ابن تیمیہ کی قبر پختہ’ اولاد نبیؐ و اصحاب ؓ کی قبریں مٹی کا ڈھیر کیوں ؟ قائد ملت جعفریہ نے انہدام جنت البقیع کی مکروہ سازش کا پردہ چاک کردیا

ولایت نیوز شیئر کریں

قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی  نے انہدام جنت البقیع کی  سازش کا پردہ چاک کردیا

پیغام قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی ۔ 8 شوال 1440 ھ  12 جون 2019 ء

قرآن مجید کی سورہ مبارکہ نساء میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے

وَمَآ اَرْسَلْنَا  مِنْ  رَّسُوْلٍ  اِلَّا  لِیُطَاعَ  بِاِذْنِ  اللّٰہِ ط وَلَوْ  اَنَّھُمْ   اِذْ  ظَّلَمُوْٓا   اَنْفُسَھُمْ   جَآءُوْکَ  فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ   وَاسْتَغْفَرَ  لَھُمُ  الرَّسُوْلُ  لَوَجَدُوا  اللّٰہَ   تَوَّابًا  رَّحِیْمًا

اور ہم نے جو پیغمبرؐؐ بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا)ؐ بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے ( سورہ نساء۔آیت 64)

ابن تیمیہ کے شاگرد رشید حافظ عماد الدین ابو الفداء ابن کثیر اپنی شہرہ آفاق تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

عْتبی کا بیان ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا: ”السّلام علیکَ یا رسول اللہ! میں نے سنا ہے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: ”اور (اے حبیبؐ!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اْن کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء  پر ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے۔میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی خدمت میں اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہوئے اور آپ کو اپنے رب کے سامنے اپنا سفارشی بناتے ہوئے حاضر ہوا ہوں۔“ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:

اے مدفون لوگوں میں سب سے بہتر ہستی! جن کی وجہ سے میدان اور ٹیلے اچھے ہو گئے، میری جان قربان اس قبر پر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  رونق افروز ہیں، جس میں بخشش اور جود و کرم جلوہ افروز ہے۔

عتبی  بیان کرتے ہیں کہ پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آگئی، میں نے خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے فرما رہے تھے: ”عْتبی! اعرابی حق کہہ رہا ہے، پس تو جا اور اْسے خوش خبری سنا دے کہ اللہ تعالیٰ نے اْس کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔“(تفسیر القرآن العظیم۔ ابن کثیر)۔یاد رہے کہ ابن کثیر ابن تیمیہ کے ساتھ دمشق  میں مدفون ہیں۔ابن کثیر کا اس واقعہ کو تحریر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلسنت کے بزرگ عالم اور مفسر قبر رسول ؐ سے مغفرت کے حصول کا ایمان و یقین رکھتے تھے۔

مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکرالمعروف امام قرطبی اپنی تفسیر میں اس بیان فرماتے ہیں کہ:

”حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا! کہ جب ہم رسول اللہ کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آکر گرگیا  اور قبر انور کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور زاروزار روتے ہوئے آیت

وَلَوْ  اَنَّھُمْ   اِذْ  ظَّلَمُوْٓا   اَنْفُسَھُمْ

کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کے لئے دعائے مغفرت کردیں تو اس کی مغفرت ہوجائیگی۔ اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں اسوقت جو لوگ حاضر تھے ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر سے آواز آئی“ قدغفرلک ”یعنی تیری مغفرت کردی گئی (بحر محیط، تفسیر معارف القرآن، بحوالہ القرطبی،فصل الخطاب، المجالس  لابن عبد البر ، الجموع للعو وی)۔

کتاب المناقب میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایک شخص سے کوئی گناہ صادر ہوا۔ کئی دن تک تو وہ روپوش رہا۔ پھر مدینہ میں آیا۔ راستے میں اسے حسن و حسین  علیھما السلام  دکھائی دئیے۔ اس نے دونوں شہزادوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں ان شہزادوں کے واسطہ سے خدا سے پناہ کا طلب گار ہوں۔“ یہ منظر دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانتوں کی چمک ظاہر ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جاؤ، تم آزاد ہو۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام حسن و حسین (علیہ السلام) سے فرمایا: اس گناہ گار کے متعلق میں نے تمہاری سفارش قبول کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی: ولوانھم اذ ظلموا۔۔۔ رحیما۔

