سچ زندگی ہے ۔ آقائے موسوی کی قیادت کے 35 سال (قسط اول و دوم )

ولایت نیوز شیئر کریں

سچ زندگی ہے ۔ آقائے موسوی کی قیادت کے 35 سال

تحریر : حجۃ الاسلام علامہ سید  واصف حسین کاظمی

آج سے 35 سال پہلے راولپنڈی سٹلائٹ ٹائون علی مسجد میں شیعہ قوم کی قیادت کے انتخاب کے لئے شیعہ قوم کے بزرگان کا ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا اس اجلاس میں بزرگ ملت کے اکابرین موجود تھے لیکن تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے موجودہ قائد آغا سید حامد علی شاہ قبلہ موسوی النجفی حفظہ اللہ موجود نہ تھے موسوی صاحب قبلہ کو جب اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی کہ آپ بھی اجلاس میں تشریف لائیں تو آغا جی سرکار نے فرمایا کہ آپ بزرگ اکابرین جسے منتخب کریں گے میری تائید اسی کے ساتھ ہوگی کئی گھنٹے تک یہ اجلاس جاری رہا لیکن کسی شخصیت پر بزرگان کا اتفاق نہ ہوسکا اور اتفاق نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ کسی نہ کسی شخصیت میں کوئی نہ کوئی ایسی وجہ سامنے آجاتی جس کی وجہ سے اس شخصیت کو شیعہ قوم کی قیادت کا اہل نہ سمجھا جاتا اور یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ
اسی اجلاس میں تحریک جعفریہ پاکستان کے موجودہ قائد آیت اللہ سید ساجد علی نقوی صاحب بھی موجود تھے جو اب بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ وہاں موجود تھے نماز مغربین کے بعد اس اجلاس کا آغا ہوا اور رات کے تقریباً 12 بجے تک وہ اجلاس جاری رہا کافی دیر تک بحث و مباحثہ اجلاس میں موجود شخصیات کے منظر اور پس منظر پر ہوتا رہا اور یہ اجلاس مسلسل جاری رہا اور کسی شخصیت پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں اسی اجلاس میں سے ایک بزرگ کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ اسی مسجد کی ساتھ رہائش گاہ میں ایک بزرگ شخصیت موجود ہیں کیا ان کی شخصیت پر کسی کو کوئی اعتراض ہے یعنی آغا سید حامد علی شاہ قبلہ موسوی النجفی تو سب نے کہا کہ آقای موسوی قبلہ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں اس کے بعد متفقہ فیصلہ ہوا کہ قبلہ موسوی صاحب کو شیعہ قوم کی قیادت کے لئے راضی کرتے ہیں یہ اجلاس مسجد سے برخاست ہوتا ہے اور یہ اکابرین مسجد کے اوپر مدرسہ جامعۃ المومنین میں آغا سید حامد علی شاہ قبلہ موسوی النجفی کے کمرے میں تشریف لے جاتے ہیں اور اغاجی سرکار کو ان کے گھر سے بلایا جاتا ہے کہ آپ اوپر تشریف لے آئیں ملت کے اکابرین آپ کا انتظار کر رہے ہیں موسوی صاحب قبلہ اپنے گھر سے جامعۃ المومنین مدرسہ کے اس کمرے میں تشریف لاتے ہیں جہاں ملت کے اکابرین پہلے ہی تشریف فرما تھے اسی کمرے میں آغا سید حامد علی شاہ قبلہ موسوی حفظہ اللہ ہم طلاب کو درس بھی دیتے تھے تمام اکابرین کی آمد کا مقصد فقط ایک ہی تھا اور وہ تھا شیعہ قوم کی قیادت کا انتخاب وہ عجیب لمحات تھے اور ہمارے آنکھوں دیکھے ہوئے واقعات تھے جب شیعہ قوم کے اکابرین گویا قوم کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ رات کے آخری وقت میں جب ساری قوم آرام کر رہی ہوتی ہے تو ملت کے اکابرین اور بزرگان قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے جاگ رہے ہوتے ہیں المختصر آغا سید حامد علی شاہ قبلہ موسوی کو شیعہ قوم کے قائد بننے کی درخواست کی جاتی ہے اور آغا جی قبلہ فوراً یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ آپ بزرگ علماء موجود ہیں آپ جسے منتخب کریں گے میں بھی اسے قبول کر لوں گا یہ اجلاس موسوی صاحب قبلہ کے کمرے میں بھی کافی دیر تک جاری رہا اور یہ عجیب حسن اتفاق بھی تھا کہ یہ سارے بزرگان موسوی صاحب کے مہمان بنے اور موسوی صاحب قبلہ میزبان تھے اگر موسوی صاحب قبلہ کسی اور جگہ تشریف لے جاتے تو شاید کسی مورخ کو یہ لکھنے کا موقع بھی مل جاتا کہ موسوی صاحب قبلہ لیڈر شپ کے خواہشمند تھے یعنی ایسے ویسے کیسے جیسے بہت سارے پروپیگنڈے اور قیاس آرائیاں کرنے والوں کو بہت کچھ کہنے کا موقع مل جاتا بہرحال آغا جی مسلسل انکار کرتے رہے اور آخر میں جب جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے نسبت کا واسطہ دیا گیا اس کے بعد تو کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہ تھی دعائے خیر ہو گئی اور موسوی صاحب قبلہ کو قائد ملت جعفریہ پاکستان بنا دیا گیا اس سارے واقعے میں موسوی صاحب قبلہ احتیاط در احتیاط کرتے رہے تاکہ منفی سوچ رکھنے والوں کو کبھی کچھ کہنے کی جرآت نہ ہوسکے ۔

