صدر وزیراعظم اجلاسوں میں مکتب تشیع کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی ؛اپنے حقوق اور شعائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

صدر وزیراعظم اجلاسوں میں مکتب تشیع کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی؛ ملکی بنیادیں کھوکھلی نہ کی جائیں، آغا حامد موسوی
مادر وطن پاکستان کے تحفظ کیلئے خون نچھاور کرتے رہیں گے لیکن اپنے بنیادی حقوق اور شعائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے
لاک ڈاؤن میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کا فارمولا ترک کیا جائے عبادت گاہوں سے فیکٹریوں منڈیوں تک یکساں اصولوں پر پالیسی بنائی جائے
حکومتی مہم سے لگتا ہے کہ سارا کورونامرض مساجد اور مزاروں سے پھیل رہا ہے حقائق سے بے خبری ملک و قوم کی جگ ہنسائی کروارہی ہے
موجودہ دور میں بھی کالعدم جماعتوں پر نوازشات میں کوئی’تبدیلی‘نہیں آئی، ممنوعہ لیڈر دہشت گردی کے متاثرین کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں
رمضان میں وبا کے خاتمے کیلئے گڑگڑا کر دعائیں کی جائیں ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق مفلسوں کا درد ضرور بانٹے، ایام الحزن کمیٹی سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ صدر وزیراعظم کے اجلاسوں میں مکتب تشیع کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی مسلمہ مکاتب کو نظر انداز کرکے ملکی بنیادیں کھوکھلی نہ کی جائیں،مادر وطن پاکستان کے تحفظ کیلئے خون نچھاور کرتے رہیں گے لیکن اپنے بنیادی حقوق اور شعائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، کورونا لاک ڈاؤن کے حوالے سے آدھا تیتر آدھا بٹیر کا فارمولا ترک کیا جائے عبادت گاہوں سے بازاروں فیکٹریوں منڈیوں تک یکساں اصولوں پر پالیسی بنائی جائے، حکومتی مہم سے لگتا ہے کہ سارا کورونامرض مساجد اور مزاروں سے پھیل رہا ہے فیصلہ ساز اداروں کی حقائق سے بے خبری ملک و قوم کی جگ ہنسائی کروارہی ہے،موجودہ دور میں بھی کالعدم جماعتوں پر نوازشات میں کوئی’تبدیلی‘نہیں آئی ممنوعہ جماعتوں کے لیڈران ہر ادارے اور اجلاس میں بیٹھے دہشت گردی کے متاثرین کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی ایام الحزن کی آرگنائزنگ کمیٹی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری ؑ کے وصال کی مناسبت سے ملک بھر میں عقیدت و احترام منائے جائیں گے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ پاکستان کا قیام شیعہ سنی برادران کی مشترکہ کوششوں کا ثمرہ تھا مصور پاکستان علامہ اقبالؒ سنی المسلک اور بانی پاکستان شیعہ المسلک تھے جن کے افکار و کردار میں وحدت و اخوت کا جذبہ چھلکتا تھا لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ قائد کی رحلت کے بعد ان کے افکار و نظریات سے انحراف برتتے ہوئے صوبوں اور قومیتوں کے ساتھ ساتھ مکتب تشیع کے ساتھ بھی تعصب برتا گیاجی حضوریاں کرنے والوں کو نمائندہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی فیصلہ ساز عوامی امنگوں مسائل سے بے خبر رہے جس سے وطن عزیز دولخت ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ آمرانہ ادوار میں عصبیتوں کی تیزی سے افزائش ہوئی ضیا الحق کے آمرانہ دور سے تربیت حاصل کرنے والے سیاستدان آ ج بھی عصبیتوں کی راہ پر گامزن ہیں جو ملکی استحکام و یکجہتی کیلئے زہر قاتل ہے۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ نظریاتی کونسل سے رویت ہلال کمیٹی تک مکتب تشیع نظریاتی نمائندگی سے محروم ہے اسلامائزیشن کیلئے قائم ادارے آج بھی بیرونی امداد سے پروان چڑھنے والے کالعدم جماعتوں کے سرپرستوں سے بھرے پڑے ہیں قومی اداروں کی رکنیت وراثتوں میں تقسیم ہو رہی ہے جو پاکستان کے نظریہ اساسی اور علامہ قبال و قائد اعظم ؒ کے افکار سے کھلا انحراف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی حضوریاں کرنے والے ہر دور کی حکومتوں کی خواہش اور ضرورت رہے ہیں جو افراد کسی اجلاس میں بیٹھ کر ایک سطر اور حرف بھی تبدیل اور ترمیم نہ کروا سکیں انہیں کسی صورت قوم کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں کورونا وبا کے خاتمے کیلئے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جائیں اور ہر فرد اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق ان مفلسوں کا درد ضرور بانٹے جو لاک ڈاؤن کے سبب بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.