مکتب تشیع کے خلاف متعصبانہ رویہ بدلا جائےبصورت دیگر بڑے اقدام سے دریغ نہیں کریں گے، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

ولایت نیوز شیئر کریں

جب سے کورونا وبا آئی ہے مکتب تشیع کو دبانے کی فضا قائم کی جا رہی ہے زائرین کو مہینوں طویل ابتلا کا سامنا کرنا پڑا ، علامہ حسین مقدسی صوبائی صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
مسائل افہام و تفہیم بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں پاکستان میں امن و محبت کے دعویداروں کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں،ٹی این ایف جے
عزاداروں بانیان ذاکرین پر قائم ایف آئی آرز کا خاتمہ کیا جائے، شہری حقوق پامال کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی کی جائے
پاکستان کے درجہ اول کے شہری کے طور پر مکتب تشیع کو حقوق دیئے جائیں ملت جعفریہ تعاون میں پیچھے نہیں رہے گی
یوم انہدام جنت البقیع کو صحابہ و اہلبیت امہات المومنین اور دختر رسول حضرت فاطمہ زہراؑ کی قبروں کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کو مختلف شہروں میں روکا گیا
18جیٹھ کوجھنگ میں خواتین کی مارپیٹ جیسے اقدامات سے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا
شہادت فاطمہ زہراؑ کی مجالس پڑھنے پر ذاکرین کو گرفتار کیا جارہا ہے
عمر بن عبد العزیز شیعہ سنی کے نزدیک محترم، ان کی قبر کی بے حرمتی پر احتجاج جائزہے تو صحابہ اہلبیت کی قبروں کی بے حرمتی پر شیعوں کے احتجاج پر قدغنیں کیوں؟
خدارا پاکستان میں مقبوضہ کشمیر جیسے حالات پیدا کرکے دشمن کو خوش نہ کیا جائے
ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل کالعدم جماعتوں کو معاہدوں میں ضامن بنایا جا رہا ہے، علامہ حسین مقدسی
ہمیشہ کورونا وبا کیلئے حفاظتی تدابیر کو مقدم رکھا مزید بھی بہتر بنائیں گے حقوق کی سلبی قبول نہیں کریں گے، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی صدر علامہ حسین مقدسی کی دیگر رہنماؤن خے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس

لاہور(ولایت نیوز) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے صوبائی صدر علامہ حسین مقدسی اور سیکرٹری عزاداری سید حسن کاظمی نے دیگر رہنماؤن کے ہمراہ پنجاب میں مکتب تشیع کے خلاف ہونے والی متعصبانہ اور معاندانہ کاروائیوں کے خلاف لاہور پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کیا اور حالیہ دنوں میں فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کے ساتھ ہونے والی متواتر زیادتیوں سے صحافیوں کو آگاہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو روکا جائے ۔

پریس کانفرنس کا مکمل متن حسب ذیل ہے ۔

باسمہ تعالی
پریس کانفرنس
صوبائی صدر و عہدیداران تحریک نفاذفقہ جعفریہ پنجاب
معزز صحافیان گرامی السلام علیکم!
آ پ سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر ہماری معروضات سننے کیلئے تشریف لائے
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وطن عزیز پاکستا ن شیعہ سنی برادران کی مشترکہ کوششوں کا ثمرہ ہے پاکستان کے دفاع ترقی استحکام میں تمام مکاتب کا برابر کا حصہ رہا ہے یہی وہ حقیقت ہے جو پاکستان کے دشمنان کو کبھی ہضم نہ ہوئی اور انہوں نے ہمیشہ اس بین المسالک یکجہتی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کی تا کہ وطن عزیز کی بنیادیں کھوکھلی کرکے وطن عزیز کو بھی ایسے ہی حالات کا شکار کردیا جائے جن کا سامنا لبنان لیبیا یمن شام کو رہا اور وہ اندرونی افتراق کے سبب خانہ جنگیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔پاکستا ن میں بھی اسمکروہ مقصد کو عروج جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں حاصل ہو اجب اس دشمن کی سازش کو ریاستی سرپرستی حاصل ہو گئی اور ملک میں صوبائی، لسانی ہی نہیں فرقہ وارانہ عصبیتوں کو بڑھاوا دیا جانے لگا بیرونی ممالک کے پیسے سے پراکسی لڑائیوں کیلئے سازگار ماحول بنایا گیا لیکن خوش قسمتی سے پاکستان میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی جیسی ہستیاں موجود تھیں جنہوں نے اس سازش کو نہ صرف بھانپا بلکہ اس کا بھرپور مقابلہ کرکے اسے ناکام کردیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے 35سال قبل وطن عزیز میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو ملنے والے بیرونی سرمایہ روکنے کا مطالبہ کیا، فتنہ و فساد پھیلانے والی جماعتوں پر پابندی کا مطالبہ کیا، مذہب مسلک کے نام پر انتخابی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی، مکتب تشیع نے دہشت گردی کے مقابلے میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے پاکستان میں کسی بھی شیعہ سنی لڑائی کے تاثر کی متواتر نفی کی،مختصر یہ کہ سپریم کورٹ میں موسسوی امن فارمولا پیش کیا جس کے نتیجے میں انسدا دہشت گردی ایکٹ سے لے کر نیشنل ایکشن پلان تک بتدریج ایسے اقدامات اٹھائے گئے جس سے انتہا پسندوں دہشت گردوں کے عزائم کو کسی حد تک ناکام بنانے میں مدد ملی۔اور امن کی صورتحال کسی حد تک بہتر ہو گئی لیکن ریاستی سطح پرمارشل لائی حکومت نے جو عصبیت انگیز پالیسیاں بنائی تھیں وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور قومی یکجہتی کیلئے سخت نقصان دہ ہیں اور حالیہ دور میں ایک بار پھر ا ن میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے سبب آپ کو یہاں بلانے کی زحمت کی ہے۔

