نجدی فتنے کی تباہ کاریاں: قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی نے صلیبیوں یہود اور آل سعود کے اتحاد کا پول کھول دیا، یوم انہدام جنت البقیع کے پیغام میں چشم کشاانکشافات

ولایت نیوز شیئر کریں

پیغام قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی
بمناسبت 8شوال یوم انہدام جنت البقیع 1441ھ
محمد بن عبد الوہاب اور آل سعود نے صلیبیوں اور صیہونیوں کے صدیوں پرانے خواب کو تکمیل تک پہنچادیا،آغا حامد علی شاہ موسوی

جھوٹی حدیثوں پر فتوے کیسے تیار ہوئے ؟
آل سعود نے سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کا سودا کتنی قیمت پر کیا؟
شریعت پر عمل کے دعویدار یہودو نصاری کے دوست نکلے
زمانہ رسالتؐ سے لیکر 12 ویں صدی ہجری تک قبروں پر عمارتوں کی تفصیل
قرآن و سنت کے خلاف آل سعود کے اقدامات

باسمہ تعالی۔۔۔قرآن حکیم میں ارشاد رب العزت ہے
وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
اور بچو اس فتنہ و ابتلاء سے کہ جو بلاشبہ انہیں لوگوں سے مخصوص نہیں رہے گا کہ جو تم میں سے ظلم وتعدی کے مرتکب ہیں (گا بلکہ سب کو گھیر لے گا کیونکہ دوسروں نے خاموشی اختیار کی تھی)اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ سخت سزاوالا ہے۔ (سورہ انفال۔آیت 25)

اس آیہ مجیدہ میں اللہ نے رحلت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلبیت رسول ؐ کو چھوڑنے سے لیکرروز قیامت تک تمام فتنوں سے خبردار کیا ہے جن کے سبب صرف ظالم ہی سزا کے مستحق نہیں ٹھہرتے بلکہ وہ بھی اس عذاب کی زد میں آجاتے ہیں جو ظلم پر خاموش رہتے ہیں۔مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس آیت کا مصداق حکمرانوں و لیڈران کے ایسے اقدامات ہیں جن کے سبب ایک قوم سیاسی دفاعی معاشی معاملات میں اغیار کی محتاج اور دست نگر بن جاتی ہے، شدت پسندوں کے اصلاح کے نام پر اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں جن سے قوم تفرقے اور فسادکا شکار ہو جاتی ہے،اس آیت کا مصداق اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر مادیت پرستی ہے مسلمانوں کے بجائے اغیار سے دوستی ہے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے پہلو تہی ہے جن کے نتیجے میں آنے والے عذابوں سے گیہوں کے ساتھ گھن بھی پسنے لگتا ہے۔

امت مسلمہ18ویں صدی عیسوی کے وسط سے محمد بن عبد الوہاب اور آل سعود کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والے ایسے ہی فتنے کا سامنا کررہی ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ساری دنیا پر حکمران مسلمانوں کی عثمانی سلطنت پارہ پارہ ہو کر بکھر گئی، مسلمانوں کا قبلہ اول ان سے چھین لیا گیا جسے چھیننے کیلئے صلیبی 900سال سے جدوجہد کررہے تھے اور صیہونیت نے اسرائیل کے نام پر عالم اسلام کے قلب میں خنجر گھونپ دیا اور ان کے اس خواب کی تکمیل ہو گئی جو کئی ہزار سال سے نبیوں کی قاتل قوم سینوں میں دبائے بیٹھی تھی، اسی شدت پسند اصلاحی فتنے کے سبب امن و سلامتی کے دین اسلام پر دہشت گردی کا الزام تھوپا گیا۔

