خواہشات کی پیروی کرنے والوں نے علماء اور فقہا کا مقام گرایا، چادر زہراؑ کے واسطے پربادل نخواستہ قیادت کو قبول کیا حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے ، ہفتہ تجدید عہد کی تقریب سے قائد ملت جعفریہ آقائے موسوی کا خطاب

ولایت نیوز شیئر کریں

فقہا نبیؐ اور آئمہ کے نائب ہیں مال اور خواہشات کی پیروی کرنے والوں نے علماء اور فقہا کا مقام گرایا ، آغا حامد موسوی

ضرب عضب سے کچلی کالعدم جماعتوں کو طاقت کے انجکشن لگائے جا رہے ہیں ، چیف جسٹس اور آرمی چیف نوٹس لیں

جو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مقابل آکر ڈکٹیٹروں کیلئے استعمال ہوئے ہر روز نام تبدیل کررہے ہیں ہم بو ترابی ہیں زمین پر بیٹھ کربھی اپنے موقف سے نہیں ہٹے

اقتصادی دباؤ کا مقابلہ جذبہ ابو طالب ؑ سے کیا جائے، نواب اربعہ غیر معصوم تھے انہوں نے امام کی نیابت کا حق ادا کردیا

مذہبی لیڈروں کے اثاثوں کی پڑتال کی جائے تونفرت پھیلانے والے سب چہرے بے نقاب ہو جائیں گے، ملک میں کوئی شیعہ سنی لڑائی تھی نہ ہونے دیں گے

مسلک کی بنیادوں پر انتخابات میں جماعتوں کو اتارنا ڈکٹیٹر کی سازش تھی جسے اپنے حسینی ؑ انکار سے ناکام بنایا، سیدہ زہراؑ کی طرح کبھی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے

کوئی مائی کا لعل ذاکروں نعت خوانوں اور عزاداروں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اصل تبلیغ زبان نہیں کردار سے ہوتی ہے ،ہفتہ تجدید عہد کی مرکزی تقریب سے خطاب

