹے نیزے کو دور سے ہدف کی طرف پھینکنے میں مہارت رکھتا تھا اور اس زمانے میں عربوں میں اس چھوٹے نیزے کا اس طرح سے استعمال معروف نہیں تھا لہٰذا جنگ احد کے دوران جب حضرت حمزہ(ع) مشرکین مکہ کو واصل جہنم کر رہے تھے اس وقت وحشی نے دور سے چھپ کر اپنے اس چھوٹے نیزہ کو حضرت حمزہ(ع) کی طرف پھینکا جو حضرت حمزہ(ع) کے پیٹ میں آ کر پیوست ہو گیا اور اسی کی وجہ سے جناب حمزہ(ع) نے جام شھادت نوش کیا۔ جناب حمزہ (ع) کی روح پرواز کرنے کے بعد ہند نے جناب حمزہ کا پیٹ چاک کر کے ان کا جگر نکال کر دانتوں سے چبانا چاہا لیکن بحکم خدا پتھر میں تبدیل ہو گیا۔

کتب اہلسنت میں مذکور ہے کہ ہند بنت عتبہ حمزہ کے جسم بے جان کے قریب آئی اور بدن کا مثلہ کر دیا اور ان کے اعضاء جسمانی سے ہار، کنگن، بالیاں اور پازیب بنالی اور انہیں حمزہ کے کلیجے کے ہمراہ مکہ لے گئی۔ مروی ہے کہ معاویہ بن مُغیرہ اور ابو سفیان بن حرب نے بھی حمزہ کے بدن کا مثلہ کیا یا اس پر چوٹیں لگائیں۔(البلاذری ، ابن ہشام ، الواقدی )

رسول خدا(ص) کو جب اپنے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب(ع) کی شہادت کی خبر ملی تو اللہ کے رسول(ص) بہت زیادہ غمزدہ ہوئے آپ(ص) نے مسلمانوں کو اپنے چچا کی میت پہ ماتم کرنے کا حکم دیا اور خود بھی ان الفاظ میں اپنے چچا پہ نوحہ پڑھا: (لن أُصاب بمثلك، ما وقفتُ موقفاً قَطّ أَغْيَظُ عَليَّ من هذا الموقف) (يا عمَّ رسولِ الله، وأسدَ الله، وأسدَ رسولِ الله، يا حمزةُ يا فاعل الخيراتِ، يا حمزةُ يا كاشف الكُرُبَاتِ، يا حمزةُ يا ذابّاً يا مَانِعاً عن وجه رسول الله..)

الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب کے مطابق جب رسول اللہؐ نے بعد از شہادت حمزہ کی وہ حالت دیکھی تو روئے اور پھر انصار کے اہل خانہ کو دیکھا جو اپنے شہداء کے لئے گریہ و بکاء کر رہے تھے تو فرمایا: "لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں ہے”۔ سعد بن معاذ نے آپؐ کی بات سن لی اور انصاری خواتین کو رسول خداؐ کے گھر کے دروازے پر لائے اور وہ انھوں نے حمزہ کے لئے گریہ کیا؛ اس دن کے بعد جب بھی کوئی انصاری خاتون اپنے کسی مرحوم کے لئے رونا چاہتی پہلے حمزہ کے لئے گریہ و بکاء کرتی تھی۔ مروی ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے حمزہ کے سوگ میں تین دن تک لباس عزا پہنے رکھا۔ (ابن اثیر، واقدی ، طبقات )

تاریخ مدینہ منورہ کے مطابق شہزادی کونین سیدہ فاطمہ زہراءؑ قبر حمزہ کی زیارت پر جاتی تھیں اور آپؑ نے قبر کے گرد پتھر رکھ کر نشان لگایا تھا۔ انہوں نے ان کی خاک قبر سے ایک تسبیح بنائی تھی جس وہ تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.