صیہونی اور صلیبی مسلمانوں کی قوت توڑنے کیلئے سر توڑ کوششوں میں صدیوں سے مصروف رہے، صیہونیت کے سب بڑے سپورٹر دنیا میں سود ی بنکنگ کے بانی مائر ایمشل روتھس چائلڈنے 1773ء میں صیہونی اجتماع میں ایک قرار داد پاس کروائی تھی جس میں سلطنت عثمانیہ کو گرانے دنیا کو جھگڑوں میں پھنسانے اور دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونے کیلئے ہدایات وضع کی گئی تھیں۔ انہی ہدایات کے پیش نظر اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے یہودو نصاری نے سرزمین نجد سے اٹھنے والے شدت پسند فتنے(محمد بن عبد الوہاب اور آل سعود) کا سہارا لیا جس فتنے کی پیشگوئی رسول کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے کردی تھی جو صحیح بخاری کی کتاب الفتن میں یوں مرقوم ہے

حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی: خدایا! ہمیں ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور خدایا! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد کے بارے میں بھی (دعا فرمائیے تاکہ ہمیں اس علاقہ کی طرف سے بھی برکت حاصل ہو) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی دعا فرمائی: خدایا! ہمیں ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور خدایا! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (دوبارہ) عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے نجد کے بارے میں بھی (یہی دعا فرمائیے) راوی کہتے ہیں کہ تیسری بارآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر اُنہی الفاظ میں دعا کی اور نجد کے بارے میں) فرمایا وہاں زلزلے ہوں گے فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا۔ ” (کتاب الفتن صحیح بخاری، مشکوۃ شریف)

نبی کریم کی پیش گوئی کے مطابق نجد سے اٹھنے والے شیطان کے سینگ نے صیہونیوں اور صلیبیوں کی صدیوں پر محیط سازشوں کو ایسے انجام تک پہنچایا کہ دسمبر 1915میں طے پانے والے آل سعود و برٹش معاہدے کے تحت مسلمانوں کے مر کز سرزمین حجاز میں پہلی جنگ عظم کے دوران عثمانی سلطنت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا برٹش سامراج کے اسلحے اور محض ماہانہ 5ہزار پونڈ کی رشوت کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو تار تار کرنے میں نمایاں ترین کردار ادا کیا۔بقول علامہ اقبال
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

عبد العزیز آل سعود اور شریف مکہ جیسے برطانوی دوستوں کی بدولت سلطنت عثمانیہ بیسیوں ٹکڑوں میں بٹ گئی اور برطانوی سامراج کے وزیر خارجہ جیمز بالفور نے نومبر 1917کو اپنے صیہونی دوست لارڈ روتھس چائلڈ کے نام اپنے خط میں اعلان بالفور کرتے ہوئے صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کی نوید سنا دی جس کے سبب آج بیت المقدس صیہونیوں کے مکمل تسلط میں ہے اور فلسطینیوں کی دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں۔

نجدی فتنے کے ضرر افشانیوں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا جنگ عظیم اول کے بعد برطانوی اشیر باد سے ہی عبد العزیز آل سعود نے 1924-26میں سرزمین حجاز پر قبضہ کرلیا اور قبضہ مکمل ہوتے ہی جو پہلا اقدام کیا وہ 8شوال 1344ھ 21 اپریل 1926ء کو جنت البقیع اور جنت المعلی میں خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؑ، آئمہ اہلبیتؑ امہات المومنین ؓ ہزاروں صحابہ کرام اور اجداد رسولؐ حضرت عبداللہ ؑحضرت آمنہ ؑحضرت ابوطالبؑ حضرت عبد المطلبؑ کے مزارات و قبور کو مسمار کرڈالا، آل سعود روضہ رسول ؐ کو گرانے میں محض اس لئے کامیاب نہ ہوسکے کہ کہ ہندوستان میں چلنے والی تحریک خلافت نے برطانوی بادشاہت کی بنیادیں ہلاڈالی تھیں جسے کامیاب ہوتا دیکھ کر برطانوی سامراج آل سعود کو روضہ رسول کو گرانے کے قبیح اقدامات سے روکنے پر مجبور ہوگیاگویا یہ ثابت ہو گیا کہ آل سعود کے اقدامات کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ان کی ڈوریں برطانوی حکومت کی جانب سے ہی ہلائی جا رہی تھیں ویسے بھی اگر آل سعود اسلام کے پابند ہوتے تو کبھی اسلامی اور قرآنی احکامات کی خلافورزی کرتے ہوئے یہودو نصاری کے دوست بن کر مسلمانوں کی طاقت کو چکنا چور نہ کرتے۔ایسے ہی حکمرانوں کے بارے میں قرآن نے فرمایا

فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ
کیا تم سے یہ بات کچھ بعید ہے کہ تم حاکم بن جاؤ اور زمین میں فساد برپا کرو اور قرابت داروں سے تعلقات منقطع کرلو۔ (سورہ محمد آیت 22)

قرآن کا یہ حکم گذشتہ ایک صدی میں حرف بحرف سچ ثابت ہوتا نظر آیا ہے ۔ آل سعود نے جنت البقیع اور جنت المعلی کے مزارات مقدسہ کو زمین بوس کرکے جس شدت پسندی کی بنیاد رکھی اس کے نتیجے میں گذشتہ ایک سو سال پوری اسلامی دنیا میں انبیاء کرام اہلبیت اطہار ہزاروں صحابہ لاتعداد اولیائے کرام کے مزارات و مسمار کردیا گیا۔ مزار ات و شرک قرار دینے کا یہ اقدام قرآنی نص کے برخلاف تھا جیسا کہ سورہ کہف میں ارشاد ہوا

اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْہِمْ بُنْیَانًا ط رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدا
(اصحاب کہف کے بارے میں اطلاع ہونے کے بعد قوم کے لوگ) ان کے بارے میں جھگڑنے لگے، ان کی رائے یہ ہوئی کہ (بطور یادگار) یہاں کوئی عمارت بنوا دو، ان کا پروردگار ان کے حال سے خوب واقف ہے، جن کی رائے ان کی رائے پر غالب آئی انہوں نے کہا ہم تو یہاں (غار کے مقام) کے اوپر ایک مسجد بنائیں گے۔(سورہ کہف آیت 21)

غار میں مسجد بنانے والوں کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اصحاب کہف کی داستان اور واقعہ کو زندہ رکھا جائے۔ مفسرین نے لکھا کہ ’لنتخذن علیہم مسجد‘ میں ” علیہم ” کی قید اس نکتہ کو بیان کر رہی ہے کہ اس مقام پر مسجد بنانے کا مشورہ ان کی یاد باقی رہنے کے لئے دیا گیا تھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین کی آرامگاہ اور مزار پر مسجد بنانا جائز ہے اور ان کی قبر کے قریب عبادت کرنا درست ہے۔قرآن نے اصحاب کہف کی یاد زندہ رکھنے کا ذریعہ مسجد کی عمارت کی تعمیر کو قرار دیا اور کہیں یہ نہیں کہا کہ یہ فیصلہ دین و شریعت کے منافی ہے۔ اسی طرح سرزمین حجاز کے مقامات مقدسہ گرانے کیلئے مفتیوں کے جس فتوے اور اس میں مذکور حدیث کا سہار ا لیا وہ ازخود سوالیہ نشان ہے اور سنت رسول صحابہ تابعین تبع تابعین کے عمل کے منافی ہے۔

جنت البقیع اور جنت المعلی گرانے کیلئے آل سعود نے جو فتوی حاصل کیا اس میں ابی الھیاج) کی اس حدیث سے استدلال کیا کہ
حدثنا وکیع، عن سفیان، عن حبیب بن ابی ثابت، عن ابی وائل، عن ابی الہیاج الاسدی، قال: قال لی علی بن ابی طالب: ” الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لا تدع تمثالا إلا طمستہ، ولا قبرا مشرفا إلا سویتہ ”،