معزز صحافیان!
جب سے کورونا وبا آئی ہے مکتب تشیع کو دبانے کی فضا ایک بار پھر قائم کی جا رہی ہے، جیسے ہی کورونا کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تومخصوص متعصب حلقوں کی جانب سے اس کا الزام شیعہ زائرین پر ڈالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں زائرین کو مہینوں طویل ابتلا کا سامنا کرنا پڑا جو ایک علیحدہ درد کی داستان ہے بعد میں ثابت ہونے والے حقائق نے یہ واضح کردیا کہ زائرین میں کسی کو کورونا کا مرض لاحق تھا تو اس نے قرنطینوں میں رہ کر مقابلہ کیا لیکن جن دوسرے ذرائع سے کورونا شہر شہر پھیلا وہ آپ کے سامنے ہے۔

کورونا کے آغاز کے ساتھ ہی مجالس عزا اور شیعہ عبادات کو حفاظتی ایس او پیز کے تحت مرتب کیا جانے لگا جس کی ہزاروں مثالیں آپ کو دی جا سکتی ہیں آئمہ اہلبیت ؑ کے ایام شہادت پر ہونے والی مجالس و عزاداریوں کے سوا اکثر مقامی مجالس ویسے ہی محدود کردیئے گئے۔ رمضان سے قبل صدر اور وزیر اعظم نے اجلاس بلائے جن میں کالعدم تنظیموں کو تو بلایا گیا لیکن مکتب تشیع کی نمائندہ جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو مدعو نہ کیا گیا جس کی وجہ سے مکتب تشیع کے حوالے سے زمینی حقائق فیصلہ سازوں کے علم میں ہی نہ آسکے عزاداروں ذاکرین بانیان مجالس کی آواز کو مکمل نظر انداز کیا گیاصدر کے اجلاس کے بیس نکاتی ایس او پیز میں تراویح شبینہ سب موجود تھا لیکن ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؑ، نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ، غزوہ بدر فتح مکہ اور سب سے بڑھ کو یوم شہادت علی ؑ کے اجتماعات مجالس عزاداریوں کو اس قابل بھی نہ سمجھا گیا کہ ان کے بارے میں غور بھی کیا جاتا۔

حضرت علی ابن ابی طالب ؑ شیعہ سنی مسلمانوں ہی نہیں پوری انسانیت کے ہیرو ہیں ان کے یوم شہادت پر ہر شہر میں لاکھوں کے اجتماعات منعقد ہو تے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور عزاداروں کی مشاورت سے پالیسی تشکیل دیتی کسی صوبائی اجلاس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا موقف نہیں سنا گیا اور من پسند کمیٹیوں کی بنیاد پر حکومت نے شہادت علی ؑ کے جلوسوں پر پابندی عائد کرڈالی جس کے ردعمل میں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے علامتی ماتمی احتجاج کی کال دی اور آپ سب نے دیکھ لیا کہ لاہور سے رحیم یار خان تک لاکھوں افراد اپنے مذہبی فریضہ کیلئے باہر نکل آئے ہون اتو یہ چاہئے تھا کہ حکومت گذشتہ غلطی سے سبق سیکھتی حکومت نے ملتان سیالکوٹ نارواوال راولپنڈی چکوال جھنگ سمیت ہر شہر میں عزاداروں پر لاتعداد ایف آئی آررز قائم کردیں کئی مقامات پر عزاداروں کو گرفتار بھی کیا گیا اورعزادار اپنے ملک میں اپنا بنیادی حق استعمال کرنے کی پاداش میں تھانے کچہریاں بھگت رہے ہیں۔