اور تاریخ میں نقش ہو گیا کہ اپنے نواسوں کے صدقے نبی نے ایک گناہ گار کو بخشش دلوا دی۔

”ایک مرتبہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شکایت کی ام المومنین کو سید البطحاعم رسولؐ حضرت ابو طالب ؑ کی سنت یاد تھی۔کہ جب ایک بار مکہ میں شدید قحط تھا تو عرب کے سرداروں اور زعماء کا وفد حضرت ابو طالب کے در پر آیا اور عرض گزار ہوا ’کہ اے نسل ابراہیمی کے سلسلے  ونسل اسماعیلی کے خلاصے ہمیں اس عذاب سے نجات دلاؤ‘ اور حضرت ابو طالب ؑ نے کم سن بھتیجے محمد مصطفی کو پہاڑ پر لے جا کر دعا کی تھی تو آسمان سے ابر رحمت برسنا شروع ہو گیا تھا۔ام المومنین ؓ جانتی تھیں کہ رسول بعد از رحلت بھی ابر رحمت کا وسیلہ ہیں اسی لئے انہوں نے فرمایا:’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس جاؤ اور اس سے ایک روشندان آسمان کی طرف کھولو تاکہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے‘۔ راوی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ اتنی زور دار بارش ہوئی جس کی وجہ سے خوب سبزہ اْگ آیا اور اْونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ پس اْس سال کا نام ہی’امْ الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال)‘ رکھ دیا گیا۔“(سنن دارمی، ابن جوزی)

صحیح بخاری میں رقم ہے کہ عبد اللہ ابن عمر ؓ حضرت ابوطالب ؑ کا یہ شعر پڑ ھا کرتے تھے کہ (محمد مصطفی ؐ کا) گورا رنگ کہ ان کے چہرے کے واسطے سے بدلی سے بارش کی دعا کی جاتی ہے، وہ یتیموں کے حامی اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم اپنی زندگی میں بھی باعث مغفرت تھے اور رحلت کے بعدان کا مزار بھی مغفرت کا وسیلہ ہے اور رسول کریم ؐ اپنی زندگی میں بھی رحمتوں کی برسات کا موجب تھے اور ان کی رحلت کے بعد ان کا مزار گنبد خضری بھی رحمتوں کا وسیلہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے توسّْل سے دعا ؤں کا معمول سلطنت عثمانیہ کے زمانے یعنی بیسویں صدی کے اوائل دور تک رائج رہا،جب قحط ہوتا اور بارش نہ ہوتی تو اہلِ مدینہ کسی کم عمر سید زادے کو وضو کروا کر روضہ رسول پر چڑھاتے اور وہ بچہ اس روشندان کو کھول دیتا اور سورج نبی کی قبر کا دیدار کرتا اور بادلوں میں چھپ جاتا جس کے نتیجے میں بارش برسنے لگتی۔

برید ہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ومن اراد زیارۃ القبور فانھا تذکر الآخرۃ

جس شخص کا دل چاہے قبور کی زیارت کا تو وہ قبروں کی زیارت کرے کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے (سنن نسائی)

صحیح مسلم  میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔“

نبی کریم  ؐ تواتر کے ساتھ شہدائے احد کی قبروں اور جنت البقیع میں مدفون صحابہ کی قبروں کی زیارت کو جایا کرتے تھے اور صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن عبید، یزید بن کیسان، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو رو پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد والے بھی رو پڑے۔ جس سے قبروں پر گریہ و بکا اور ماتم کرنے کا جواز بھی ملتا ہے۔

 اہل سنت کے امام شافعی ؒ کا قول ہے ”مجھے جب مشکل درپیش ہوئی امام موسی کاظم ؑ کے روضہ پر جا کر دعا کی تو اللہ نے حاجت روائی کردی امام موسی کاظم ؑ کا مزار شفا بخش دوا ہے (سیرہ و تاریخ کعبی)“۔خطیب بغدادی تحریر کرتے ہیں ”سمعانی جیسے جید اہلسنت علما  امام موسی کاظم ؑ  کی قبر کی زیارت کیلئے جاتے تھے اور ان سے توسل کرتے تھے“۔ علمائے اہل سنت میں سے ابو علی خلال نے کہا: ”جب بھی اسے کوئی مشکل پیش آتی وہ امام کاظم ؑ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتا اور ان سے توسل کرتا یہا ں تک کہ اس کی مشکل برطرف ہو جاتی“۔(تاریخ بغداد)