وکیع، سفیان، حبیب بن ابی ثابت، ابی وائل روایت کرتے ہیں کہ ابی الہیاج الاسدی نے کہا: مجھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم کو بھیجتا ہوں اس کے لئے مجھ کو بھیجا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ چھوڑ کوئی تصویر مگر مٹا دے اس کو اور نہ چھوڑ کوئی بلند قبر مگر اس کو زمین کے برابر کر دے۔

اس حدیث کی سند میں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں اہلسنت علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے جن میں سے ایک وکیع بن جرّاح ہے.عبداللہ بن احمد بن حنبل شیبانی اس کے متعلق کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سناوہ کہا کرتے تھے: ابن مہدی کی لکھنے پڑھنے میں غلطیاں وکیع کی نسبت زیادہ اور وکیع کے اشتباہات ابن مہدی سے زیادہ ہیں۔وہی دوسرے مقام پر کہتے ہیں: ابن مہدی نے پانچ سو احادیث میں خطا کی ہے.(تہذیب الکمال)ابن المدینی کہتے ہیں: وکیع عربی زبان میں مہارت نہیں رکھتا تھا اور اگر اپنے الفاظ میں بیان کرتا تو انسان کو تعجب میں ڈال دیتا.وہ ہمیشہ کہا کرتا: حدّثناالشعبی عن عائشہ(میزان الاعتدال)

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ابو سفیان ثوری ہے ذہبی اس کے متعلق کہتے ہیں: سفیان ثوری دھوکے اور فریب کاری سے ضعیف راویوں کو ثقہ اور قابل اعتماد بیان کیا کرتا.(میزان الاعتدال)یحیٰی بن معین اس کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ابو اسحاق کی احادیث میں سفیان سے بڑھ کر کوئی دانا تر نہیں لیکن وہ احادیث میں تدلیس (حدیث میں ایک طرح کا جھوٹ اور اس میں ملاوٹ کرنا ہے)کیا کرتا(الجرح والتعدیل)

اسی حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی حبیب بن ابو ثابت ہے.ابن حبّان حبیب کے متعلق کہتے ہیں: وہ حدیث میں تدلیس اور دھوکے سے کام لیا کرتا(تہذیب التہذیب)
ابن خزیمہ ا س کے بارے میں کہتے ہیں: حبیب بن ابو ثابت احادیث میں تدلیس کیا کرتا.( تہذیب التہذیب)

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ابووائل بھی ہے جو دل میں بغض علی علیہ السلام رکھتا تھا (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید) دوسری جانب حدیث کے متن کی بھی تحقیق کی ضرورت ہے چونکہ اس کا راوی تنہا ابو الہیاج ہے لہذا یہ حدیث شاذ کہلائے گی.(طبسی)جلال الدین سیوطی نے نسائی کی شرح میں لکھا ہے: کتب روایات میں ابوالہیاج سے فقط یہی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔

اگر اس حدیث کو حکم نبوی مان بھی لیا جائے تو پھر بھی یہ حدیث آل سعود کے مدّعا پر دلالت بھی نہیں کر رہی چونکہ ایک طرف قبر کے زمین کے برابر کرنے کی حکم دے رہی ہے تو دوسری جانب اس کے اوپر والے حصے کے ناہموار ہونے سے منع کر رہی ہے۔اگر یہ سمجھا جائے کہ اس حدیث کا مطلب ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کیا جائے تو وہ بھی اہلسنت کے ہاں معتبر صحا ح ستہ میں بیان کردہ سنت کے خلاف ہے،ایک احتمال یہ ہے کہ جس قبر کے اوپر اونٹ کی کوہان کے مانندابھار موجود ہو یعنی قبر کی اوپری سطح کو ہموار یا برابر کیا جائے اس کے علاوہ قبروں کے اوپر موجود بلند عمارتوں کو ویران کرنے کا ذکر اس حدیث میں کہیں نہیں ملتا اسی لئے تاریخ میں صحابہ کرام اور ہردور کے مسلمانوں نے کبھی اس حدیث پر عمل نہیں کیا جس کو آل سعود نے بنیاد بنا کرجنت البقیع اور جنت المعلی کا انہدام کیا۔

