بھارت نے عالمی امن کو خطرے سے دوچار کردیا حکومت اور فوج چوکنا رہیں، یوم صحابیت پر قائد ملت جعفریہ کا خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

مودی نے بتا دیاکہ بھارت اقوام متحدہ کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہے،حکومت اور فوج چوکنا رہیں بھارت جارحیت کا ارتکاب کر سکتا ہے: آغا حامد موسوی

مسلم حکمران بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ سے مستعفی ہو جاتے تو مودی کو انتہائی اقدام کی جرات نہ ہوتی

کشمیری پاکستان کو پکار رہے ہیں حکومت اپوزیشن محاذ آرائی ختم کردیں سفارتی وفود تمام ملکوں میں بھیجے جائیں سفیر جنگی بنیادوں پر کام کریں

حضرت ابوذرؓ کا زہد مثل عیسی ؑ تھا، دنیاپر حاکمیت کرنے والے اداروں کے کذب و ریا کو ناکام کرنے کیلئے جذبہ ابوذر ؓ اپنانا ہو گا، یو م صحابیت ؓ پر خطاب

اسلام آباد(ولایت نیوز )سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370اور35 اے کو ختم کرکے مودی نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت اقوام متحدہ اور اسکی قراردادوں کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہے، مودی نے عالمی امن کو خطرے سے دوچار کردیا،مسلم حکمران ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت اور گولان پہاڑیوں کو اس کا حصہ تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ سے مستعفی ہو جاتے تو مودی کو کشمیریوں کے خلاف انتہائی اقدام کی جرات نہ ہوتی،حکومت اور عسکری ادارے چوکنا رہیں بھارت اپنی چال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب بھی کر سکتا ہے،کشمیری پاکستان کو پکار رہے ہیں حکومت اور حزب اختلاف محاذ آرائی ختم کردیں حکومتی و اپوزیشن ارکان پر مشتمل سفارتی وفود تمام ملکوں میں بھیجے جائیں بیرونی ممالک میں موجود سفیر جنگی بنیادوں پر کام کریں، پاکستان میں موجود دیگر ممالک کے سفراء کو بھارتی اقدام کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے، پڑوسی ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور آج پھر ثابت ہو گیا کہ دنیا میں ہمارا دوست چین اور صرف چین ہے،حضرت ابوذرؓ کے زہد کو مثل عیسی ابن مریم ؑ قرار دیا گیا انکی سیرت پر عمل پیرا ہوکر دنیا بھر کے مظلوموں کو منافقانہ سرمایہ داری نظام کے چنگل سے بچا یا جا سکتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم صحابیت ؓ کے موقع پر مجلس ابوذر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کو اس لئے وجود دیا گیا تھا کہ وہ جارحیت کو روکے گا اور طاقتوروں کو دوسرے علاقوں پر قبضہ نہیں کرنے دے گا اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے گا الیکن اقوام متحدہ اپنے چارٹر پر عمل کروانے میں دوغلی پالیسیوں کا شکار رہامشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں تو استصواب رائے کرا دیا کیونکہ وہ عیسائی تھے لیکن فلسطین و کشمیر آج بھی اس عالمی ادارے کی منافقت کے سبب آگ میں جل رہے ہیں نہرو خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ لے کر گیا نصف درجن سے زائد حق خود ارادیت کی قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ابلیسی تسلط جمانا اور مسلم علاقوں کو ہتھیانا ابلیسی ایجنڈا ہے ہم نے تو اسی دن یہ کہہ دیا تھا جب ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش وزیراعظم پاکستان کو کی تھی کہ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے المجرب لایجرب آزمودہ را آزمودن جہل است۔ ساتویں بیڑے کی امیدیں دلوا کر پاکستان کا بیڑا غرق کیا اور اس وقت خلیج میں بحری بیڑے لا کر اسلامی جمہوریہ ایران سے ڈرا کر عربوں کا بیڑا غرق کرنا چاہتا ہے۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا گھناؤنا کھیل عمداً ایسے موقع پر کھیلا ہے جب دنیا کی توجہ ا افغانستان کو امننستان بنانے اور طالبان کو منانے پر توجہ مرکوز تھی لیکن دنیا ذہن نشین رکھے بنیے کے اس اقدام سے اور نیتن یاہو کے بیانات سے نہ فلسطینی پیچھے ہٹے ہیں اور نہ کشمیریوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان پر مودی خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور دونوں ملکوں کا آپس کا معاملہ ہے ہم کسی کی ثالثی کی پیشکش قبول نہیں کرتے اسکے باوجود اس نے یہ ننگی جارحیت کی ہے۔ بھارت کو ہمارا ایٹمی طاقت ہونا سی پیک منصوبہ کی پیشرفت ہونا اور پھر وزیر اعظم پاکستان کا وائٹ ہاؤس جانے سے اسے پاگل پن کے دورے پڑنا شروع ہو گئے اور یہ عاجلانہ و پاگلانہ فیصلہ اس نے کر ڈالا مسلم حکمران و سیاستدان بقائے اقتدار اور حصول اقتدار کے بجائے کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدو جہد پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آسمان نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سچے پر سایہ نہیں کیا اور نہ ہی زمین نے ان سے زیادہ سچے کو اٹھایا، دنیاپر حاکمیت کرنے والے اداروں کے کذب و ریا کو ناکام کرنے کیلئے جذبہ ابوذر ؓ اپنانا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.