امام حاکم نیشاپوری کے استاد چوتھی صدی ہجری کے مشہور اہلسنت محدّث امام ابنِ حبان  حضرت امام علی رضا بن موسیٰ علیہ السلام کے مزار مبارک کے بارے میں اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”میں نے اْن کے مزار کی کئی مرتبہ زیارت کی ہے، شہر طوس قیام کے دوران جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آئی اور حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر حاضری دے کر، اللہ تعالیٰ سے وہ مشکل دور کرنے کی دعا کی تو وہ دعا ضرور قبول ہوئی، اور مشکل دور ہوگئی۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے میں نے بارہا آزمایا تو اسی طرح پایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی اکرم اور آپ کے اہلِ بیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیہ وعلیہم اجمعین کی محبت پر موت نصیب فرمائے۔“(ابن  ابی حاتم رازی، کتاب الثقات)

جہاں تک انبیاء  و اولیاء اور مشاہیر اسلام کی قبور پر مزارات یا عمارتیں و مساجد تعمیر کرنے کا معاملہ ہے تو اللہ خود قرآن میں اصھاب کہف کی یادگار عمارت بطور مسجد قائم کرنے کا جواز فراہم کررہا ہے جس پر سورہ کہف گواہ ہے۔اللہ اپنے نبی اور خلیل حضرت ابراہیم سے وابستہ ہر شے حتی کہ قربانی کے جانوروں اور ان کے ساتھ لگے کلاووں کو بھی شعائر اللہ کہہ رہاہے اور ان کی تعظیم واجب قرار دے رہا ہے حضرت موسی و ہارون کی آل کی نشانیوں کی تعظیم کا درس دے رہاہے  تو مسلمانوں کو غورو فکر کرنا ہو گا کہ آخر سلطان الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ نشانیوں، ان کے اصحاب ازواج مطہرات، اولاد اطہار اور اولیاء کرام کے مزارات کو شریعت کے نام پر گذشتہ ایک صدی سے کیوں تاراج کیا جارہا ہے۔

قرآن و حدیث، پانچوں فقہیں، انکے بانی گذشتہ چودہ سو سالوں کے علماء فقہا مفسرین قبروں کی تعظیم ان پر مقابر کی تعظیم کا درس دیتے چلے آئے ہیں لیکن ایک متشدد گروہ اسلامی تعلیمات کو پامال کرکے اسلام دشمنوں کا ایجنڈا پورا کررہا ہے اور صرف عالم اسلام ہی نہیں پوری انسانیت کو خطرے سے دوچار کر دیا گیا جس سے واضح ہو تا ہے کہ اس فکر اور اس فکر پر عمل کرنے کے دعویداروں کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ یہ محض فتنہ اور فساد ہے جس کے رد کیلئے پورے عالم اسلام کو متحد ہو نا ہوگا۔

امام اہلسنت امام احمدبن حنبل ؒ  تو خود اپنی مسند میں قبر نبی ؐ سے فریاد کرنے کی سند فراہم کررہے کہ:

”داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں ایک دن مروان آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے کہا ’جانتے ہو کیا کر رہے ہو؟‘ وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوا تو وہاں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ موجودتھے۔ فرمایا ’ہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب دین کے معاملات اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر مت روؤ۔ ہاں جب امور دین نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر روؤ“‘۔(المسند احمد بن حنبل)