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے ہماری صوبائی کمیٹی نے فیصل آباد میں ایک جلوس کے حوالے سے پولیس کے ضلعی افسر سے بات کی تو بجائے افسر نے مسئلہ حل کرنے کے شیڈول فور میں شامل کرنے کی دھمکی دی اور تحریک کے عہدیدار کو کالعدم تنظیموں کے افراد کے ذریعے دھونس بھی دلوائی گئیجس پر آئی جی آفس میں ہماری شکایت شنوائی کی منتظر ہے۔

ایسے ہی ۸ شوال یوم انہدام جنت البقیع کو صحابہ و اہلبیت امہات المومنین اور دختر رسول حضرت فاطمہ زہراؑ کی قبروں کی بے حرمتی کے خلاف صوبہ بھرمیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ماتمی احتجاج کو جھنگ، سیالکوٹ، دینہ، چکوال سمیت مختلف شہروں میں روکا گیا۔

18جیٹھ صدیوں سے پاک و ہند میں مقامی تقویم کے مطابق یوم شہادت نواسہ رسول کے طور پر منایاجاتا ہے اس روز بھی لاہور سمیت اکثر شہروں میں عزاداروں کو ریاستی طاقت ے ذریعے عبادات سے روکا گیا بالخصوص جھنگ میں پولیس کی کاروائی سے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیاخواتین پر ڈنڈے برساتی پولیس، دروازوں کو ڈنڈے مارتے وردی پوش، بکتر بند گاڑیاں ایسا منظر پیش کررہی تھیں جیسے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کاروائیاں کررہی ہو۔بجائے اس کے کہ سوشل میڈیا کے دور میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروانے والے افسران کے خلاف کاروائی ہوتی الٹا سینکڑوں عزاداروں پر مقدمات قائم کردیئے گئے۔بھکر میں شہادت خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ کی مجلس پڑھنے کی پاداش میں ذاکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دو دن قبل شہادت امام جعفرصادق علیہ السلام کے پروگرام شروع ہوئے تو چکوال میں امام بارگاہ پیر بخاری میں ہونے والی مجلس کے شرکاء کو پولیس نے بزور امام بارگاہ سے باہر نکال دیا اور جب ان عزاداروں نے پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا تو سینکڑوں عزاداروں پر جھوٹی ایف آئی آر درج کردی گئی کئی ایک کو گرفتار کرلیا گیا۔گذشتہ روز ٹی این ایف جے چکوال کے صدرنے شہادت امام جعفر صادق ؑ پر قائم ہونے والے جھوٹے کیس میں ضمانت کروائی تو انہیں کچہری سے ہی شہادت علی ؑ کے جلوس نکالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا یہ اقدام حکومتی انتظامیہ کے انتقامی رویے کا عکاس ہے۔

راولپنڈی ویسٹریج میں ایک قدیم روایتی جلوس کو پولیس روکنے کی کوشش کرتی رہی اور بانیان کو کبھی روٹ بدلنے کبھی صرف مجلس کرنے کا کہتی رہی پھر روڈجلدی چھوڑنے کا کہا بانیان نے صرف دس منٹ میں انتطامیہ کی خواہش پر روڈ سے جلوس کو گزار دیالیکن انتقام پر اتری انتظامیہ نے حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کا کیس سینکڑوں عزاداروں پر قائم کردیاجبکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام شرکا کو سینی ٹائز کیا جارہا ہے اور جلوس میں شامل پولیس افسران نے خود ماسک بھی نہیں پہن رکھے۔ آپ ہر روز اخبارات میڈیا کو دیکھ لیں وزیر اعلی سمیت صوبائی افسران تک سماجی فاصلے اور ماسک کی پابندیکی خلاف ورزی کرتے نظر آرہے ہیں لیکن عزاداروں کو کیسز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

