”خاتم البنین“ لازمی قراردینے کی متفقہ قرارداد خوش آئند؛ ‘وآلہ’ کا لفظ شامل کیا جائے،قائد ملت جعفریہ آغا حامدموسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

حضرت فاطمہ معصومہ قم ؑ کا یوم ولادت پر نورمذہبی جذبے اور عقیدت واحترام کیساتھ منایاگیا
حضرت محمدؐ کیساتھ”خاتم البنین“ لازمی قراردینے کی متفقہ قراردادمیں ”وآلہ“ کالفظ شامل کیاجائے۔ قائد ملت جعفریہ آغا حامدموسوی
مولاناکوثرنیازی نے باقاعدہ کا نوٹیفیکیشن جاری کیاتھا،ا سلام تلوارسے نہیں حضورؐ کے اہلبیت اطہارؑ، پاکیزہ صحابہ کبارؐ کے کردارسے پھیلاہے
گھناؤنی سازش کے تحت مشترکہ دشمن پاکستان میں عصبیت کوفروغ دیکرمسلمہ مکاتب کوآپس میں دست وگربیاں کرکے دوقومی نظریے کوسبوثاژکرناچاہتاہے
عوام پوری طرح چوکنارہیں،ملک میں بدامنی کاسبب بنے والے کسی قسم کے احتجاج،اشتعال انگیزی کی کال پرکان مت دھریں
اسلامی مقدسات کی بیحرمتی،گستاخان خانوادہ اہلبیتؑ کیخلاف سینٹ،قومی اسمبلی، خبیرپختونخوا، بلوچستان میں بھی قرارداد منظورکرکے عملدرآمدکروایا جائے
حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم ؑ معصومہ قم ؑکی سیرت وکردار طبقہ نسواں کیلئے مشعل راہ ہے۔ قائدملت جعفریہ کایوم عظمت نسواں کی مرکزی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ( ولایت نیوز) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماء بورڈ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ درسی کتب، تعلیمی اداورں میں حضرت محمدؐ کے نام کیساتھ خاتم البنین ؐ لکھنا، پڑھنااوربولنالازمی قراردینے کیلئے قومی اسمبلی کی متفقہ قراردادمیں خوش آئندہے جس میں صلی اللہ علیہ کے ساتھ ”وآلہ“کالفظ شامل کیاجائے، مولاناکوثرنیازی مرحوم نے اس بارے میں نوٹیفیکیشن بھی جاری کیاتھا،ایک استعماری گھناؤنی سازش کے تحت ہمارامشترکہ دشمن پاکستان میں عصبیت کوفروغ دیکرمسلمہ مکاتب کوآپس میں دست وگربیاں کرکے دوقومی نظریے کوسبوثاژکرناچاہتاہے تاکہ اسلام تلوارسے پھیلنے کے منفی پروپیگنڈے کوکوتقویت مل سکے،عوام پوری طرح چوکنارہیں اورملک میں بدامنی کاسبب بنے والے کسی قسم کے احتجاج اوراشتعال انگیزی کی کال پرکان مت دھریں، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اورگستاخان خانوادہ اہلبیتؑ کیخلاف سینٹ،قومی اسمبلی، خبیرپختونخوا، بلوچستان میں قرارداد منظورکرکے اس پرعملدرآمدکروایا جائے، سب کوذہن نشین رکھناچاہئے کہ اپنے نظریے کامثبت اندازمیں پرچارکرنارواداری لیکن کسی دوسرے پراپنانظریہ وعقیدہ تھوپناعصبیت ہے جس کی دین میں اجازت نہیں، اسلام تلوارسے نہیں بلکہ حضورؐاکرم کے اہلبیت اطہارؑ، پاکیزہ صحابہ کبارؐ کے اخلاق وکردارسے پھیلاہے،حج اسلام کی فرع ہے جوہرصاحب استطاعت پرزندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے، استطاعت صرف مالی نہیں بلکہ حالات اورسفری سہولیات کی فراہمی سے بھی مشروط ہے، اگرحکومت حج سے روک دے تومشکلات اورروکاوٹیں دورہونے کے بعد مستطیع پرفریضہ حج کی ادائیگی واجب ہوجائیگی، اوآئی سی کی وڈیولنک کانفرنس میں مقبوضہ کشمیرمیں آپریشن بند کرنے، آبادی تناسب تبدیل کرنے سے بازرہنے کی اوآئی سی کی قراردادمنظورکرکے بھارت پر زبانی زوردینے پراکتفاناکافی ہے اس پرعمل درآمدبھی کروایاجائے، یہی کام فلسطینیوں کیخلاف نیتن یاہوکررہاہے ہنودوہیوددونوں استعماری پٹھوؤں کواستعماری سرغنہ کی پشت پناہی حاصل ہے مگرمسلم حکمرانوں اورعرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک اورسوالیہ نشان ہے؟ کشمیروفلسطین کے سلگتے ہوئے مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں، فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق حل ہوئے بغیرعالمی امن کاخواب ہرگزشرمندہ تعبیرنہیں ہوگا، خانوادہ بنی ہاشم ؑ کے ہرمردوزن نے شریعت کی پاسبانی کاحق اداکیاجن میں حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم ؑ معصومہ قم سلام اللہ علیھاکی سیرت وکردار طبقہ نسواں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ان خیالات اظہارانہوں منگل کوحضرت فاطمہ معصومہ قم کی ولادت پرنورکے موقع پریوم عظمت نسواں کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آقای موسوی نے باورکرایاکہ حضرت امام جعفرصادق کافرمان ہے کہ حرم خداوندی مکہ مکرمہ، حرم رسول ؐ مدینہ منورہ، حرم علی نجف جبکہ ہماراحرم قم المقدسہ ہے جہاں ہماری ایک بیٹی مدفن ہوگی جس کی زیارت واجب ہے (بحوالہ سفینۃ البحار)حضرت معصومہ قم بنت امام موسیٰ کاظم ؑ کاحرم قدسیہ نہ صرف مرکزکرامات اورمرجع کائنات ہے۔

درایں اثنا قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق منگل کوحضرت فاطمہ معصومہ قم بنت حضرت امام موسی کاظم ؑ کا ولادت پرنور”یوم کریمہ اہلبیت ؑ“ مذہبی جذبے اورعقیدت واحترام کیساتھ منایاگیا۔اس موقع پر مذہبی تنظیموں اور دینی اداروں کے زیر اہتمام احتیاطی تدابیر پرعمل کرتے ہوئے محافل میلاد میں کرونا کے خاتمے کیلئے دعائیں اور مناجات کی گئیں۔امام بارگاہ زین العابدین ؑ سٹیلائٹ ٹاؤن میں مولاناملک اجلال حیدرالحیدری، تفضل عباس ملک کے زیراہتمام جشن کریمہ اہلبیتؑ کاانعقادکیاگیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ سید قمرحیدرزیدی نے کہا کہ حضرت معصومہ قمؑ کا مزار آج بھی رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے دنیا بھر سے تشنگان علم و حکمت و روحانیت قم کے حوزہ علمیہ سے فیض پاتے ہیں وہاں ہر روز لاکھوں حاجت مند نبی کریم ؐ کی کریمہ بیٹی کے آستانے پر اپنی من کی مرادیں پاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حضرت معصومہ قم کے مزار سمیت انبیاء اہلبیت صحابہ و اولیاٗ کے مزارات اسلام کی امن پسندی کی روشن دلیلیں ہیں جہاں سے بلا رنگ و نسل مذہب ملت ملک مسلک ہر کوئی فیض پاتا ہے۔سید قمر زیدی نے قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو پاکیزہ ہستیوں کے ایام شایان شان طریقے سے منانے کا اعلان کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ عورت کی مادر پدر آزادی کا نعرہ لگا کر حرمت نسواں کو خاک میں ملا دیا۔انہوں نے کہا کہ برگزیدہ بندگان الہی ٰ میں سے ایک عظیم ہستی دخترامام موسیٰ کاظم ہیں جن کے توسل سے مرا دیں حاجات اور دعائیں مستجاب ہو تی ہیں۔ جشن سے علامہ علی باصرصادقی، ذاکرچوہدری عباس رضاجھنڈوی، ذاکرآغاحمادرضاحیدری،ذاکرحیدرعلی چوہدری، ذاکرسیدزین العابدین کاظمی اور ذاکرواصف علی مشہدی نے خطاب کیا۔قرارداد میں قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مشن ولا و عزا کے فروغ‘دینی حقوق کے حصول اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے ان کے حکم پر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے عہد کا اظہار بھی کیا گیا۔اختتام جشن پرمولاناملک اجلال حیدرالحیدری نے شرکاء کاشکریہ اداکیا۔س موقع پر امت مسلمہ کے مصائب و آلام کے خاتمے اور کرونا وائرس کی وبا سے نجات کیلئے دعائیں اور مناجات کی گئیں۔امام بارگاہ اہلبیت ؑ واہ میں محفل سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سیدحسین مقدسی نے کہاکہ حضرت فاطمہ بنت موسیٰ کاظم سلام اللہ علیھا نے رشد و ہدایت کے باب میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جن کی بدولت اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے مرقد منورہ پر دنیا کے ہر گوشے سے سالکان راہ ہدایت حاضر ہو کر فیض پاتے ہیں۔ہیئت طلبائے اسلامیہ کے زیراہتمام علی ہال میں محفل سے مفتی باس عباس زاہری نے خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.