امام اہلسنت امام احمدبن حنبل ؒ نے اپنی مسند میں یہ واقعہ تحریر فرماتے ہوئے ہر گز نہ لکھا کہ صحابی رسول ؐ ابو ایوب انصاری شرک کر رہے تھے بلکہ اس واقعہ کو ظا لم حکومت کے خلاف دلیل کے طور پر لکھا لیکن افسوس  ہے کہ اپنے آپ کو امام احمد بن حنبل ؒکا پیروکار اور شارح کہلوانے والے ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم نے روضہ رسول ؐ سمیت تمام مزارات پر حاضری کو بدعت قرار دے دیا اور ہر پختہ قبر اور اس پر قائم عمارت یا مزار گر ادینے کے فتاوی جاری کردیئے۔جو سراسر قرآن وحدیث کے خلاف، امہات المومنین اور صحابہ کی سیرت کے خلاف ایک عمل تھا،ابن تیمیہ کے اسی نظریے کو عبد الوہاب نجدی نے مزید آگے بڑھایا اور بالآخر بیسیوں صدی کے آغاز پر برطانوی سامراج کی پشت پناہی کے ساتھ صیہونی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے خلافت عثمانیہ کو تا ر تار کردیا گیاوہ مسلمان سپاہی جو دو سو سال سے نجدی حملوں سے مزارات مقدسہ کو بچا رہے تھے ان کی لاشوں سے بھری ٹرینوں کو دنیا کیلئے عبرت بنا دیا گیا،اور 8شوال کو سرزمین حجاز پرنجد کے آل سعود کی عملداری قائم ہوتے ہی جنت البقیع اور جنت المعلی میں امہات المومنین، اہلبیت اطہار، صحابہ کبار اور رسول کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ کے مزار کو تاراج کردیا گیا۔جس خاتون جنت کی تکلیف کو نبیوں کے سلطان نے اپنی ایذا قرار دیا اس کے مزار پر بلڈوزر چلتے دیکھ کر شافع محشر کے دل پر کیا گزری ہوگی، جو نبی اپنی ماں کی قبر پر پھوٹ پھوٹ کر رو کر اظہار محبت کرتے تھے اس نبی کی ماں والد عم محترم اور اجداد کے مزارات کی بے حرمتی پر عرشیوں میں بھی کہرام کیوں نہ بپا ہوا ہو گا، جن پاکیزہ صحابہ کیلئے جنت کی نہروں کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے ان کے مزارات کو روند دیا گیا۔جو اہل بیت اطہار قرآن کے محافظ تھے جنہیں کشتی نجات نبی کریم نے قرار دیا تھا آج ان کی قبریں مٹی کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ اگر سرزمین ہندوستان سے تحریک خلافت کی صورت برطانوی بادشاہت کی چولیں نہ ہلا دی جاتیں تو برطانوی صیہونی ایجنٹ روضۃ رسول ؐ کو بھی گرادیتے جس کی تاراجی کا فتوی عبد الوہاب نجدی اور ابن قیم نے دے رکھا تھا۔

یہ عجیب تضاد ہے کہ ابن تیمیہ تو مملوک حکمرانوں سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو باغی اور کافر قرار دیتے رہے اور ان پر سوال اٹھاتے  رہے کہ تاتاریوں نے مسلمان حکمران پر حملہ کیوں کیا لیکن ابن تیمیہ اور عبد الوہاب کے نام لیواؤں نے حرمین شریفین کی محافظ عالم ا سلام کی قوت خلافت عثمانیہ کی دھجیاں بکھیرنے میں بر طانوی سامراج کی مکمل اعانت و مدد کی ہمفرے اور لارنس آف عریبیہ جیسے برطانوی جاسوسوں نے مزارات گر انے والوں کی حکومت قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگرمزار گرانے میں محض ابن قیم یا ابن تیمیہ کے نظریات شامل ہوتے تو ابن تیمیہ تو غیر مسلموں و نصرانیوں کے ساتھ راہ و رسم کو بھی حرام گردانتا تھا لیکن آج ستم کی حد ہے کہ سرزمین حجاز کے تما تر وسائل امریکہ کے اسلحہ خانوں کو زندہ رکھنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ کے موقع پر ایک ارب ڈالر کے تحفے استعماری سرغنہ پر نچھاور کردیئے گئے سرزمین حجاز پر قحبہ خانے کھولے جارہے ہیں میوزک پروگرام منعقد ہو ورہے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان مزارات کے گرانے سے اسلام شریعت یا دین کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اقدام اسلام دین قرآن و شریعت کی توہین اور انسانیت کی پامالی ہے۔

کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ ابن تیمیہ کی پختہ قبر آج بھی دمشق کے مقبرہ صوفیا ء میں موجو د ہے لیکن اسلام کے محسن اہلبیت اطہار کے مراقد مقدسہ، پاکیزہ صحابہ کی اکھاڑ ڈالی گئی قبریں اور مومنین کی ماؤں کے مزارات امت مسلمہ کی ناقدری کا ماتم کررہے ہیں اور اغیار کی سازشوں کی کھلی تصویر بنے ہوئے ہیں۔روضہ رسول کی جالیاں چوم کر صحابہ کی سنت ادا کرنے والوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسلام کے محسنوں کی قبروں پر چراغ جلانے پر پابندی ہے جبکہ مغربی ثقافت کے سینما اور سینٹر روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں۔