اس کے بعد بھی آغا جی قبلہ نے فرمایا کہ میں انتظار کروں گا اگر آپ نے کسی اور کو منتخب کیا تو میں اپنی قیادت کا اعلان نہیں کرونگا اس دعائے خیر کے بعد یہ اجلاس برخاست ہوا اور سب کے اتفاق سے موسوی صاحب قبلہ کی قیادت پر اتفاق ہؤا اور تین مہینے کے بعد امام زمانہ علیہ السلام کی سرپرستی میں اور علمائے کرام ذاکرین عظام بانیان مجالس کی موجودگی میں آغا سید سردار علی جان بزرگوار کے بزرگ آغا لال بادشاہ جیسے بزرگ کے سائے میں دینہ اسد آباد ضلع جہلم میں ایک تاریخی دو روزہ کنونشن ہوا جس میں پہلے دن کی قیادت خطیب آل محمد قبلہ اظہر حسن زیدی صاحب نے کی اور زیدی قبلہ اعلیٰ اللہ مقامہ کی وہ تاریخی تائید جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس سے پہلے بھی دو شیعہ کنونشنوں میں موجود تھا لیکن جتنے لوگ آج ( دینہ کنونشن ) میں جمع ہوئے اتنے لوگ اس سے پہلے نہ بھکر کنونشن میں جمع ہوئے اور نہ ہی اسلام آباد کے کنونشن میں بہرحال یہ الفاظ زیدی صاحب قبلہ کے تھے اعلی اللہ مقامہ اور زیدی قبلہ کی عادلانہ طبیعت سے ساری قوم واقف ہے اور دوسرے دن کی صدارت آغا سید حامد علی موسوی قبلہ نے کی اور اسی روز آپ کی قیادت پر قوم کا اتفاق ہوا ۔

آج 35 سال مکمل ہورہےہیں ان سالوں میں قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی قبلہ حفظہ اللہ نے ہمیشہ تمام فیصلے ملک اور ملت کے مفاد میں کیے اور موسوی صاحب قبلہ حفظہ اللہ کے کسی فیصلے سے کوئی نقصان ہوا ہو تو قوم کے بزرگان اور قوم سوال کرنے کا حق رکھتی ہے موسوی صاحب قبلہ حفظہ اللہ نے ہمیشہ ملکی اور قومی سلامتی کے حق میں فیصلے کیے اور ان کے فیصلے ہمیشہ مفید رہے سوچنے والے سوچ سکتے ہیں بولنے والے بول سکتے ہیں اور پوچھنے والے پوچھ سکتے ہیں یہ حقوق سب کے ثابت ہیں جس جس نے موسوی صاحب قبلہ کو جو جو دیا وہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے اور موسوی صاحب قبلہ نے بھی جو جو فیصلے ملک و ملت کے مفاد میں کیئے وہ یقیناً یاد رکھنے کے قابل ہیں۔