قرآنی نص کے بعد خود نبی کریم کا پنے حجرہ یعنی عمارت میں دفن ہونا قبور پر عمارتوں کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ بعض آل سعود کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ حجرہ پر چھت نہیں تھی ۔حجرہ نبوی پر چھت کے لاتعداد ثبوت موجود ہیں اسی لئے حضرت عائشہ ؓ نے ایک مرتبہ بارش کیلئے اس چھت میں سوراخ کرنے کا مشور دیا تھا دارمی نے اپنی سنن میں یوں نقل کیا ہے:

ایک دن اہل مدینہ سخت قحط سالی میں مبتلاہوئے تو حضرت عائشہ سے شکایت کی.انہوں نے سنت ابو طالب ؑ پر عمل کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم کے وسیلے سے دعا کرو اور کہا: قبر پیغمبر پر جا کراس میں ایک سوراخ کرو تاکہ قبر اور آسمان کے درمیان مانع نہ رہے۔راوی کہتا ہے: جب لوگوں نے ایسا کیا تو اتنی بارش برسی کہ سبزہ اْگ آیا اور حیوان موٹے ہوگئے،یہاں تک کہ دنبوں کی دم چربی کی وجہ سے ظاہر ہونے لگی اور اس میں چیر پڑ گئے اور اس سال کو فتق (موٹاپے سے چیر ا جانا۔ کشادگی کا سال) کے سال کا نام دیا گیا۔(سنن دارمی۔ وفا الوفا۔سبل الھدی والارشاد)

خلفاء خود روضہ رسول کی عمارت میں تبدیلیاں لاتے رہے کسی نے قبر نبی پر عمارت گرانے کی بات نہیں کیروضہ رسول پر سب سے پہلے جس نے دیوار بنوائی وہ حضرت عمر بن خطاب تھے۔(وفا الوفا)خلیفہ الولید بن عبدالملک کے دور میں روضہ رسولؐ کی دیوار گر گئی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جا کر معائنہ کیا تو دیکھا کہ دیوار کا سقوط قبروں پر ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاؤں ظاہر ہو رہے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ نے دوبارہ سے پوری دیوار کو مربع شکل کے کالے پتھروں سے تعمیر کروایا جو خانہ کعبہ کے پتھروں سے مشابہت رکھتے تھے۔(حرم مدنی کی تاریخ) ام المومنین حضرت عائشہ کے بھانجے عبداللہ بن زبیر نے اپنے دور حکومت میں قبر مبارک پر عمارت بنوائی۔مملوک سلطانوں نے نبوی روضے کی عمارت پر ساتویں صدی ہجری میں پہلی بار گنبد بنوایا۔

علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں: تمہارے لیے حق کی معرفت میں اصحاب رسول اللہ کے اس عمل کی اتباع کرنا کافی ہے جو انہوں نے رسول اللہ کی قبر کے ساتھ کیا کیونکہ وہ روئے زمین کی سب سے افضل قبر ہے، بلکہ وہ عرش سے بھی افضل ہے۔ آپ کے اصحاب آپ کی قبر کی زیارت کرتے تھے اور آپ پر سلام پڑھتے تھے، سو تم اصحاب رسول کے افعال کی اتباع کرو۔ (تفسیر روح المعانی)

قبور پر عمارات یا عمارات کے اندر قبور کی مثال خود زمانہ رسالت میں بھی موجود ہے رسول اکرمؐنے اپنی چچی اور پالنے والی والی محسنہ حضرت فاطمہ بنت اسد کو مسجد کے ایک حصے میں دفن کیا۔(سمہودی)عہد نبوی میں صلح حدیبیہ کے موقع پر قبور پر پہلی عمارت یا مسجد ابوجندل کے ہاتھوں ابوبصیر صحابی کی قبر پر بنائی گئی اور رسول خدا نے اس سے آگاہی کے باوجود اس کام سے منع نہیں کیا۔(المغازی)