قبر نبی ؐ تاریک ہے ضو فشاں ظالم کا گھر

جلتا نہیں اب تو دیا بنت نبی کی قبر پر

عالم اسلام سمیت  پوری انسانیت کے اثاثے کی تاراجی پر عالمی اداروں کے لب سلے ہوئے ہیں بامیان میں بدھا کے مجسموں، پیلمائرا میں یونانی و رومی تہذیب کی تاراجی کا ماتم کرنے والے عالمی امن کے ٹھیکیدار اور انسانی آثار کے تحفظ کے نام نہاد علمبر دار آخری آسمانی مذہب کے محسنوں کی نشانیوں کی منظم تباہی پر خامو ش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اب تمام محققین مورخین اور خود آل سعود کا شہزادہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مزارات گرانے والی فکر کی پرورش مغرب کے ہاتھوں ہوئی اور ابن تیمیہ کے دیے ہوئے انتہا پسند نظریات کو مغربی لیبارٹریوں میں ہی نشو نما بخشی گئی جس سے صرف عالم اسلام ہی نہیں پوری دنیاکے امن کوشدید خطرہ ہے عالمگیر یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر ہم ایک بار پھر اقوام متحدہ، یونیسکو، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹر نیشنل، عالمی انسانی حقوق کمیشن، عدالت انصاف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جنت البقیع و جنت المعلی سمیت سرزمین حجاز میں مٹائے گئے اسلامی آثار کی عظمت رفتہ بحال کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، مسلم حکمران غیرت و حمیت کا ثبوت دیں اور استعماری ڈکٹیشن پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کے ممالک میں مداخلت کرنے کی بجائے صیہونیت و استعماریت کے خلاف متحد ہو جائیں، اگر انہوں نے اب بھی اسلامی ورثے کی پکار پر لبیک نہ کہا تو یاد رکھیں قبلہ اول پر مکمل تسلط جما لینے والی صیہونی فکر کا اگلا نشانہ حرمین شریفین ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری مسلم حکمرانوں پر ہو گی۔حرمین شریفین کا محافظ تو خود خدا ہے لیکن استعماری ایجنڈے پر چلنے والے حکمرانوں کی داستان، داستانوں سے ناپید ہو جائے گی۔

ڈر ہے نہ ارباب ہوس ناموس ملت بیچ دیں

دے دیں مدینے کی زمیں مکہ کی عظمت بیچ دیں

بیت المقدس دے چکے کعبے کی حرمت بیچ دیں

شاطر بہت ہیں اہل فن  یا بن الحسن یا بن الحسن

یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر اقوام متحدہ کے دفاتر، مغربی دارلحکومتوں سمیت پوری اسلامی دنیا میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی کال پر پرامن احتجاج کرنے والوں غیور فرزندان تو حید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ جب تک دم میں دم ہے مقامات مقدسہ کی بحالی کیلئے اپنی پاکیزہ جدوجہد جاری رکھیں گے اس دن کی تعجیل کی دعا کے ساتھکہ جب وارث مصطفی ؐ فرزند زہرا ؑ حضرت امام مہدی آخر الزمان ظہور فرما کر ظلم و بربر یت سے لبریز دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

ٹوٹے کا طلسم لعل و گہر، پھوٹے کا مقدر ڈالر کا

 

نیزوں کی چمک بجھ جائے گی اڑ جائے گا پانی خنجر کا

اے اہل جفا کیوں کرتے ہو چرچا یوں فوج و لشکر کا

تم مرحب و عنتر کے بیٹے، وہ لال ہے شیر داور کا

زہرا کی دعا ہے سینہ سپر، کون اس سے بھلا ٹکرائے گا

کھل جائے گا ایک اک کا بھرم جب پردہ و ہ سرکائے گا

والسلام

خاکپائے سوگواران انہدام جنت البقیع و جنت المعلی

آغا سیدحامد علی شاہ موسوی

یہ بھی پڑھیں

میڈیا تاریخ میں پہلی بار ۔ یوم انہدام جنت البقیع پر والعصر نیوز کی میرا تھن نشریات

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.