یہ حقیقتیں یہ عقیدتیں شاید ہر کوئی یاد نہ رکھ سکے اور نہایت افسوس کے ساتھ ہمارا ایک مزاج سا بن گیا ہے کہ ہم ہمیشہ بزرگان کی بزرگی کو بہت زیادہ وقت ضائع کرنے کے بعد محسوس کرتے ہیں اور یہ بھی ایک سچ ہے کہ بروقت سوچنے والے وقت گزرنے کے بعد پریشان نہیں ہوتے میں اگر شخصیات کی قابلیت اور اہلیت کو مناسب وقت پر محسوس کیا جائے اور صلاحیتوں کی قدر کی جائے تو بہت سارے حادثات سے بچنا بہت آسان ہو جاتا ہے

اور آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ
قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی قبلہ حفظہ اللہ پہلے میرے استاد بنے اور بعد میں میرے قائد بنے مجھے اس پر الحمد اللہ فخر ہے اور ہمیشہ فخر رہے گا

اس تحریر میں جو کچھ لکھا گیا یہ ایک چشم دید حقیقت ہے جس کو میں نے خود دیکھا اور یہ میرے استاد محترم قبلہ آغا سید حامد علی شاہ الموسوی النجفی حفظہ اللہ کی تربیت ہے اور ان کی تربیت کا حاصل ہے کہ سچ بولنا سچ سننا سچ پڑھنا اور سچ لکھنا یعنی سچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس تحریر کے ان الفاظ پر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو مجھ سے سوال کیا جاسکتا ہے اور میں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں اور آخر میں اس زمانے کی ضرورت وہ دعا جس کے بعد زمانے کے ہر مسئلے کا حل ممکن ہوگا اللہ تعالی امام زمانہ صاحب العصر و الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف کا ظہور جلد فرمائے اور معصوم کے ظہور تک علمائے حقہ کی حفاظت فرمائے

قسط نمبر 2

قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی حفظہ اللہ کی مدبرانہ قیادت کو 35 پینتیس سال مکمل ہوگئے ہیں اور دعا یہی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور تک قبلہ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے موسوی صاحب قبلہ نے ہمیشہ ملک و ملت کے مفاد میں فیصلے کیے اور حادثات کی صورت میں امن و امان کی سلامتی کی ہمیشہ تاکید کی اور ہمیشہ ہی محاذ آرائی کے فتنوں سے لوگوں کو دور رکھا موسوی صاحب قبلہ کے قائد بننے کے فورا بعد ہی کچھ اور قائدین نے بھی شیعہ قوم کی قیادت کا اعلان کیا تو قوم کی کچھ حصوں میں تقسیم ہوگئی حقیقت میں وہ فتنوں کے آغاز کا زمانہ تھا جہاں ہر کسی کے پیچھے کوئی نہ کوئی طاقت موجود ہوتی تھی اور مادہ پرستوں کے لئے اس وقت میں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے ناممکن ہو گئے تھے کیونکہ فیصلہ اسی کا ہوتا تھا جو مادہ پرستی میں سرپرستی کرتا تھا کل بھی اور آج بھی بھینس اسی کی ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے۔

موسوی صاحب کے علاوہ دوسری طرف سے جو پہلے قائد بنے وہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی تھے جو خود ایک نیک انسان تھے لیکن جن کے ہاتھوں میں تھے بہرحال وہ ہاتھ سب کے آزمائے ہوئے ہیں قائد ملت جعفریہ سید حامد علی شاہ موسوی حفظہ اللہ اور دوسرے قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی طرف سے ابتدائی سالوں میں اتحاد کی پھرپور کوششیں کی گئیں جن کوششوں کے نتائج آنے سے پہلے ہی افسوس صد افسوس کہ علامہ عارف حسین الحسینی کو شھید کر دیا گیا اور شہید کو مہلت نہ مل سکی موسوی قبلہ شھید کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور شھید کی زندگی اور شھادت کے بعد ہمیشہ ہی شھید کے لیے دعا گو رہے اللہ تعالی شہید کے درجات بلند فرمائے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی حفظہ اللہ نے قیادت سنبھالنے کے بعد پشاور سے لے کر کراچی سارے ملک کے دورے کیے اور قوم کو یہ یقین دلایا کہ شیعہ قوم لاوارث نہیں ہے اور دوسری طرف علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے فوراً بعد محاذ آرائی کا آغاز ہوا اور کافی جگہوں پر شیعہ قوم آمنے سامنے کی پوزیشن پر آگئی جو نقصان ہؤا شاید کسی کے حساب میں بھی نہ ہو بہرحال موسوی صاحب قبلہ کی مدبرانہ حکمت عملی کے نتیجے میں شیعہ قوم بہت سارے بین الشیعہ حادثات سے محفوظ رہی اگرچہ عام فہم لوگوں کی طرف سے یہ اعتراضات بھی ہوتے رہے کہ موسوی صاحب قبلہ حجرے سے باہر نہیں آتے ایسے معترضین کو علمائے حقہ کی حکمت کا علم نہ تھا اور یہ شکوہ انہی لوگوں کا تھا جو موسوی صاحب قبلہ کو دل و جان سے چاہتے تھے بہرحال جہاں محبت وعقیدت ہو وہاں شکوے بھی ہوتے ہیں لیکن بزرگوں کے فیصلے یقینا حکیمانہ ہوا کرتے ہیں۔