اسلام آباد (ولایت نیوز ) سپریم شیعہ علماء بورڈ کے سرپرست اعلی و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ فقہا نبیؐ اور آئمہ کے خلفاء اور نائب ہیں مال اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں نے علماء اور فقہا کا مقام گرایادولت و جاہ کی پرستش نے اسلام کو شدیدنقصان پہنچایا بیرونی ممالک سے آنے والا سرمایہ فسادکی سب سے بڑی جڑ ہے رد الفساد کے تحت اگر مذہبی لیڈران کے اثاثوں کی پڑتال کر لی جائے تونفرت دہشت پھیلانے والے سب چہرے بے نقاب ہو جائیں گے ،ملک پر اقتصادی دباؤ کا مقابلہ جذبہ ابو طالب ؑ سے کیا جائے جنہوں نے تو حید و رسالت پر سمجھوتہ کئے بغیر نوازئیدہ اسلام کو قریش کے مقاطعہ سے محفوظ رکھا، ضرب عضب اور ایکشن پلان سے کچلی کالعدم جماعتوں کو طاقت کے انجکشن لگائے جا رہے ہیں ، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو نوٹس لینا ہوگا ورنہ قربانیوں کے ثمرات ضائع ہو جائیں گے ،فرقے مسلک کی بنیادوں پر انتخابات میں جماعتوں کو اتارنا ڈکٹیٹر ضیا الحق کی سازش تھی جسے اپنے حسینی ؑ انکار سے ناکام بنایا،جو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مقابل آکر ڈکٹیٹروں کیلئے استعمال ہوئے ہر روز نام تبدیل کررہے ہیں ہم بو ترابی ہیں زمین پر بیٹھ کربھی اپنے موقف سے نہیں ہٹے ، عالم اسلام رسول کریم ؐ کی وصیت کے مطابق قرآن و اہلبیت سے رشتہ جوڑے رکھتے تو کبھی زوال کا شکار نہ ہوتے ، بلا تعصب شیعہ سنی سمیت تمام مسالک کے حقوق کی ادائیگی کے خواہاں ہیں سیدہ فاطمہ زہراؑ کی طرح کبھی اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، چادر زہراؑ کے واسطے پربادل نخواستہ قیادت کو قبول کیا، دہشت گرد بھول کا شکار ہیں کوئی مائی کا لعل ذاکروں نعت خوانوں اور عزاداروں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا،عزاداری سید الشہداء پاکستان سمیت پورے عالم اسلام اور انسانیت کی محافظ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی قیاد ت کے 35سال مکمل ہو نے پر منعقدہ’ ہفتہ تجدید عہد‘ کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شیڈول فور میں شامل شخصیت کے دھرنوں اور رجسٹریشن کا نوٹس تو لے لیا ہے نئے ناموں سے کام کرنے والی ممنوعہ جماعتوں کا بھی نوٹس لے جو ملک بھر میں پورے پروٹوکول کے ساتھ دندناتی پھررہی ہیں اور الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اتحاد بنا رہی ہیں حتی کہ نظریاتی کونسل اور علماء بورڈز میں بھی شامل ہو گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اصل تبلیغ زبان نہیں کردار سے ہوتی ہے اسلام دہشت اور دھمکیوں کے بجائے حکمت و دانائی کے ساتھ دین کی جانب بلانے کا درس دیتا ہے میلے لباس والے غریب دین کا سرمایہ ہیں توحید و رسالت اور پیغام ولایت و حسینیتؑ کا پرچار کر نے والے فقراذاکرین اور ماتمی عزاداروں کی خاک پا کو سرمہ اکسیر سمجھتے ہیں ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ رسول خدا ؐنے فرمایا کہ فقہا میرے خلفاء ہیں  امام موسی کاظم ؑ نے فقہا کو دین کا قلعہ کہا غیبت صغری کے دور میں نواب اربعہ غیر معصوم ہستیاں تھیں لیکن انہوں نے اپنے عمل و کردار سے معصوم امام اور عوام کے درمیان وسیلے کا حق ادا کردیا ہر عہد میں وہی فقیہہ باعث تقلید ہے جو امام عسکری ؑ کے فرمان کے مطابق خواہشات نفسانی کا مخالف ہو اپنے اوپر قابو رکھنے والا ہو اپنے امام کے فرمان کا تابع ہو۔انہوں نے کہا کہ شیخ مرتضی انصاری نے فقیہہ کی وضاحت فرماتے ہوئے کہاکہ وہ ایسا ہو جو اپنے سے وابستہ افراد کو دوسروں پر ترجیح نہ دیتا ہو۔ اسکی وجہ سے مسلم معاشرہ کو پہنچنے والا نقصان ایسا ہی ہے جیسا یزید نے اسلام کو پہنچایا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ وطن عزیز حکمرانوں کی نالائقیوں اور صوبوں کے حقوق کی پامالی مشرقی پاکستان کی جدائی کا سبب بنی ،اگر صوبوں کو ان کے حقو ق دیئے جاتے ڈکٹیٹرز تعصبات کی پرورش نہ کرتے تو لاکھوں قربانیوں سے وجود میں آنے والی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی نظریاتی ریاست کبھی دولخت نہ ہوتی ، حکمرانوں سیاستدانوں کو سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ ضیاء الحق نے پاکستان کو گروہی سٹیٹ بنا کر پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرنے کی کوشش کی پھر مذہبی تقاریب کو محدود مسدود کرنے کی کوشش کی سیاست میں نفرتوں کی ملاوٹ کی ہم نے ہر قدم پر اسے ناکام کیاپاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی تھی نہ ہونے دیں گے ، تنخواہ دار گروپوں کی پیٹ اور ایڈ کی لڑائی کو فرقہ وارانہ لڑائی کا نام دینے کی کوشش کی گئی جسے ہم نے پیہم کوششوں سے ناکام کیا ہماری برسوں عشروں کی جدوجہد کے باعث دہشت پسند جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا آج ایک بار پھر ان قربانیوں کو رائیگاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی حدیث نبی ؐ ہے کہ اپنی مجالس کو ذکر علی ؑ سے زینت دو کیونکہ علی کا ذکرمیرا ذکر ہے اور میرا ذکر اللہ کا ذکر ہے اولیاء و فقرا نے کسی لالچ کے بغیر دنیا کے گوشے گوشے میں راہ علی علی حسین حسین ؑ کا ورد جپتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے پیغام کو پھیلایااولاد مصطفی ؐ تمام سادات ذاکرین اور فقراء کے ممنون ہیں ۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور شیعہ سنی یکجہتی پر ہر حملے کو پہلے بھی ناکام کیا اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.