معزز صحافیان!حضرت عمر بن عبد العزیز شیعہ سنی کے نزدیک قابل احترام ہستی ہیں پاکستان کی تمام تنظیموں نے ان کے مزار کی بے حرمتی پر تمام تنظیموں نے احتجاج کیا کسی پر کوئی مقدمہ ایف آئی آر درج نہیں ہوئی لیکن عمر بن عبد العزیز اور ان سے ہزاروں درجے بلند صحابہ و اہلبیت امہات المومنین کے مزارات کیلئے جب مکتب تشیع آواز احتجاج بلند کرے تو ان پر مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں۔

کیا روزنامہ جنگ کے مدیر میر شکیل الرحمن کیلئے تین ماہ سے احتجاج نہیں ہو رہا، صحافی پٹواری ڈاکٹر سرکاری ملازمین اپنے حقوق کی پامالی پر احتجاج کررہے ہیں لیکن مکتب تشیع سے یہ بنیادی حق بھی چھینا جار ہا ہے ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں ہمیں ایف آئی آرز سے دبایا ڈرایا نہیں جا سکتاخدارا پاکستان میں مقبوضہ کشمیر جیسے حالات پیدا کرکے دشمن کو خوش نہ کیا جائے۔کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل کالعدم جماعتوں کو معاہدوں میں ضامن بنایا جا رہا ہے دہشت گردوں کو محترم بنا کر پاک فوج اور سویلین شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہاہے۔

ہم نے ہمیشہ کورونا وبا کیللئے حفاظتی تدابیر کو مقدم رکھا مزید بھی بہتر بنائیں گے ہم اپنے مسائل افہام و تفہیم بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں متواتر انہی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ پاکستان میں امن و محبت کے دعویداروں کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہم نے متعدد بار وزیر قانون، وزیر اعلی ہوم سیکرٹری سے ملاقات کی کوشش کی ان کی عدم دستیابی پر ہی آپ کے ذریعے اپنی بات ارباب حل و عقد تک پہنچانا مقصود ہے ہمیں امید ہے کہ آپ ہماری آواز کو اجا گر کریں گے۔

ہم صدر وزیر اعظم وزیر اعلی آرمی چیف چیف جسٹس تمام سے اپیل کرتے ہیں کہ مکتب تشیع کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافی کا نوٹس لیں اور فوری اقدامات اٹھائیں عزاداروں بانیان ذاکرین پر قائم ایف آئی آرز کا خاتمہ کیا جائے۔
حکومت کو بدنام اور شہری حقوق پامال کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی کی جائے۔
ضلعی و صوبائی امن کمیٹیوں سے کالعدم جماعتوں اور ان کی سرپرستی و پشت پناہی کرنے والوں کو خارج کیا جائے۔
نیشنل ایکشن پلان پر ہر صورت عمل کیا جائے اور کالعدم جماعتوں سے روابط رکھنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
متحدہ علماء بورڈ، امن کمیٹیوں میں قوم کے حقیقی نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ عوام اور حکومت کا ربط قائم ہو سکے۔
صرف ود ماہ بعد ایام عزائے حسینی کا آغاز ہوجائے گا آٹھ ربیع الاول تک جاری رہنے والی عزاداری کیلئے ایس او پیز کو فائنل کرنے کیلئے قوم کے حقیقی نمائندوں سے رجوع کیا جائے۔

ہم آخر میں پھر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے پیارے وطن کی خاطر ہر مصیبت آزمائش جھیلنے اور ہر قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن اپنے حقوق پر سودابازی اور سمجھوتہ کبھی نہیں کریں گے اگر مکتب تشیع کے خلاف متعصبانہ معاندانہ رویہ نہ بدلا گیا تو ہم اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کرتے ہوئے کسی بڑے اقدام سے دریغ نہیں کریں گے اگر ایسا ہوا تو دنیا امریکہ میں ہونے والے احتجاج کو بھول جائے گی کیونکہ ظلم کے خلاف مظلومانہ احتجاج کا سلیقہ دنیا نے ہم حسینیوں سے سیکھا ہے۔اگرارباب اقتدار پاکستان کے درجہ اول کے شہری کے طور پر ہمیں ہمارا حق دیں گے تو ہمیں بھی ہمیشہ دو قدم بڑھ کر تعاون کرنے والوں میں پائیں گے۔

خداوند عالم پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے اور پوری انسانیت کو اس ظالم وبا سے نجات دے۔آمین
والسلام
صوبائی صدر
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
علامہ حسین مقدسی
حسن کاظمی صوبائی سیکرٹری عزاداری
ریجنل صدر سید ذوالفقار نقوی
ضلعی صدر مولانا آصف ہاشمی و دیگر رہنما

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.