موسوی صاحب قبلہ جب حجرے سے باہر آئے تو اس وقت بہت سارے لوگ( بزرگ لوگ) حجرہ نشین اور خاموش تھے لیکن قوم موسوی صاحب قبلہ کے ساتھ تھی اور اسی زمانے میں ایک تاریخ ساز تحریک کا آغاز حسینی محاذ امام بارگاہ قدیم راولپنڈی سے ہوا 14000 جہاں چودہ ہزار مومنین جانثاروں نے اپنی قربانیاں پیش کرکے زندان کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد شیعہ قوم کو ایک عظیم خوشخبری دی ان قربانیوں کے نتیجے میں پہلا اور آخری معاہدہ عمل میں آیا جو قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی حفظہ اللہ اور اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کے درمیان ہوا جس میں شیعہ قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا گیا
قائد ملت جعفریہ پاکستان آغا سید حامد علی شاہ موسوی النجفی حفظہ اللہ کی قیادت میں حاصل ہونے والی یہ تاریخی کامیابی آج بھی موجود ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے جہاں مدارس میں شیعہ بچوں کے لئے ان کی دینیات الگ ہے وہاں دیگر امور میں بھی شیعہ مسلک کے مطابق عمل درآمد ہو رہا ہے یہ کامیابی حجرے میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں حاصل کی گئی.

جب موسوی صاحب قبلہ حجرے سے باہر نکلے تو کچھ کر کے دکھایا اور حجرہ نشیں ہوئے تو بھی ملک و ملت کی سرپرستی کرتے رہے اگرچہ مخالفین مخالفین کے ہاتھوں میں جانے کے بعد اتنے شدت پسند ہو گئے تھے جو کسی حد تک بھی جا سکتے تھے اور کسی بھی محاذ آرائی کی صورت میں نقصان فقط شیعہ قوم کا ہوتا موسوی نے ہمیشہ ہی لوگوں کو صبروتحمل کی تربیت دی اور قومی سلامتی کی ہمیشہ ضمانت رہے سب کچھ سننے کے باوجود بھی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اگرچہ موسوی صاحب کے ساتھ بے لوث محبت کرنے والے مومنین ہمیشہ موسوی صاحب قبلہ کے حکم کے پابند رہے اور موسوی صاحب قبلہ کا حکم ان کی حکمت کے تابع رہا اور شرپسند عناصر کی الزام تراشیوں پر ہمیشہ صابرین کی سنت پر چلتے ہوئے کاظمین الغیظ ہونے کا عملی ثبوت دیا موجودہ صورتحال میں بھی شیعہ قوم میں پائی جانے والی بیماریوں کا علاج بہترین حکمت عملی کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ شدت پسندانہ رویوں سے بیماریوں کو مزید مہلک بنا رہے ہیں جہاں مسائل کا حل زبان سے ممکن ہو وہاں یقینا جہاد ساقط ہوتا ہے.

مراجع عظام کے فتووں سے زیادہ تلخیاں اصلاح پسندوں کے مزاج میں پائی جاتی ہیں ان تلخیوں سے یقینا مرجعیت بھی بد نام ہو رہی ہے کیونکہ زیادہ تر بولنے والے یہی کہتے ہیں کہ ہم شریعت مراجع عظام کے حکم کے مطابق پیش کر رہے ہیں اگرچہ ان کے دعوے کی دلیل نہیں ان لہجوں سے اصلاح کم اور مسائل زیادہ ہورہےہیں اللہ تعالیٰ ہمیں علم کو حکمت کے وسیلے سے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.