بیت المقدس کے اطراف میں بہت سے انبیائے الہی کی قبور موجود ہیں جیسے قدس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی قبر، الخلیل میں حضرت ابراہیم،حضرت اسحا ق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف علیہم السلام کی قبور جن پر بلند عمارات پائی جاتی ہیں.اسلام سے پہلے ان پر پتھر موجود تھے اور جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں فلسطین فتح کیا تویہ قبور اسی صورت میں تھیں۔ مسلمانوں کو مزارات اور قبے گرانے کے مشورے دینے والاابن تیمیہ ا خود اقرار کرتا ہے کہ شہر الخلیل کی فتح کے دوران صحابہ کرام کی موجودگی میں حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی قبر پر عمارت موجود تھی مگر یہ کہ اس کا دروازہ ۰۰۴ہجری تک بند رہا۔(مجموع الفتاوٰی ابن تیمیہ) ابن تیمیہ کا اقرار اور تاریخ اسلام کے حقائق خود ابن تیمیہ ابن قیم اور ان کے پیروکاروں کے اس دعوے کی رد ہے کہ مسلمانوں نے مقابر ساتوین صدی ہجری میں بنانا شروع کئے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے 36ہجری میں وفات پائی.خطیب بغد ادی لکھتے ہیں: ان کی قبر اب بھی ایوان کسرٰی کے قریب موجود ہے اس پر مقبرہ بنا ہوا ہے(تاریخ بغداد)

204ھ میں امام شافعی کی وفات ہوئی،ذہبی نے لکھا ہے:ملک کامل نے شافعی کی قبر پر گنبد بنوایا(دول الاسلام)حضرت حمزہ علیہ السلام کی قبر پر موجود مسجد کی عمارت موجود تھی جو آل سعود نے گرائی ،زبیر بن عوام کا مقبرہ اور حضرت سعد بن معاذ کا مقبر ہ جو دوسری صدی ہجری میں بنا.(سیر اعلام النبلاء) شام میں اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا روضہ اور ضریح موجود ہے ، اسی طرح ابن تیمیہ کی شام میں پختہ خبر اس کے فتووں اور اس کے نام پر مزارات گرانے کا والوں کا منہ چڑا رہی ہے۔

256 ہجری میں امام بخاری کی قبر پر ضریح کا بنا کر رکھی گئی( الطبقات الشافعیۃ الکبرٰی) آج بھی امام بخاری کا مقبرہ اور ضریح موجود ہے کسی مفسر محدث نے گذشتہ 11سو سال میں اسے گرانے کی بات نہیں کی۔ حکمرانوں کے غیر اسلامی اقدامات پر ان سے ٹکر لینے والے کسی فقیہہ محدث نے مزارات بنوانے کو غیر اسلامی نہیں کہا۔

قرآنی نص، سنت نبوی، طریق صحابہ و امہات المومنین، فرامین اہلبیت ؑ اور تاریخی حقائق سے ثابت ہے قبور پر عمارت روضہ یا مزار بنانااسلام کے محسنوں کے آثار و یادگار کو جاوداں کرنے کے مترادف ہے کیونہ زندہ قومیں اپنے مشاہیر کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ان کے مقابر کے آثار اور نشانیاں ان کی قوموں کیلئے باعث سرفرازی اور برکت رہے ہیں۔ جنت البقیع کے انہدام پر نہ صرفاسلامی دنیا خا مو ش رہی بلکہ آثار انسانی کے محافظ اداروں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ اسلام پر حملہ آور صلیبیوں کے templersکو عالمی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جارہا ہے لیکن اسلامی تہذیب و تمدن کے تمام نشانات کو سرزمین حجاز سے معدوم کیا جارہا ہے۔عالمی اداروں کی منافقت کے سبب ہی دنیا میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکتی رہی اور آج بھی سلگ رہی ہے ہیگ کنونشن،ایتھنز چارٹر، وینس چارٹر منظور ہوتے رہے لیکن کسی کی نظر گذشتہ ایک سو سال میں عالمی تہذیبی ورثے کی ماپالی پر نہیں پڑی۔1964میں منظور ہونے والے وینس چارٹر کا پہلا آرٹیکل ہی سرزمین حجاز پر مسلمانوں کی نشانیوں کی تباہی پر اقدامات کا پابند کرتا ہے

