انسانیت اللہ کے سامنے اپنی مرضی چلانے کا نتیجہ بھگت رہی ہے ، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

کورونا وبا: انسانیت اللہ کے سامنے اپنی مرضی چلانے کا نتیجہ بھگت رہی ہے، قائد ملت جعفریہ آغا حامد موسوی
جب ظلم اور نافرمانی حد کو چھوتے ہیں تو خدا کی بے آوازلاٹھی چلتی ہے جو فراعین و نمرودوں کوتہس نہس کردیتی ہے
’میرا جسم میری مرضی‘کے نعروں والی لابیاں منہ چھپائے پھر رہی ہیں، اللہ نے بتا دیا ہے کہ میں خالق ہوں مرضیان میری چلتی ہیں
انسان اپنے اعمال سے اللہ کے عذاب کو بلاتے رہے؛جو سکارف پر جرمانے کرتے تھے آج مردوزن کو سکارف پہنا رہے ہیں
ظالمین وبا ؤں میں بھی ظلم سے باز نہیں آرہے،مظلوم کشمیریوں کے جسم قید جذبات پر زنجیریں فکریں محبوس اور گفتار پر تعزیریں ہیں
انسانوں کو توبہ و بخشش کا موقع دیا گیا ہے توبہ و استغفار کیا جائے اللہ ہر وبا و بلا کو ٹال سکتا ہے؛ قرآن و اہلبیت ؑ کو وسیلہ بنایا جائے
زائرین کے مقام پرفرشتے بھی رشک کرتے ہیں مشکلات کا شکار زائرین کوریلیف فراہم کرناعظیم خدمت ہے، ریلیف کمیٹی سے خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی ٰقائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ انسانیت اللہ کے سامنے اپنی مرضی چلانے کا نتیجہ کورونا وبا کی صورت بھگت رہی ہے، جب ظلم اور نافرمانی حد کو چھوتے ہیں تو خدا کی بے آوازلاٹھی چلتی ہے جو فراعین و نمرودوں کوتہس نہس کردیتی ہے،جب اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں خواتین سے ’میرا جسم میری مرضی‘کے گمراہ نعرے گوائے گئے کہ تو اللہ نے بتا دیا ہے کہ میں خالق ہوں مرضیان میری چلتی ہیں اب وہ تمام لابیاں منہ چھپائے پھر رہی ہیں آج تو ان ممالک نے بھی مردوزن کو سکارف پہننے کی ہدایت جاری کردی ہے جو سکارف پر جرمانے کیا کرتے تھے، ظالمین وبا ؤں میں بھی ظلم سے باز نہیں آرہے مظلوم کشمیریوں کے جسم قید جذبات پر زنجیریں فکریں محبوس اور گفتار پر تعزیریں ہیں، انسانوں کو توبہ و بخشش کا موقع دیا گیا ہے کہ بنی نوع انسان بالخصوص مسلمان گناہوں سے تائب ہو کر سیدھی راہ پرآجائیں اور اللہ کو راضی کرنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کے مطابق قرآن و اہلبیتؑ کو وسیلہ بنایا جائے، زائرین کا مقام اس قدر بلند ہے کہ فرشتے بھی اس پر رشک کرتے ہیں مشکلات کا شکار زائرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرناعظیم خدمت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی این ایف جے زائرین سہولت کمیٹی کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ حضور نبی کریم ؐ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک نبی کریم ؐ اس امت میں موجود ہیں امت پر عذاب نہیں آسکتا لیکن جب کوئی عذاب کا سوال کرے گاتو اللہ کا عذاب ضرور آئے گاجیسا کہ غدیر خم کے میدان میں گستاخ رسول ؐ و اہلبیت ؑحارث بن نعمان فہری پر نازل ہوا تھا یہی کچھ آج دنیا پر بیت رہی ہے کیونکہ انسان اپنے اعمال سے اللہ کے عذاب کو بلا رہے تھے۔

انہوں نے واضح کیاکہ انبیاء و اوصیا و صالحین کی آزمائش بلندی درجات کیلئے ہوتی ہے مومنین مسلمین کی آزمائش گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے لہذا اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوا جائے مایوسی گناہ ہے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا جائے اور توبہ کی جائے تو اللہ رحیم و کریم ہے ہر وبا و بلا کو ٹال سکتا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ کورونا کی خطرناک وبا کے باوجود شیطانی لابیاں اور ان کے پٹھو اسرائیل و بھارت اپنے مظالم شدو مد سے جارری رکھے ہوئے ہیں، صیہونیوں نے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے اور بھارت نے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، کشمیر میں ساڑھے آٹھ ماہ سے کرفیو نافذ ہے لیکن بین الاقوامی اداروں نے چند مذمتی قراردادوں کے سوا کشمیر و فلسطین پر ہونے والے مظالم کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیاشیطانی قوتیں صرف اپنے آپ کو انسان سمجھتی ہیں گویا افغانستان عراق شام لیبیا یمن کشمیرو فلسطین کے مسلمانوں پر انسانی حقوق کا اطلاق ہی نہیں ہوتا جب بھی امت مسلمہ کے مظلوموں کا ذکر آئے ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں اور سانپ سونگھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے بھارت وطن عزیز کا پیچھا نہیں چھوڑرہا پاکستان کو دولخت کروا دیا اب مکمل ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کو آئے دن دھمکیاں دیتا ہے جب پوری انسانیت وبا کے حصار میں ہے بھارتی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں کئی شہری حالیہ دنوں میں بھارتی درندگی کا نشانہ بن چکے ہیں،جب بھی کشمیر کیلئے آواز اٹھائی جائے بھارت اندرونی معاملہ کی رٹ لگاتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر اندرونی معاملہ تھا نہرو اسے عالمی ادارے یو این میں کیوں لے کر گیا، جب بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ یواین کے فورم پر کیا ہوا وعدہ پامال کرتے ہوئے دفعہ 370اور 35Aکا خاتمہ کیا تو اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کا نوٹس لینا اس امر پرشاہد ہے کہ مقبوضۃ کشمیر کی آج بھی وہی حیثیت ہے جس کا تعین یواین کی قراردادوں میں کیا گیا اور استصواب رائے کا حق دیا گیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آئے دن پاکستان پر الزام تراشیوں کا مقصد کشمیریوں اور بھارتی اقلیتوں پر بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانا ہے،دنیا جان لے کہ جب تک کشمیر و فلسطین کے مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عوامی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جائے گا مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے خطے امن کا گہوارہ نہیں بن سکتے بھارت و اسرائیل کے مکروہ چہرے دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں لہذا اقواممتحدہ کو چاہئے کہ بھارت و اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.