ہردور کےحکمران چاہتے ہیں کہ صرف انہی کے کہے اورکئے کوسراہاجائے، آغا حامد موسوی

ولایت نیوز شیئر کریں

میرشکیل الرحمن کی گرفتاری صحافت کی عزت وحرمت کی پامالی ہے۔ آغاحامدموسوی
صحافت اوراظہاررائے کی آزادی اہم ترین صحافت کاگلاگھونٹناجمہوریت کیلئے موت ہے
میرخلیل الرحمن اور حمیدنظامی کی پون صدی سے زائدصحافتی خدمات ملک وقوم کاگراں قدرسرمایہ ہیں
عدلیہ،مقننہ،، منتظمہ اورصحافت ریاست کے بنیادی ستون ہیں، حکمران چاہتے ہیں کہ صرف انہی کو سراہاجائے
حکومت مہنگائی، بیروزگاری، ڈاکہ زنی، چوری چکاری اورکروناکی بیماری کوقابوکرے تاکہ عوام سکھ چین کاسانس لے سکیں
عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے میرشکیل الرحمن کو فی الفوررہاکیاجائے۔ قائدملت جعفریہ کاردعمل

اسلام آباد( ولایت نیوز)سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلیٰ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ جنگ جیوگروپ کے ایڈیٹرانچیف میرشکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری صحافت کی عزت وحرمت کی پامالی ہے جس سے نیب اورحکومت کی ساکھ زک پہنچ سکتاہے لہذاعدل وانصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں فی الفوررہاکیاجائے، جنگ گروپ کے بانی میرخلیل الرحمن اورنوائے وقت کے گروپ کے بانی حمیدنظامی کی پون صدی سے زائدصحافتی خدمات ملک وقوم کاگراں قدرسرمایہ ہیں، صحافت اوراظہاررائے کی آزادی اہم ترین جبکہ صحافت کاگلاگھونٹناجمہوریت کیلئے موت ہے۔

ہیڈکوارٹرمکتب تشیع ٹی این ایف جے سے جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے میرشکیل الرحمن گرفتاری پرردعمل کااظہارکرتے ہوئے باورکرایاکہ عدلیہ،مقننہ،، منتظمہ اورصحافت ریاست کے بنیادی ستون ہیں۔ آقای موسوی نے اس امرپرافسوس کااظہارکیاکہ ہردورکے حکمران چاہتے ہیں کہ صرف انہی کے کہے اورکرے کوسراہاجائے۔ انہوں نے کہاکہ خلیفہ راشدحضرت علی ابن ابیطالب ؑ سے پوچھاگیاکہ آپ کادورحکومت حضورؐ اکرم کی طرح کامیابی نہیں تومولانے جواب میں فرمایاکہ سرکاردوعالم ؐ کوہم جیسے مشیرملے تھے اورمجھے تم جیسے مشیرملے ہیں۔

آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے خودتسلیم کیاہے کہ میرے ورزاء ایسے بیانات دیتے ہیں جنہیں سنبھالنامشکل ہوجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ پی تی آئی حکومت آنے کے بعدتمام بڑے سیاستدانوں کورگڑادیاجاچکاہے اسی لئے ایک سیاستدان کاکہناہے کہ ہماری حکومت آنے کے بعدسب سے پہلاکام نیب کاخاتمہ ہوگاجبکہ گزشتہ روزایک چیف جسٹس ہائی کورٹ نے یہاں تک کہ دیاہے کہ نیب کادارہ اذیت دیناکیوں ضروری سمجھتاہے؟

انہوں نے کہاکہ جرم سے پہلے سزادیناازخودجرم ہے۔ حضرت علی ؑ ابن ابیطالب ؑ کے سامنے ابن ملجم کوپکڑکرلایاگیاکہ مولایہ آپ کاقاتل ہے توآپؑ نے یہ کہہ کرچھورنے کاحکم دیاکہ جرم سے پہلے ارتکاب جرم کی سزانہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پرزوردیاکہ وہ صحافت پرحملہ آورہونے کے بجائے وطن عزیزکی عزت وحرمت کودوبالاکرے تاکہ پانچ سال کی مدت پوری کرسکے اورملک اصل مسائل پرتوجہ دے، سی پیک منصوبے کومکمل کرے، مہنگائی، بیروزگاری، ڈاکہ زنی، چوری چکاری اورکروناکی بیماری پرقابوپائے تاکہ عوام سکھ چین کاسانس لے سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.