Article 1. The concept of a historic monument embraces not only the single architectural work but also the urban or rural setting in which is found the evidence of a particular civilization, a significant development or a historic event. This applies not only to great works of art but also to more modest works of the past which have acquired cultural significance with the passing of time.

عالمی ورثے کے تحفظ کا دن ہر سال 18اپریل کو منایا جاتا ہے لیکن اسی اپریل کے مہینے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ روند ڈالنے پر کسی نے کبھی کوئی لب کشائی نہیں کی بلکہ مسلمانوں کو ورثے کو برباد کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کئے جاتے رہے۔لیبیا کی رومن تعمیرات کی تو بلیو شیلڈ کو فکر لاحق ہے لیکن اسلامی تعمیرات مغرب کے فنڈڈ دہشت گردوں کے ہاتھو ں پور ے ایشیا و افریقہ میں ماپال ہوتی رہیں ان کے لب نہ ہلے،الدرعیہ سعودی نسل کے بانیوں کے آبائی محلات تو عالمی ورثے میں شامل ہیں لیکن شجر رسول، مسلمانوں کے غزوات، خاندان رسالت اور صحابہ و امہات المومنی ن جیسی اسلام کے بانیوں کی نشانیاں ہر گزرتے سال میں تباہ ہوتی چلی جارہی ہیں عالمی کونسل برائے تاریخی مقامات ICOMOS، بلیو شیلڈ، یونیسکو،تمام ادارے اسلامی آثار کے معاملے میں منافقانہ روش کا شکار رہے کیونکہ خود مسلمانوں نے کبھی اپنے آثار کی بحالی کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اللہ کا یہ فیصلہ ہے جو قوم شعائر اللہ کی تحقیر و تذلیل کرے اس کے مقدر میں رسوائی اور ناکامی ہے شعائر اللہ اور اپنے آثار کی ناقدری کے سبب مسلمان زوال در زوال کا شکار ہیں جس سے نکلنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ انہیں سرزمین حجاز میں زمیں بوس کئے جانے والے جنت البقیع و جنت المعلی کے شعائر اللہ سمیت شجر رسول، مقام مولد الرسول مقامات صحابہ غرضیکہ دور نبوی کی تمام یاد گارو ں کی عظمت رفتہ بحال کروانی ہو گی۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ گذشتہ4 عشروں سے اسلام کے محسنوں کی قبور بالخصوص کاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا کے مرقد کی پامالی کے خلاف پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک یہ مزارات تعمیر نہیں ہو جاتے۔ ہر مسلمان اور صاحب ایمان سے اپیل ہے کہ اسلام کی روشنی پوری کائنات میں پھیلانے والے مشاہیر اسلام کی قبور پر ہونے والے ظلم اور مسلمانوں کو بے روح کردینے کی اس سازش کے خلاف عالمی احتجاج میں ہر انداز میں شرکت کریں اور اپنی دنیوی و اخروی نجات کا سامان کریں۔

جنت البقیع و جنت المعلی کی مسماری پر خاموش رہنے والے خدائی انتباہ کو مت بھولیں کہ جو بھی مشاہیر اسلام کی توہین شعائر اللہ کی توہین پر خاموش رہے گاوہ بھی اسی سزا کا مستحق ٹھہرے گا جو ظالمین کا مقدر ہے۔ اور ظالمین کا انجام رسوائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
والسلام
خاکپائے عزاداران بقیع
آغا سید حامد علی شاہ موسوی ۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

8 شوال المکرم 1441ھ ۔31 مئی 2020

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.